نائب صدر جے ڈی وینس کا نیتن یاہو کی انتخابی حمایت سے گریز :مگر ہنگری میں اوربان کی مہم چلانے پر سوالات
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کی دوبارہ انتخاب لڑنے کی مہم کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی نیتن یاہو کی حمایت کر چکے ہیں، لیکن وینس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے انتخابات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے اور ان کی توجہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات پر مرکوز ہے
امریکی سیاسی جریدے پولیٹیکو کے مطابق، وینس نے پیر کو مارک ہالپرین کے پروگرام ’’2WAY Tonight‘‘ میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی حمایت امریکی اور بین الاقوامی سیاسی تاریخ میں سب سے زیادہ مؤثر حمایت ہے، جبکہ وہ خود امریکی امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں اور اس وقت امریکہ کے وسط مدتی انتخابات پر توجہ دے رہے ہیں،انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسرائیلی انتخابات میں شامل نہیں ہوں گے
وینس نے اپنے مؤقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نیتن یاہو کی حمایت کے خلاف ہیں یا ان کے حق میں ہیں، بلکہ وہ اسرائیل کے انتخابی معاملے میں فریق نہیں بننا چاہتے
تاہم، ان کے بیان پر اس لیے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ اپریل میں وینس نے ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں اس وقت کے وزیرِاعظم وکٹر اوربان کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا،اوربان کا تعلق دائیں بازو کی قوم پرست سیاست سے تھا اور وہ مسلسل 16 برس اقتدار میں رہنے کے بعد عہدے سے محروم ہو گئے
وینس کا ہنگری کی انتخابی مہم میں حصہ لینا اور اب اسرائیلی انتخابات سے دور رہنے کا اعلان کرنا ان کے مؤقف میں بظاہر تضاد پیدا کرتا ہے،پولیٹیکو نے اس معاملے پر نائب صدر کے دفتر سے تبصرے کی درخواست کی، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک کوئی فوری جواب موصول نہیں ہوا
نیتن یاہو کو آئندہ انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہے،ان انتخابات کے نتائج اسرائیل کی داخلی سیاست، فلسطینیوں کے حوالے سے پالیسی اور خطے میں سلامتی کی صورت حال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں،ٹرمپ کی حمایت کے باوجود وینس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس انتخابی مقابلے میں کسی امیدوار کی حمایت کا اعلان نہیں کریں گے





