وائٹ ہاؤس کی نئی ترجمان کیٹی زکریا امریکی بار امتحان میں ناکام، ٹرمپ نے انہیں وکیل قرار دیا تھا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری نامزد کی جانے والی کیٹی زکریا کی قانونی قابلیت پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں،امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق زکریا نے 2011 میں پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کیلیفورنیا کا بار امتحان دیا تھا، لیکن وہ اسے پاس نہیں کرسکیں،اس کے باوجود وہ عوامی تقریبات میں خود کو وکیل کے طور پر متعارف کراتی رہی ہیں اور صدر ٹرمپ نے بھی ان کے لیے وکیل کا لفظ استعمال کیا تھا
اخبار کے مطابق اس معاملے سے براہ راست واقف ایک شخص نے بتایا کہ زکریا نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کیلیفورنیا کا بار امتحان دیا، تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکیں،اس وقت وہ اپنی شادی کی تیاریوں کے ساتھ اپنے ہونے والے شوہر کے ہمراہ چین منتقل ہونے کی منصوبہ بندی بھی کررہی تھیں
زکریا اسی سال گرمیوں میں چین کے دارالحکومت بیجنگ منتقل ہوگئیں، جہاں انہوں نے چین کی معروف قانونی فرم ژونگ لون میں بین الاقوامی قانونی معاملات سے متعلق شعبے میں بطور ایسوسی ایٹ کام کیا،رپورٹ کے مطابق بعد میں وکلا نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی قانونی تعلیم اور بین الاقوامی تجارتی معاملات کے تجربے کی بنیاد پر قانونی تجزیہ فراہم کرسکتی ہیں
زکریا کی قانونی اسناد پر اس وقت مزید سوالات اٹھے جب ان کا نام کیلیفورنیا، ٹیکساس اور واشنگٹن ڈی سی میں لائسنس یافتہ وکلا کے ریکارڈ میں ان کے شادی سے پہلے اور بعد کے ناموں سے تلاش کرنے پر نہیں ملا
امریکہ میں قانون کی ڈگری حاصل کرنا اور باقاعدہ لائسنس یافتہ وکیل ہونا دو الگ چیزیں ہیں،بیشتر ریاستوں میں عدالتوں میں وکالت کرنے کے لیے متعلقہ بار امتحان پاس کرنا اور دیگر قانونی شرائط پوری کرنا ضروری ہوتا ہے،تاہم قانونی تعلیم رکھنے والا شخص بعض حالات میں قانونی تحقیق، تجزیے یا دیگر متعلقہ کام کرسکتا ہے، بشرطیکہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہ کرے
اس معاملے نے اس لیے بھی توجہ حاصل کی ہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا منصب صدر کی پالیسیوں کا دفاع کرنے، صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے اور عوام تک انتظامیہ کا مؤقف پہنچانے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے،زکریا کی قانونی قابلیت سے متعلق سوالات اب اس بحث کو جنم دے رہے ہیں کہ اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات ہونے والی شخصیات کی پیشہ ورانہ اسناد اور ان کے بارے میں عوامی دعووں کی درستگی کتنی اہم ہے





