سعودی عرب کے تیل، ہوائی اڈوں اور مقدس شہروں تک جنگ کی لپیٹ، حوثیوں کے حملوں کے بعد پاکستان پر دفاعی معاہدہ نبھانے کا دباؤ
سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، سعودی دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملوں، آرامکو کی تنصیبات میں آگ لگنے کی اطلاعات، شہری ہلاکتوں اور فضائی پروازوں میں بڑے پیمانے پر خلل نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ یمن کی جنگ اب سعودی عرب کے اہم اقتصادی مراکز اور شہری انفراسٹرکچر کے لیے براہ راست خطرہ بن رہی ہے،اس صورت حال میں پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ ہے اور پاکستانی حکومت تصدیق کر چکی ہے کہ سعودی دارالحکومت میں پہلے سے پاکستانی فوجی اور دفاعی وسائل موجود ہیں
تاہم 10 اکتوبر تک دستیاب اطلاعات میں ایک اہم فرق واضح رکھنا ضروری ہے،آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کی خبریں موجود ہیں، لیکن جدہ میں واقع ریفائنری پر تازہ حملے اور وہاں نظر آنے والے دھویں کی آزادانہ تصدیق دستیاب رپورٹوں سے نہیں ہوتی،5 اکتوبر کو حوثیوں نے ریاض کے ہوائی اڈے، رابغ میں آرامکو کی تنصیب، ابہا کے ہوائی اڈے اور جنوبی سعودی عرب کے فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا،اس سے پہلے ریاض میں آرامکو کی ایک تنصیب کے قریب آگ اور دھویں کی تصاویر بھی سامنے آئی تھیں،سعودی حکام اور آرامکو نے ان مخصوص واقعات کے بارے میں فوری طور پر تمام تفصیلات کی تصدیق نہیں کی تھی
لڑائی میں سب سے سنگین واقعہ 8 اکتوبر کو پیش آیا، جب ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کو نشانہ بنانے والے حملوں میں 3 سعودی شہری ہلاک ہوئے،ہلاک ہونے والوں میں ایک پائلٹ بھی شامل تھا، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے،حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے میزائلوں کے ذریعے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا،سعودی حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کی، تاہم حملوں کی نوعیت اور ذمہ داری کے بارے میں حوثیوں کے دعوے اور سرکاری طور پر تصدیق شدہ حقائق الگ رکھنا ضروری ہے،خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سعودی عرب میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملوں میں سے ایک تھا
اس کے بعد سعودی عرب کی فضائی سلامتی کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے،یورپی یونین کی فضائی سلامتی ایجنسی نے 9 اکتوبر کو سعودی فضائی حدود کے لیے اپنی تنبیہ میں توسیع کرتے ہوئے شمال مغربی سعودی عرب کے بعض علاقوں کو بھی شامل کر لیا،اس نے خبردار کیا کہ میزائلوں اور ڈرونز کی سرگرمی شہری طیاروں کے لیے خطرہ پیدا کر سکتی ہے،ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کے بعد سینکڑوں پروازیں منسوخ ہوئیں یا متاثر ہوئیں،لوفتھانزا گروپ اور دیگر فضائی کمپنیوں نے پروازوں پر پابندیاں یا عارضی معطلیاں نافذ کیں، جبکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پروازوں کی معطلی کا معاملہ بھی پاکستانی وزارت خارجہ کی بریفنگ میں زیر بحث آیا،دباؤ صرف مسافروں تک محدود نہیں، بلکہ سعودی عرب میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاروں کی آمدورفت پر بھی پڑ رہا ہے
حوثیوں کے حملے صرف ریاض تک محدود نہیں رہے،5 اکتوبر کو ان کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے تین کارروائیوں میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون استعمال کیے،ان کے مطابق پہلی کارروائی میں ریاض کے ہوائی اڈے کو، دوسری میں مکہ کے علاقے میں واقع رابغ کی آرامکو تنصیب کو، اور تیسری میں ابہا کے ہوائی اڈے، خمیس مشیط کے فوجی اڈے اور جنوبی سعودی عرب کے دیگر فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا،حوثیوں نے رابغ میں آگ لگنے کا دعویٰ بھی کیا،تاہم ان تمام اہداف کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی،
اس کشیدگی کی جڑیں سعودی عرب اور یمن کے درمیان حالیہ محاذ آرائی سے بھی گہری ہیں،یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حامی افواج نے سعودی مدد کے ساتھ باب المندب کے قریب حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے کارروائی شروع کی،5 اکتوبر کو یمنی حکومتی افواج نے ساحلی شہر المخا اور اس کے گردونواح میں پیش قدمی کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی قیادت میں اتحادی فضائیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے،حوثیوں نے اپنی پسپائی کے دعووں کی تردید کی اور سعودی عرب کے اہم شہروں، ہوائی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں،اس طرح ایک طرف یمن کے اندر زمینی جنگ تیز ہوئی اور دوسری طرف سعودی سرزمین پر میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں میں اضافہ ہوا
سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے یمن کے مختلف علاقوں میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں،سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کی کمک، میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت اور فوجی گاڑیوں کو تباہ کرنا ہے،5 اکتوبر کو سعودی قیادت میں اتحادی ترجمان نے تقریباً 100 لڑاکا طیاروں کے ذریعے آپریشن کا اعلان کیا، جس میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور صنعاء کے قریب حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی،اتحادیوں نے باب المندب کے اطراف فضائی تحفظ اور سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے،حوثی ذرائع نے دوسری جانب ان دعووں کو چیلنج کیا اور جوابی حملوں کو اپنی فوجی صلاحیت کا ثبوت قرار دیا،
سعودی عرب کے لیے یہ بحران اس لیے بھی زیادہ حساس ہے کہ حوثیوں کی کارروائیوں میں اب شہری ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور مذہبی اہمیت رکھنے والے مقامات کے قریب واقع بنیادی ڈھانچے کا خطرہ شامل ہو گیا ہے،یکم اکتوبر کو سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے الزام لگایا تھا کہ حوثیوں نے مدینہ میں طیبہ بجلی کی تقسیم کی تنصیب کو نشانہ بنایا، جو مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے نظام سے منسلک ہے،سعودی حکام کے مطابق ایک ٹرانسفارمر متاثر ہوا، تاہم مجموعی بجلی کی فراہمی اور مسجد کے معمولات برقرار رہے،حوثیوں نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا،پاکستان نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مسجد نبوی اور حرمین شریفین کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیا
اس صورت حال میں پاکستان کا کردار اب محض سفارتی حمایت تک محدود نہیں رہا، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پاکستانی فضائیہ حوثیوں کے خلاف یمن میں جنگی کارروائیاں شروع کر چکی ہے،پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے،اس معاہدے کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے،5 اکتوبر کو ریاض میں تینوں ملکوں کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی،اجلاس میں مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر عمل درآمد، تیاری میں اضافے اور دفاعی صلاحیتوں کو مربوط بنانے کے اقدامات پر اتفاق کیا گیا
پاکستانی وزارت خارجہ نے 9 اکتوبر کو واضح کیا کہ سعودی عرب میں پہلے سے پاکستانی فوجیوں اور دفاعی وسائل کی خاصی تعداد موجود ہے،ترجمان کے مطابق اب یہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا کام ہے کہ وہ خطرے کی نوعیت کا جائزہ لے اور طے کرے کہ کب، کہاں اور کتنے اضافی وسائل تعینات کرنے کی ضرورت ہے،اسی بریفنگ میں پاکستان نے حوثیوں کے خلاف پاکستانی لڑاکا طیاروں کی کارروائیوں سے متعلق اطلاعات کو قیاس آرائی قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہیں، یمن میں حوثیوں پر حملے کرنے کے لیے سرحد پار نہیں کریں گے،یہ بیان پاکستان کی موجودہ پالیسی کی سب سے اہم وضاحت ہے
اس کے باوجود پاکستان کے جنگ میں مزید گہرائی سے شامل ہونے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،اس کے تین واضح اشارے ہیں،سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ، ریاض میں پاکستانی فوجیوں اور وسائل کی موجودگی، اور مشترکہ دفاعی اتحاد کی جانب سے فوجی تیاری اور وسائل کو تیزی سے متحرک کرنے کا فیصلہ،لیکن ان اشاروں اور یمن میں براہ راست جنگ میں شرکت کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے،فی الحال پاکستانی حکومت نے یمن میں فضائی حملوں میں اپنی شرکت کی تصدیق نہیں کی، بلکہ ایسی خبروں کی تردید کی ہے،لہٰذا یہ کہنا کہ پاکستان حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکا ہے، دستیاب سرکاری معلومات سے ثابت نہیں ہوتا،البتہ اگر سعودی عرب پر حملے جاری رہتے ہیں اور اتحاد انہیں مشترکہ دفاع کے تحت بڑے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے تو پاکستان پر دفاعی معاونت بڑھانے کا دباؤ ضرور بڑھے گا
پاکستان کے لیے یہ معاملہ صرف سعودی عرب سے دفاعی تعلقات کا نہیں بلکہ انسانی اور معاشی مفادات کا بھی ہے،پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں،پروازوں کی معطلی، فضائی راستوں میں خطرات اور جنگ کے پھیلاؤ سے ان شہریوں کی آمدورفت، روزگار اور سلامتی متاثر ہو سکتی ہے،اسی لیے اسلام آباد نے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کی حمایت کے ساتھ ساتھ کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارت کاری پر بھی زور دیا ہے،پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے دفاعی معاہدے کی ذمہ داریوں اور سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے تحفظ کے درمیان توازن کیسے قائم کرتا ہے
مجموعی طور پر 10 اکتوبر تک کی صورت حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی اب محض یمن کے اندر محدود زمینی جنگ نہیں رہی،ریاض کے ہوائی اڈے پر ہلاکت خیز حملے، آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے، فضائی سفر میں رکاوٹیں اور سعودی قیادت میں یمن پر فضائی کارروائیاں ایک دوسرے کو مزید شدت دے رہی ہیں،پاکستان کے لیے فوری طور پر جنگ میں براہ راست داخل ہونے کا کوئی مصدقہ اعلان سامنے نہیں آیا، لیکن دفاعی اتحاد کے عملی اقدامات اور سعودی عرب میں پہلے سے موجود پاکستانی فوجی وسائل اس بحران کو اسلام آباد کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک امتحان بنا چکے ہیں،سب سے بڑا سوال اب یہ ہے کہ آیا مشترکہ دفاعی اتحاد اپنی کارروائیوں کو سعودی سرزمین کے تحفظ تک محدود رکھ پائے گا، یا مسلسل حملے اسے ایک وسیع تر علاقائی جنگ کی طرف دھکیل دیں گے؟





