Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت میں ووٹر فہرست تنازعہ ، کروڑوں زندہ شہری خود کو زندہ ثابت کرنے کی جنگ میں مصروف

بھارت میں ووٹر فہرست تنازعہ ، کروڑوں زندہ شہری خود کو زندہ ثابت کرنے کی جنگ میں مصروف
بھارت میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے دوران تقریباً 13 کروڑ افراد کے نام خارج کیے جانے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گئے ہیں،بعض شہریوں کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دے دیا گیا ہے، حالانکہ وہ زندہ ہیں،اب انہیں ووٹ کا حق بحال کرانے کے لیے اپنی زندگی اور شناخت ثابت کرنے کی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے،اس عمل نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج کھڑا کر دیا ہے
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، انتخابی فہرستوں کی اس خصوصی اور جامع نظرثانی کو اسپیشل انٹینسیو ریویژن کہا جاتا ہے،اس عمل کے تحت ووٹروں کے نام مختلف وجوہات کی بنیاد پر خارج کیے گئے ہیں، جن میں ریکارڈ میں تضادات اور متعلقہ افراد کو مردہ درج کیا جانا بھی شامل ہے،اپوزیشن جماعتیں اور نوجوانوں کی تنظیمیں اس کارروائی کے خلاف تقریباً روزانہ احتجاج کر رہی ہیں
نئی دہلی کے 53 سالہ درزی کامتا پرساد بھی ان شہریوں میں شامل ہیں جنہیں یہ ثابت کرنے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں کہ وہ زندہ ہیں،انتخابی فہرستوں سے ان کا نام بھی خارج کر دیا گیا ہے،انتخابی ادارے کی جانب سے 31 اگست کو جاری کردہ ابتدائی فہرستوں کے مطابق، دہلی میں تقریباً 42 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے نکالے گئے
کامتا پرساد روزانہ 250 بھارتی روپے کما کر اپنے چار افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت کرتے ہیں، لیکن نام کی بحالی کے لیے دفاتر کے چکر لگانے کی خاطر انہیں اپنی روزانہ کی مزدوری چھوڑنا پڑ رہی ہے،انہوں نے بتایا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ انتخابی ریکارڈ میں ان کا نام نہیں رہا تو وہ گھبرا گئے
یہ معاملہ محض ووٹ ڈالنے کے حق تک محدود نہیں،بھارت میں غریب خاندانوں کو خدشہ ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں نام خارج ہونے یا شناخت سے متعلق مسائل کے باعث انہیں سبسڈی پر ملنے والے راشن اور دیگر فلاحی سہولتوں کے حصول میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں
انتخابی فہرستوں سے اتنی بڑی تعداد میں نام خارج ہونے کے عمل نے ووٹروں کی شناخت، انتخابی شفافیت اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں،ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر درست شناخت رکھنے والے شہری بھی انتظامی غلطیوں کے باعث ووٹر فہرستوں سے باہر ہو جائیں تو انہیں اپنا حق بحال کرانے کے لیے وقت اور آمدنی دونوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، یہ نظرثانی مودی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، جبکہ متاثرہ شہری اپنا حق واپس لینے کی تگ و دو کررہے ہیں

قومی خبریں سے مزید