ڈیموکریٹک جماعت میں نئی بحث، جیمز کارول کا متنازعہ مؤقف کہ ری پبلکن ایوانِ نمائندگان پر قابض رہیں تو بہتر ہے
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل معروف ڈیموکریٹک سیاسی حکمت کار جیمز کارول کے ایک بیان نے بائیں بازو کے حامیوں میں ناراضگی پیدا کر دی ہے،کارول نے کہا ہے کہ وہ اس بات کو ترجیح دیں گے کہ ری پبلکن جماعت ایوانِ نمائندگان میں اپنی پانچ نشستوں کی اکثریت برقرار رکھے، بجائے اس کے کہ ڈیموکریٹس پانچ نشستوں کی معمولی اکثریت حاصل کریں،ان کے اس مؤقف پر سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور انہیں سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا
کارول نے یہ بات ہفتے کے اختتام پر پوڈکاسٹ ’’بلورک آن سنڈے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی،ان کے مطابق، اگر ڈیموکریٹس معمولی اکثریت کے ساتھ ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ (DSA) کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
کارول نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کی پانچ نشستوں کی اکثریت کے مقابلے میں ری پبلکنز کی پانچ نشستوں کی اکثریت کو ترجیح دیں گے، کیونکہ ان کے خیال میں ایسی صورت میں ڈیموکریٹک قیادت بائیں بازو کے اس دھڑے کے دباؤ میں آ سکتی ہے اور ایوان میں مؤثر سیاسی فیصلے کرنے کی آزادی کھو سکتی ہے،انہوں نے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت حال میں ان کے لیے آگے بڑھنے کی گنجائش محدود ہو جائے گی
کارول کئی دہائیوں سے ڈیموکریٹک سیاست میں ایک نمایاں شخصیت رہے ہیں، تاہم ان کے تازہ بیان نے جماعت کے اندر نظریاتی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے،بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کو انتخابی کامیابی کے لیے اعتدال پسند مؤقف اختیار کرنا چاہیے یا بائیں بازو کے ترقی پسند دھڑے کے مطالبات کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے
ان کے ناقدین کی ناراضگی اس لیے بھی اہم ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنا ڈیموکریٹس کے لیے کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی مخالفت اور ان کی نگرانی کرنے کی صلاحیت بڑھا سکتا ہے،کارول کے بیان نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا ترقی پسند دھڑے کے ممکنہ اثر و رسوخ کے خدشے کی بنیاد پر ڈیموکریٹس کو ایوان میں اکثریت حاصل کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے





