سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکی انتخابات میں اخراجات کی نئی دوڑ، دونوں پارٹیوں زبردست مقابلہ ، ریپبلکن سب سے آگے
واشنگٹن:امریکا میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کےانتخابی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے،جون میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے امیدواروں کے ساتھ اشتراک سے سیاسی جماعتوں کے اخراجات پر عائد سابقہ وفاقی پابندیاں ختم کیے جانے کے بعد ریپبلکن جماعت کی کمیٹیاں مقررہ سابقہ حد سے 126 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکی ہیں، جبکہ ڈیموکریٹک جماعت کی کمیٹیوں کے اخراجات بھی سابقہ حد سے 46 ملین ڈالر تجاوز کر گئے ہیں
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جولائی سے ستمبر تک ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے امیدواروں کی حمایت میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک کمیٹیوں کے مشترکہ انتخابی اخراجات 2022 کے وسط مدتی انتخابات کے انہی مہینوں کے مقابلے میں تقریباً آٹھ گنا زیادہ رہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت وسط مدتی انتخابات میں کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے،انتخابی مہم کے ان اخراجات کی تفصیلات دونوں جماعتوں کی کمیٹیوں نے منگل کی شب وفاقی الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی رپورٹوں میں ظاہر کیں
رائٹرز کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پہلے تین ماہ، یعنی جولائی، اگست اور ستمبر کے دوران، ریپبلکن کمیٹیوں نے ایوانِ نمائندگان کے انتخابات اور دیگر متعلقہ انتخابی سرگرمیوں پر مجموعی طور پر تقریباً 137 ملین ڈالر خرچ کیے،یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد سیاسی جماعتوں کو امیدواروں کے ساتھ انتخابی اخراجات میں اشتراک کے حوالے سے پہلے سے زیادہ مالی گنجائش حاصل ہوئی ہے





