Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے سے 5 برس میں 80 ارب ڈالر تک معاشی فائدہ حاصل ہونے کا امکان

پاکستان میں ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے سے 5 برس میں 80 ارب ڈالر تک معاشی فائدہ حاصل ہونے کا امکان

پاکستان میں سرکاری اداروں، زراعت، صحت اور جائیداد کے شعبوں کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرکے اگلے 5 برس میں 60 ارب سے 80 ارب ڈالر تک معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی ایک تحقیقی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے معاشی ترقی تیز کرنے، سرکاری خدمات بہتر بنانے اور حکومتی اداروں کے کام میں رکاوٹیں کم کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں
یہ دستاویز وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کو بھیج دی گئی ہے اس میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کے مختلف سرکاری اداروں کے ڈیجیٹل نظام ایک دوسرے کے ساتھ مؤثر طور پر منسلک نہیں ہیں، جس کے باعث معلومات کا تبادلہ مشکل ہوتا ہے اور شہریوں کو ایک ہی کام کے لیے مختلف دفاتر کے چکر لگانا پڑ سکتے ہیں
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی تجویز کے مطابق ملک میں ایک قومی ڈیجیٹل منصوبہ تیار کیا جائے گا، جس کا مقصد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نظام کو مربوط کرنا، مشترکہ تکنیکی معیار قائم کرنا اور سرکاری خدمات کو زیادہ تیز، آسان اور شفاف بنانا ہوگا
دستاویز کے مطابق زراعت کا شعبہ ڈیجیٹل نظام سے 2030 تک 9 ارب ڈالر سے زیادہ کے معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے کسانوں کو جدید معلومات، موسمی حالات کی پیش گوئی، فصلوں کی بیماریوں کی بروقت شناخت اور منڈیوں کے نرخوں تک رسائی فراہم کرکے پیداوار بہتر بنانے میں مدد دی جا سکتی ہے اس کے علاوہ ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے پانی، کھاد اور دیگر زرعی وسائل کے استعمال کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے
صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات سے 45 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی بچت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے مریضوں کا طبی ریکارڈ الیکٹرانک نظام میں محفوظ کرنے، اسپتالوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ بہتر بنانے اور علاج کے انتظامات کو مربوط کرنے سے وقت اور وسائل بچائے جا سکتے ہیں اس سے مریضوں کو بار بار ٹیسٹ کرانے کی ضرورت کم کرنے اور علاج کی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے
جائیداد اور تعمیرات کا شعبہ بھی اس منصوبے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے دستاویز کے مطابق ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے 2030 تک جائیداد کے شعبے میں 15 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری متوجہ کی جا سکتی ہے زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے، ملکیت کی معلومات آسانی سے دستیاب کرنے اور جائیداد کی خرید و فروخت کے معاملات کو شفاف بنانے سے تنازعات اور دھوکا دہی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں
پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قومی ڈیجیٹل منصوبے کے تحت ایسا نظام قائم کرنے کی تجویز دے رہی ہے جس میں ڈیجیٹل شناخت، ادائیگیوں اور معلومات کے محفوظ تبادلے کی سہولتیں شامل ہوں گی۔ اس نظام کے ذریعے شہریوں اور کاروباری اداروں کو مختلف سرکاری محکموں سے رابطے کے لیے زیادہ مربوط سہولت فراہم کی جا سکے گی
مثال کے طور پر اگر کسی شہری کی شناخت، ٹیکس، جائیداد یا کاروبار سے متعلق معلومات مختلف سرکاری اداروں میں الگ الگ موجود ہوں تو ان کے درمیان محفوظ رابطہ قائم ہونے سے درخواستوں کی جانچ اور منظوری میں وقت کم لگ سکتا ہے تاہم اس مقصد کے لیے معلومات کے تحفظ، شہریوں کی رازداری اور سائبر سکیورٹی کے مؤثر انتظامات ضروری ہوں گے
پاکستان میں ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے کے راستے میں کئی مشکلات بھی موجود ہیں دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی محدود دستیابی، ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی، سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کا فقدان اور معلومات کے تحفظ سے متعلق خدشات ایسے مسائل ہیں جنہیں حل کیے بغیر منصوبے کے تمام فوائد حاصل کرنا مشکل ہوگا
ڈیجیٹل نظام سے حاصل ہونے والے ممکنہ معاشی فوائد کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ حکومت ان تجاویز پر کس حد تک عمل درآمد کرتی ہے 60 ارب سے 80 ارب ڈالر کا تخمینہ ایک ممکنہ معاشی فائدہ ہے، نہ کہ حکومت کی آمدنی یا پہلے سے حاصل شدہ رقم اس لیے ضروری ہے کہ منصوبے کے اہداف، اخراجات اور نتائج کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے
اگر پاکستان ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے، سرکاری خدمات بہتر بنانے، سرمایہ کاری بڑھانے اور معیشت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے تاہم اس کے لیے محض نئے نظام متعارف کرانا کافی نہیں ہوگا بلکہ اداروں کے درمیان تعاون، تربیت یافتہ عملے، قابل اعتماد انٹرنیٹ اور شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہوگا

قومی خبریں سے مزید