Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مشی گن سینیٹ کے مباحثے میں ایران جنگ پر تلخ جملوں کا تبادلہ، السید نے ٹرمپ کی مقبولیت کو ریپبلکن حریف کے خلاف ہتھیار بنا لیا

مشی گن سینیٹ کے مباحثے میں ایران جنگ پر تلخ جملوں کا تبادلہ، السید نے ٹرمپ کی مقبولیت کو ریپبلکن حریف کے خلاف ہتھیار بنا لیا
امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے انتخابی مقابلہ مزید تلخ ہو گیا ہے،ڈیموکریٹ امیدوار عبدالالسید نے 21 اکتوبر کو ہونے والے دوسرے مباحثے میں ریپبلکن حریف مائیک راجرز کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں پر گھیر لیا،دونوں امیدواروں کے درمیان ایران جنگ اور تجارتی پالیسیوں پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ بحث کے دوران ذاتی حملے بھی کیے گئے
امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق یہ دونوں امیدوار دو ہفتوں کے اندر دوسری مرتبہ آمنے سامنے آئے،مشی گن میں سینیٹ کی یہ نشست وسط مدتی انتخابات کے اہم مقابلوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں نتائج کانگریس کے ایوانِ بالا میں دونوں جماعتوں کے طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں
سابق ڈائریکٹر صحتِ عامہ برائے ڈیٹرائٹ عبدالالسید نے مباحثے کے دوران الزام عائد کیا کہ ان کے ریپبلکن حریف ان کے مصری پس منظر کو ووٹروں میں خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں،عبدالالسید کامیاب ہونے کی صورت میں امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر ہوں گے
انہوں نے ریپبلکن جماعت کی سیاسی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ووٹروں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے ایسے الفاظ اور نعروں کا سہارا لیا جائے گا جو میگا تحریک کے حامیوں میں عام ہیں،انہوں نے طنزیہ انداز میں اسے ’’میگا بنگو‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ناظرین بھی مباحثہ دیکھتے ہوئے ایسے نعروں کی نشاندہی کر سکتے ہیں
ابتدا میں دونوں امیدواروں نے پالیسی اختلافات پر نسبتاً محتاط انداز اختیار کیا، لیکن گفتگو جلد ہی ذاتی تنقید اور سخت الزامات کی طرف مڑ گئی،ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی پالیسیوں اور انتخابی مہم میں شناخت کے معاملے پر اختلافات نے مباحثے کو گرما دیا
یہ مقابلہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی ووٹرز کے لیے خارجہ پالیسی، معیشت اور ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات اہم انتخابی موضوعات بنے ہوئے ہیں،3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں مشی گن کی سینیٹ نشست کا نتیجہ اس بات پر اثر انداز ہو سکتا ہے کہ آئندہ کانگریس میں ریپبلکنز یا ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل ہوتی ہے، پہلے مباحثے کی طرح دوسرے مقابلے میں بھی ایران جنگ اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر اختلافات ذاتی حملوں میں بدل گئے،دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے کے سیاسی مؤقف، ساکھ اور ذاتی معاملات کو نشانہ بنایا،پہلے مباحثے میں عبدالالسید نے راجرز کو ٹرمپ کے ساتھ وابستگی پر ’’کمزور‘‘ اور ’’بزدل‘‘ کہا، جبکہ راجرز نے ان کے خاندان اور مبینہ انتہا پسند تنظیموں سے روابط کے الزامات لگائے،تاہم 21 اکتوبر کے دوسرے مباحثے میں ذاتی حملوں کی ابتدا کس امیدوار نے کی، دستیاب شواہد سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی

قومی خبریں سے مزید