دہلی بھی اسلام آباد کی طرح قلعے میں تبدیل:ٹرینیں منسوخ،میٹرو اسٹیشن بند، ہزاروں گرفتار، پورے بھارت سے نوجوانوں کی آمد کے دعوے، الیکشن کمشنر کے استعفے کی تحریک نے نیا رخ اختیار کر لیا
اسلام آباد اور دہلی، دو حریف ملکوں کے دارالحکومت، ایک ہی وقت میں احتجاج، محاصرے اور سیاسی بے چینی کی تصویر پیش کر رہے ہیں,دونوں ملکوں کی سرحدیں الگ ہیں، سیاسی نظام اور جمہوری تاریخ میں بھی فرق ہے، مگر معاشرتی ثقافت، رہن سہن اور برصغیر کا مشترکہ تاریخی ورثہ دونوں معاشروں کو کئی حوالوں سے ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے,پاکستان میں جمہوریت بار بار فوجی مداخلت اور سیاسی بحرانوں کی زد میں رہی ہے، جبکہ بھارت طویل انتخابی تاریخ کے باوجود آج انتخابی عمل اور شہری آزادیوں کے حوالے سے سخت سوالات کا سامنا کر رہا ہے,اسلام آباد میں لانگ مارچ کے تناظر میں تصادم اور خوفناک تشدد کا خدشہ ہے، تو دہلی میں نوجوانوں کے احتجاج کو روکنے کے لیے راستے بند کیے جا رہے ہیں، رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہو رہی ہیں,بھارت میں کسانوں کی طویل تحریک کے دوران سینکڑوں کسانوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جبکہ جنتر منتر اور دیگر مقامات پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف پولیس کارروائیوں نے بھی ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال اٹھائے,دونوں ملکوں میں بنیادی سوال ایک ہے,کیا احتجاج کو جمہوری حق سمجھ کر سنا جائے گا، یا اسے طاقت، پابندیوں اور گرفتاریوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی رہے گی؟ پاکستان میں تحریک انصاف ملک کے شمالی صوبے خیبر پختون خواہ کے وزیراعلی سہیل آفریدی کی سربراہی میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ لیکر نکلی ہوئی ہے جسے روکنے کے لیے اسلام آباد ہی نہیں ملک کے اہم راستوں پر دیو ہیکل رکاوٹیں کھڑی ہیں ، یہ لانگ مارچ جسے نکلے ہوئے چار دن ہونے کو آئے کب اسلام آباد پہنچے گا، ابھی کوئ نہیں جانتا مگر
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 10 اکتوبر کو جنتَر منتر پر ہونے والے احتجاج نے نریندر مودی حکومت اور انتخابی کمیشن کے لیے ایک نیا سیاسی امتحان کھڑا کر دیا ہے ، انتخابی فہرستوں سے مبینہ طور پر 13 کروڑ نام خارج کیے جانے کے خلاف شروع ہونے والی نوجوانوں کی تحریک کو روکنے کے لیے پولیس نے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے ہیں ، کئی طویل فاصلے کی ٹرینیں منسوخ ہوئیں، 57 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند کیے گئے، موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی اور دہلی کے مرکزی علاقوں میں سڑکیں بند کرکے بھاری نفری تعینات کر دی گئی، اس کے باوجود مظاہرین پولیس کی رکاوٹوں تک پہنچے، بعض مقامات پر انہیں گرانے کی کوشش کی اور حکومت و چیف الیکشن کمشنر کے خلاف نعرے لگائے،پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم اور اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات نے احتجاج کو مزید نمایاں کر دیا
خبر رساں ادارے رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، احتجاج سے پہلے ہی دہلی کو ایک محفوظ حصار میں تبدیل کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی تھی،پولیس نے شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی تلاشی لی، بسوں کو روک کر مسافروں سے پوچھ گچھ کی اور مظاہرے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کی شناخت کرنے کی کوشش کی،جنتَر منتر کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور آنسو گیس استعمال کرنے والی گاڑیاں اہم راستوں پر تعینات کی گئیں،پولیس کا مؤقف تھا کہ احتجاج کی اجازت مقررہ وقت پر درخواست نہ دینے اور سابقہ مظاہروں سے متعلق شرائط کی خلاف ورزیوں کے خدشات کے باعث نہیں دی گئی،منتظمین نے اس فیصلے کو اپنے بنیادی حق پر پابندی قرار دیا
اس کارروائی کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پولیس نے مظاہرے کے مقام کے علاوہ دہلی کے داخلی راستوں پر بھی نگرانی سخت کر دی،بعض علاقوں میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندیاں نافذ کی گئیں؟بھارتی میڈیا نے تقریباً 25 ہزار پولیس اہلکاروں اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے منصوبے کی اطلاع دی تھی، جبکہ بعض رپورٹس میں دہلی پولیس اور مرکزی مسلح فورسز کی مجموعی نفری اس سے بھی زیادہ بتائی گئی،مختلف رپورٹوں میں نفری کی تعداد اور تعیناتی کی تفصیلات یکساں نہیں، لیکن اس امر پر اتفاق ہے کہ دارالحکومت میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں
اس احتجاج کی سب سے اہم تفصیلات میں سے ایک نقل و حمل پر پابندیاں ہیں، بھارتی ریلوے نے 10 اکتوبر کی صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر پہنچنے والی متعدد میل اور ایکسپریس ٹرینیں منسوخ کیں یا ان کے اوقات تبدیل کیے،ان فیصلوں سے دہلی اور ممبئی، بھوپال، جبل پور، ادے پور، اندور اور حصار کے درمیان چلنے والی بعض ٹرینیں متاثر ہوئیں
دوسری جانب، دہلی میٹرو نے 57 اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند رکھنے کا اعلان کیا، جبکہ بعض اسٹیشنوں پر تبادلہ سفر کی سہولت برقرار رکھنے کی اطلاع دی گئی ، مرکزی دہلی میں موبائل انٹرنیٹ کی معطلی اور بازاروں کی بندش نے بھی لوگوں کی نقل و حرکت متاثر کی،یہ اقدامات ایک ایسے وقت کیے گئے جب احتجاج کے منتظمین نے مختلف شہروں کے نوجوانوں کو جنتَر منتر پہنچنے کی اپیل کی تھی
ان پابندیوں پر تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت کو نوجوانوں کے احتجاج سے کوئی خطرہ نہیں تو ٹرینوں، میٹرو، انٹرنیٹ اور سڑکوں پر اتنی سخت پابندیوں کی ضرورت کیوں پیش آئی،ان کے حامیوں نے اسے مظاہرین کو دہلی پہنچنے سے روکنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ حکام نے امن و امان اور سکیورٹی کے تقاضوں کا حوالہ دیا
احتجاج سے پہلے اور اس کے دوران سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز گردش کرتی رہیں جن میں نوجوانوں کو اپنا سامان اٹھائے دہلی جانے، سفر کی تیاری کرنے یا پولیس کی پابندیوں کے باوجود احتجاج میں شرکت کے عزم کا اظہار کرتے دیکھا گیا،ان ویڈیوز میں مختلف مقامات سے آنے کے دعوے کیے گئے، لیکن ہر ویڈیو میں دکھائے گئے مقام، تاریخ اور مسافروں کی شناخت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی
ایسوسی ایٹڈ پریس نے ممبئی سے دہلی پہنچنے والی طالبہ تانیا نیگی کا بیان رپورٹ کیا، جس نے بتایا کہ وہ اپنی دو ساتھیوں کے ساتھ احتجاج میں شرکت کے لیے آئی ہے،اس کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دوسرے شہر سے آنے والے بعض نوجوانوں نے سفری مشکلات کے باوجود احتجاج میں شرکت کی،
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں پولیس کی جانب سے دہلی کے داخلی راستوں پر گاڑیوں کی تلاشی، بسوں کو روکنے اور دوسرے شہروں سے آنے والے نوجوانوں کو حراست میں لینے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں،ان کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کو صرف مقامی اجتماع نہیں بلکہ باہر سے آنے والے مظاہرین کی ممکنہ شرکت بھی تشویش کا باعث تھی
یہی پہلو احتجاج کو ایک مقامی سیاسی مظاہرے سے وسیع تر نوجوانوں کی تحریک کے طور پر دیکھنے کی وجہ فراہم کرتا ہے،لیکن تحریک کی حقیقی قومی وسعت جانچنے کے لیے مختلف ریاستوں سے آنے والے مظاہرین کی تصدیق شدہ تعداد، ان کے شہروں اور گرفتاریوں کے الگ الگ اعدادوشمار درکار ہوں گے
احتجاج کے سب سے اہم واقعات میں سے ایک یہ تھا کہ تحریک کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور ان کے ساتھی سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو ممبئی سے دہلی پہنچنے کے بعد طیارے ہی میں پولیس نے حراست میں لے لیا؟ان رہنماؤں کو احتجاج کے مرکزی چہروں کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، اس لیے ان کی گرفتاری نے مظاہرے کی تیاریوں اور قیادت پر براہ راست اثر ڈالا
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، پولیس نے بعض مظاہرین کو جنتَر منتر پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا، جبکہ دوسرے افراد کو مرکزی دہلی میں رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کے دوران پکڑا گیا،رائٹرز نے ایک پولیس ذریعے کے حوالے سے مرکزی علاقے میں تقریباً 200 مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع دی؟دوسری جانب، ایک دوسری میڈیا رپورٹ میں مجموعی کارروائی کو ہزاروں افراد کی گرفتاریوں سے تعبیر کیا گیا،
تحریک کے حامیوں نے ان گرفتاریوں کو احتجاج کو شروع ہونے سے پہلے ناکام بنانے کی کوشش قرار دیا،پولیس نے دوسری جانب کہا کہ اجتماع کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور قانون و امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے کارروائی ضروری تھی
جنتَر منتر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بعض مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں عبور کرنے اور انہیں گرانے کی کوشش کی،بھارتی میڈیا نے اکاشوانی بھون کے قریب پتھراؤ اور پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی دی ہیں؟ان واقعات کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی اور متعدد افراد کو گاڑیوں میں منتقل کیا
ان واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلیں، مجموعی طور پر دستیاب رپورٹیں اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی ہوئی اور بعض مقامات پر تصادم بھی ہوا
یہ صورت حال اس لیے اہم ہے کہ تحریک نے خود کو پُرامن احتجاج اور جمہوری حقوق کی مہم قرار دیا ہے، جبکہ پولیس کا مؤقف ہے کہ غیر مجاز اجتماع اور رکاوٹیں توڑنے کی کوششوں پر کارروائی کرنا اس کی ذمہ داری ہے؟اب اس معاملے میں گرفتاریوں کی قانونی بنیاد اور پولیس کے استعمال کردہ اختیارات بھی بحث کا حصہ بن گئے ہیں
رائٹرز کے مطابق، نظرثانی کے ابتدائی مراحل میں تقریباً 13 کروڑ انتخابی اندراجات حذف یا مزید جانچ کے لیے نشان زد کیے گئے۔ انتخابی کمیشن کے اعدادوشمار میں تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ ایسے اندراجات شامل تھے جن کے حامل افراد کے دوسری جگہ منتقل ہونے، 3 کروڑ افراد کا سراغ نہ ملنے اور 2 کروڑ 80 لاکھ
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد دوہرے، غلط اور نااہل اندراجات کو ختم کرنا ہے اور اگر کسی اہل ووٹر کا نام غلطی سے خارج ہو جائے تو اسے دوبارہ اندراج کا موقع حاصل ہے،اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ناموں کی حذف شدگی انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھاتی ہے اور اس کی مکمل جانچ ضروری ہے؟کمیشن اور حکومت نے سیاسی جانبداری کے الزامات مسترد کیے ہیں
اسی تنازعہ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ پیدا کیا،مظاہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی ادارے کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنے کی صورت میں اس کی قیادت کو جواب دہ ہونا چاہیے،حکومت اور الیکشن کمیشن کا مؤقف اس کے برعکس ہے کہ انتخابی فہرستوں کی درستگی جمہوری عمل کا لازمی حصہ ہے
کیا الیکشن کمشنر بھی وزیر تعلیم کی طرح مستعفی ہوں گے؟
اس تحریک کی سیاسی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ اسی نوجوان گروپ کی جانب سے امتحانات میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے خلاف چلائی گئی مہم کے بعد جولائی 2026 میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہو گئے تھے؟اس واقعے نے تحریک کے حامیوں کو یہ امید دی کہ منظم عوامی دباؤ سے حکومتی فیصلوں پر اثر ڈالا جا سکتا ہے
لیکن چیف الیکشن کمشنر کا معاملہ مختلف ہے،وزیر تعلیم ایک وفاقی وزیر تھے، جبکہ چیف الیکشن کمشنر ایک آئینی عہدے پر فائز ہیں، جس کے تقرر اور برطرفی کے لیے مخصوص قانونی طریقۂ کار موجود ہے؟اس لیے دونوں معاملات کو ایک جیسا سمجھنا درست نہیں ہوگا
10 اکتوبر تک دستیاب رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور بھارتی میڈیا کی رپورٹوں میں گیانیش کمار کے مستعفی ہونے یا حکومت کی جانب سے ان کا استعفیٰ قبول کرنے کے کسی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی؟اس مرحلے پر ان کے استعفے کو یقینی یا قریب الوقوع قرار دینے کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد سامنے نہیں آئ
انتخابی فہرستوں کے تنازعہ میں کانگریس رہنما راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی واڈرا کی شرکت نے بھی اس مسئلے کو قومی سیاست میں نمایاں کیا،7 اکتوبر کو اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کے ارکان چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کے لیے نکلے تو پولیس نے انہیں روک دیا،راہول گاندھی کو حراست میں لیا گیا، جبکہ پریانکا گاندھی اور دوسری خواتین ارکان پارلیمان سڑک پر بیٹھ گئیں
پریانکا گاندھی کی پولیس کے ساتھ جھڑپ اور زمین پر لیٹے ہوئے ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلیں،ان کے حامیوں نے اسے اپوزیشن کو دبانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ پولیس کی جانب سے کارروائی کا تعلق احتجاج اور حفاظتی انتظامات سے بتایا گیا،ان مناظر نے انتخابی فہرستوں کے تنازعہ کو نوجوانوں کی تحریک سے آگے بڑھا کر بڑی اپوزیشن جماعتوں کی سیاسی مہم کا حصہ بنا دیا ہے
دہلی میں ٹرینوں کی منسوخی، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش، موبائل انٹرنیٹ کی معطلی، ہزاروں اہلکاروں کی تعیناتی اور احتجاجی رہنماؤں کی گرفتاریوں نے اس تحریک کو غیر معمولی توجہ دی ہے،لیکن اس کا سیاسی اثر صرف گرفتاریوں یا مظاہرین کی تعداد سے طے نہیں ہوگا
اگر انتخابی فہرستوں میں اہل ووٹروں کے نام غلط طور پر خارج ہونے کے شواہد سامنے آتے ہیں تو انتخابی کمیشن کو شفاف طریقے سے شکایات کا ازالہ کرنا ہوگا،دوسری جانب، اپوزیشن اور احتجاجی تحریک کو بھی اپنے الزامات کے لیے ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے؟یہی وہ مرحلہ ہے جہاں احتجاج کا سیاسی دباؤ انتخابی اصلاحات اور ادارہ جاتی جواب دہی کی صورت اختیار کر سکتا ہے
2027 میں اتر پردیش اور گجرات سمیت اہم ریاستوں کے انتخابات اس تنازعہ کو مزید سیاسی اہمیت دے سکتے ہیں،تاہم، ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ احتجاج مودی حکومت کی انتخابی پوزیشن کو لازماً نقصان پہنچائے گا یا چیف الیکشن کمشنر کو استعفے پر مجبور کر دے گا
اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور الیکشن کمیشن ووٹر فہرستوں کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا ایسا شفاف جواب دے سکیں گے جس سے عوامی اعتماد بحال ہو، یا گرفتاریوں، پابندیوں اور سیاسی محاذ آرائی کے باعث یہ تنازعہ مزید گہرا ہو جائے گا،دہلی میں ہونے والے واقعات نے کم از کم یہ واضح کر دیا ہے کہ انتخابی فہرستوں کا معاملہ اب محض انتظامی نظرثانی نہیں رہا بلکہ بھارت میں جمہوری اداروں، شہری احتجاج اور سیاسی جواب دہی کے بارے میں ایک بڑے قومی مباحثے کا حصہ بن چکا ہے، جیسے پاکستان میں جہاں سیاسی عدم استحکام اور تقسیم عروج پر ہے اور بمعہ پاکستانی عدلیہ الیکشن کمیشن اور دیگر سیاسی ریاستی ادارے متنازعہ ہوچکے ہیں کیا بھارت بھی اپنے پڑوسی کی طرح اسی جانب بڑھ رہا ہے جہاں بے یقینی اور عدم استحکام کی قومی شناخت و علامت بن گئی ہے





