غزہ انسانیت کے ضمیر پر گہرا زخم اور کائنات میں اخلاقی شگاف ہے، نومی کلائن اور آسٹرا ٹیلر کا انتباہ، دنیا ایک خطرناک تاریخی دور میں داخل ہو چکی ہے
لندن :معروف مصنفین نومی کلائن اور آسٹرا ٹیلر نے خبردار کیا ہے کہ دنیا محض ایک کے بعد دوسرے بحران سے نہیں گزر رہی بلکہ تاریخ کے ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں انتہا پسند سیاست، ارب پتی ٹیکنالوجی شخصیات کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ، غزہ کی جنگ اور موسمیاتی ہنگامی صورتحال ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں،ان کے نزدیک موجودہ دور کو سمجھنے کے لیے ان بحرانوں کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ان کے باہمی تعلقات کا جائزہ لینا ضروری ہے
برطانوی اخبار دی گارڈین کے نئے سلسلے ’’ریڈیکل تھنکنگ‘‘ میں صحافی آدتیہ چکرورتی کے ساتھ ایک تفصیلی گفتگو میں دونوں مصنفین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت، ٹیکنالوجی کے شعبے کے ارب پتی افراد کی بڑھتی ہوئی سیاسی طاقت، غزہ میں جاری انسانی بحران اور موسمیاتی تبدیلیوں پر اپنے خیالات پیش کیے
نومی کلائن اور آسٹرا ٹیلر کے مطابق، موجودہ عالمی حالات میں جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور سیاسی جواب دہی سے متعلق بنیادی سوالات مزید اہم ہو گئے ہیں،ان کی گفتگو میں یہ مؤقف نمایاں ہے کہ سیاسی طاقت، معاشی وسائل اور ٹیکنالوجی پر چند بااثر حلقوں کا بڑھتا ہوا کنٹرول معاشروں اور عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے
غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کلائن نے اسے کائنات کے اخلاقی وجود میں ایک گہرے شگاف سے تشبیہ دی،ان کے الفاظ میں ’’غزہ کائنات میں ایک اخلاقی زخم ہے”، یہ تعبیر اس انسانی اور اخلاقی بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے جسے وہ عالمی ضمیر کے لیے ایک بنیادی امتحان سمجھتی ہیں
دونوں مصنفین نے موجودہ دور کو انتہائی دائیں بازو کی سیاست اور فاشزم کے خطرات کے تناظر میں بھی زیر بحث لایا،ان کی گفتگو کا مرکزی سوال یہ تھا کہ آیا دنیا ایک ایسے نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس میں جمہوری اداروں، شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کو شدید دباؤ کا سامنا ہے
تاہم، ان کے نزدیک حالات کی سنگینی کے باوجود مزاحمت اور تبدیلی کی امید ختم نہیں ہوئی،وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی اور سماجی بحرانوں کا مقابلہ اجتماعی جدوجہد، عوامی شرکت اور طاقتور حلقوں کو جواب دہ بنانے کی کوششوں سے کیا جا سکتا ہے
دی گارڈین کا یہ نیا سلسلہ ہر ہفتے ،ہفتے کے روز شائع ہوگا، جس میں سیاست، عالمی طاقت کے بدلتے ہوئے توازن اور موجودہ دور کے بنیادی فکری و اخلاقی سوالات پر گفتگو کی جائے گی،کلائن اور ٹیلر کی گفتگو اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی بحرانوں کے درمیان انسانی اقدار اور اجتماعی مزاحمت کے امکانات کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے





