امریکی کالج کا پروفیسر یہودی ساتھی اور اس کے خاندان کو مبینہ دھمکیوں کے الزام میں گرفتار، ’حقیقی ہولوکاسٹ دیکھو‘ جیسے پیغامات پر وفاقی فردِ جرم عائد
امریکی ریاست پنسلوانیا کے ہیورفورڈ کالج کے مذہب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر گوانگ تیان ہا کے خلاف ایک یہودی ساتھی اور اس کے خاندان کو مبینہ طور پر کئی ماہ تک آن لائن ہراساں کرنے، یہود مخالف پیغامات بھیجنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں وفاقی فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے،فاکس نیوز ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق، پروفیسر کو 6 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا،استغاثہ کے الزامات میں گمنام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے اور اپنے ساتھی کی نجی زندگی سے متعلق تصاویر شیئر کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں
وفاقی فردِ جرم کے مطابق، مبینہ مہم 9 اکتوبر 2025 سے 20 مئی 2026 تک جاری رہی،الزام ہے کہ ہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گمنام اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے اپنے یہودی ساتھی کو دھمکی آمیز پیغامات بھیجے اور اس کے گھر کے ڈاک خانے کی تصاویر بھی شیئر کیں،حکام کے مطابق، ان پیغامات میں یہود مخالف زبان اور دھمکی آمیز مواد شامل تھا،پروفیسر کو وفاقی سطح پر سائبر اسٹاکنگ، یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے مسلسل تعاقب اور ہراسانی، کے الزام کا سامنا ہے
اس معاملے میں سب سے زیادہ توجہ مبینہ پیغامات میں استعمال ہونے والی زبان نے حاصل کی ہے؟فاکس نیوز کی رپورٹ میں ایک پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے ’’حقیقی ہولوکاسٹ دیکھو‘‘ کے الفاظ نمایاں کیے گئے ہیں،ہولوکاسٹ سے مراد دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھوں تقریباً 60 لاکھ یہودیوں کا منظم قتلِ عام ہے،تاہم دستیاب اقتباس میں اس مخصوص جملے کا مکمل سیاق و سباق موجود نہیں، اس لیے اس کی بنیاد پر دھمکی کی نوعیت کے بارے میں اس سے آگے کوئی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا
یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ملزم کا تعلق ایک ایسے تعلیمی ادارے سے ہے جہاں پہلے ہی یہود مخالف رویوں اور اسرائیل و صیہونیت سے متعلق بحث پر تنازعہ سامنے آ چکا ہے،ڈی بورہ پروجیکٹ نامی قانونی تنظیم کی قانونی ڈائریکٹر لوری لوونتھل مارکس نے فاکس نیوز ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہا کی جانب سے صیہونیت کے حامیوں کے خلاف بیانات پہلے بھی سنے تھے، لیکن ان کے بقول دوسرے فیکلٹی رکن کے خلاف گمنام پوسٹس میں یہود دشمنی اور موت سے متعلق نفرت کا پہلو نمایاں تھا
مارکس کی تنظیم اس سے قبل ہیورفورڈ کالج کے خلاف یہودی طلبہ کی جانب سے شہری حقوق کے قانون کے ٹائٹل 6 کے تحت مقدمہ دائر کر چکی ہے،یہ قانونی شق وفاقی مالی امداد حاصل کرنے والے اداروں میں نسل، رنگ یا قومی اصل کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے تحفظ فراہم کرتی ہے،یہودی طلبہ کے حقوق کے حوالے سے ایسے مقدمات میں یہ سوال بھی اہم ہوتا ہے کہ آیا مبینہ ہراسانی یا امتیازی رویے کو روکنے کے لیے ادارے نے مناسب اقدامات کیے یا نہیں
اس معاملے میں ایک بنیادی فرق برقرار رکھنا ضروری ہے،صیہونیت پر سیاسی تنقید اور یہودیوں کو ان کی مذہبی یا نسلی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانا ایک ہی چیز نہیں،تاہم اگر کسی شخص نے یہودی ساتھی کو اس کی شناخت کی بنیاد پر دھمکیاں دی ہوں، اس کے خاندان کو خوف زدہ کیا ہو یا اس کی نجی معلومات کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہو تو معاملہ محض سیاسی اختلاف تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ممکنہ فوجداری جرم بن سکتا ہے
ہیورفورڈ کالج کے پروفیسر کے خلاف فردِ جرم عائد ہونا سنگین پیش رفت ہے، لیکن یہ الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں،حتمی فیصلہ شواہد، قانونی کارروائی اور عدالت کے تعین پر منحصر ہوگا،اس کے باوجود یہ مقدمہ امریکی جامعات میں یہود مخالف ہراسانی، اظہارِ رائے کی حدود اور تعلیمی اداروں کی اپنے طلبہ و ملازمین کے تحفظ کی ذمہ داری سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کرتا ہے





