Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

نیویارک کے اٹارنی جنرل کے امیدوار اختیارات اور ذمہ داریوں پر آمنے سامنے، لیٹیشیا جیمز اور سارتھا کوماتریڈی میں بنیادی اختلافات

نیویارک کے اٹارنی جنرل کے امیدوار اختیارات اور ذمہ داریوں پر آمنے سامنے، لیٹیشیا جیمز اور سارتھا کوماتریڈی میں بنیادی اختلافات

نیویارک کے اٹارنی جنرل کے عہدے کے لیے انتخابی مقابلے میں ڈیموکریٹک امیدوار اور موجودہ اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز اور ری پبلکن امیدوار سارتھا کوماتریڈی کے درمیان اس بنیادی سوال پر اختلاف سامنے آیا ہے کہ ریاست کے اعلیٰ قانونی افسر کے اختیارات اور ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں امیدواروں کا کہنا ہے کہ ان کی حریف اس عہدے کی ذمہ داریوں کو درست طور پر نہیں سمجھتیں،کوماتریڈی نے اپنی انتخابی مہم میں جرائم، دکانوں میں چوری، دھوکا دہی اور بے گھر افراد سے متعلق مسائل کو مرکزی حیثیت دی ہے،ان کا الزام ہے کہ جیمز نے عوامی تحفظ کے بجائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی اور قانونی تنازعات پر زیادہ توجہ دی ہے
کوماتریڈی، جو نیویارک کے مشرقی وفاقی عدالتی ضلع میں پراسیکیوٹر رہ چکی ہیں، کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل کے دفتر نے جرائم کے خلاف کارروائی میں اپنی سابقہ سختی کھو دی ہے،دوسری جانب جیمز نے اپنے ریکارڈ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے اختیارات سے تجاوز کے خلاف قانونی کارروائی کرنا بھی ان کے منصب کی اہم ذمہ داری ہے
جیمز نے یہ اعتراض بھی کیا کہ ان کی حریف کی بعض تجاویز اٹارنی جنرل کے قانونی اختیارات سے باہر ہیں،ان میں ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار بے گھر افراد کو مخصوص رہائشی مراکز میں قانونی طور پر داخل کرنے کے لیے مزید سہولتیں قائم کرنے کی تجویز شامل ہے،جیمز کے مطابق، اٹارنی جنرل کا دفتر ایسے مراکز تعمیر کرنے یا چلانے کا اختیار نہیں رکھتا
کوماتریڈی نے دکانوں سے چوری اور منظم جرائم کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ بھی کیا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ دکانوں سے چوری کرنے والے بیشتر افراد ایسے وسیع منظم جرائم پیشہ گروہوں کا حصہ نہیں ہوتے جن کے خلاف ریاستی اٹارنی جنرل براہ راست کارروائی کر سکے
لیٹیشیا جیمز 2019 سے اس عہدے پر فائز ہیں اور صدر ٹرمپ کے خلاف متعدد اہم قانونی مقدمات کے باعث قومی سطح پر نمایاں ہوئی ہیں،ان کے دفتر نے وفاقی حکومت کی بعض پالیسیوں کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کے لیے دوسری ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کے ساتھ بھی مل کر کام کیا ہے،ان کے حامی ان اقدامات کو شہری حقوق اور ریاستی اختیارات کے تحفظ کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین ان پر سیاسی جانبداری کے الزامات لگاتے ہیں، جنہیں جیمز مسترد کرتی ہیں
ٹائمز یونین اخبار کے مطابق، ستمبر میں کیے گئے سائینا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سروے میں ممکنہ ووٹروں کے درمیان جیمز کو 52 فیصد اور کوماتریڈی کو 39 فیصد حمایت حاصل تھی،تاہم، نیویارک میں ری پبلکن امیدواروں کے لیے ریاستی سطح پر عہدہ جیتنا تاریخی طور پر مشکل رہا ہے،آخری مرتبہ کسی ری پبلکن نے 2002 میں ریاست گیر انتخاب جیتا تھا، جبکہ ری پبلکن ڈینس ویکو 1994 میں نیویارک کے اٹارنی جنرل منتخب ہوئے تھے
یہ مقابلہ محض دو امیدواروں کی انتخابی کشمکش نہیں بلکہ اس بڑے سوال کی عکاسی کرتا ہے کہ اٹارنی جنرل کو اپنی توجہ جرائم اور عوامی تحفظ پر مرکوز رکھنی چاہیے یا وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور اختیارات کو عدالتوں میں چیلنج کرنا بھی اس کے منصب کا لازمی حصہ ہے

قومی خبریں سے مزید