مقامی فنڈز کی کمی، پاکستان میں غیر ملکی امداد سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کا بجٹ نصف سے بھی کم کر دیا گیا
پاکستانی حکومت نے مقامی کرنسی میں مطلوبہ فنڈز کی کمی کے باعث غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص رقم 537 ارب روپے سے کم کرکے 255 ارب روپے کر دی ہے اس طرح ان منصوبوں کے لیے دستیاب رقم میں 282 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے، جو مجموعی طور پر نصف سے بھی زیادہ بنتی ہے
یہ معاملہ 12 اکتوبر کو اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے اجلاس میں سامنے آیا منصوبہ بندی کے سیکریٹری ڈاکٹر طاہر نور کی سربراہی میں حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ رواں مالی سال 2026 اور 2027 کے لیے غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کا بجٹ مطلوبہ مقامی فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث کم کرنا پڑا
حکام کے مطابق رواں مالی سال کے سرکاری ترقیاتی پروگرام میں 98 غیر ملکی مالی معاونت والے منصوبے شامل ہیں، جن کی مجموعی تخمینہ لاگت 8.1 کھرب روپے ہے ان منصوبوں کے لیے تقریباً 4.65 کھرب روپے کی غیر ملکی مالی معاونت شامل ہے تاہم غیر ملکی اداروں سے رقم ملنے کے باوجود ان منصوبوں پر کام جاری رکھنے کے لیے حکومت کو اپنے حصے کے فنڈز پاکستانی روپے میں فراہم کرنا ہوتے ہیں
اقتصادی امور ڈویژن نے متعلقہ وزارتوں، محکموں اور امداد فراہم کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد ان منصوبوں کے لیے 425 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن قومی اقتصادی کونسل نے 10 جون کو مجموعی طور پر 1 کھرب روپے کے ترقیاتی پروگرام کی منظوری دیتے ہوئے غیر ملکی مالی معاونت والے منصوبوں کے لیے صرف 255 ارب روپے رکھے اس فیصلے کے پیچھے مالی وسائل کی کمی بنیادی وجہ بتائی گئی
غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں میں بیرونی ادارے عموماً مجموعی لاگت کا ایک حصہ قرض یا مالی معاونت کی صورت میں فراہم کرتے ہیں، جبکہ حکومت کو زمین کے حصول، مقامی تعمیراتی کاموں، عملے، انتظامی اخراجات اور دیگر ضروریات کے لیے اپنے وسائل استعمال کرنا پڑتے ہیں اگر مقامی فنڈز دستیاب نہ ہوں تو بیرونی رقم موجود ہونے کے باوجود منصوبے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں
سینیٹ کمیٹی نے ان منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیا اور حکام سے پوچھا کہ رواں مالی سال میں کن منصوبوں کو مکمل کیا جا سکتا ہے منصوبہ بندی کی وزارت کے حکام نے بتایا کہ زیادہ تر منصوبے اسی مالی سال کے دوران مکمل ہونے کی توقع ہے کمیٹی نے ہدایت کی کہ جن منصوبوں پر کافی کام ہو چکا ہے، ان کی مؤثر نگرانی کی جائے تاکہ فنڈز کی کمی کے باوجود ممکنہ اہداف حاصل کیے جا سکیں
اجلاس میں غیر ملکی قرضوں پر انحصار کے مالی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ ڈالر میں لیے جانے والے قرضوں پر سود اور اصل رقم کی واپسی کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے حکومت کو مقامی وسائل کے مؤثر استعمال اور پاکستانی روپے میں دستیاب فنڈز کو ترجیح دینی چاہیے غیر ملکی مالی معاونت حاصل کرتے وقت یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس سے ملک پر مستقبل میں کتنا مالی بوجھ پڑے گا
اجلاس میں سکھر حیدرآباد موٹروے، ایم 6، کے منصوبے پر ہونے والی تاخیر کا معاملہ بھی زیر بحث آیا حکام نے بتایا کہ منصوبے کے لیے 705 ملین ڈالر کی غیر ملکی مالی معاونت دستیاب ہو گئی ہے اور تعمیراتی کام آئندہ چند ماہ میں شروع ہونے کی توقع ہے
موٹروے کے پہلے 2 حصوں کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری کے تحت کام آگے بڑھایا جا رہا ہے ان حصوں کے لیے ٹھیکے دینے کا فیصلہ فروری 2027 تک متوقع ہے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے ان کے لیے مشاورتی خدمات فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے باقی حصوں کے لیے بھی بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مالی انتظامات کیے جا چکے ہیں
سینیٹ کمیٹی کی چیئرپرسن قرۃ العین مری نے ایم 6 منصوبے میں طویل تاخیر پر تشویش ظاہر کی یہ منصوبہ 2017 سے زیر غور ہے، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر اس پر پیش رفت مسلسل تاخیر کا شکار رہی ہے کمیٹی نے حکام پر زور دیا کہ مزید غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جائے اور تعمیراتی کام شروع کرنے کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے
پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی کمی کا براہ راست اثر سڑکوں، ٹرانسپورٹ، توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر پڑ سکتا ہے ایسے منصوبوں میں تاخیر سے نہ صرف تعمیراتی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے بلکہ عوام کو ان سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مزید انتظار بھی کرنا پڑتا ہے اگر منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہ ہوں تو پہلے سے خرچ ہونے والی رقم سے متوقع معاشی فوائد بھی تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں
موجودہ صورت حال حکومت کے لیے دوہرا چیلنج ہے ایک طرف اسے محدود مالی وسائل میں ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنا ہے، جبکہ دوسری طرف غیر ملکی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور ان کی واپسی کی ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھنا ہے اس لیے ضروری ہے کہ فنڈز کی تقسیم شفاف ہو، اہم منصوبوں کو ترجیح دی جائے اور ان کی تکمیل کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، تاکہ محدود وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے



