برطانیہ میں نسل پرستی اور انتہائی دائیں بازو کے خلاف جدوجہد، 1970 اور 1980 کی دہائیوں کے کارکنوں کے تجربات سے کیا سبق ملتا ہے؟
برطانیہ میں نسل پرستی اور انتہائی دائیں بازو کی سیاست کے خلاف کئی دہائیوں تک جدوجہد کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ منظم عوامی مزاحمت، سیاسی سرگرمیوں، موسیقی، فٹ بال اور سماجی رابطوں کے ذریعے انتہا پسند گروہوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا گیا،آج دنیا کے مختلف حصوں میں انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں ماضی کی یہ جدوجہد ایک بار پھر توجہ حاصل کر رہی ہے
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ میں ان کارکنوں کے تجربات کا جائزہ لیا گیا ہے جنہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائیوں سے نسل پرستی اور انتہائی دائیں بازو کے خلاف کام کیا،رپورٹ کے مطابق، ان کی جدوجہد صرف سیاسی جماعتوں یا سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں تک محدود نہیں تھی بلکہ کھیلوں، موسیقی اور مقامی برادریوں میں بھی جاری رہی
ان کارکنوں میں طارق محمود بھی شامل ہیں، جنہوں نے بچپن ہی سے نسل پرستی کا سامنا کیا،وہ 1967 میں پاکستان سے برطانیہ منتقل ہوئے اور بریڈفورڈ میں مقیم ہوئے، جہاں ان کے دادا اور چچا کام کرتے تھے،اب 70 سالہ طارق محمود بیروت میں امریکی یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ ہیں
طارق محمود کے مطابق، اسکول کے زمانے میں سفید فام بچوں کی جانب سے سیاہ فام بچوں کے خلاف نسل پرستانہ گیت گائے جاتے تھے اور جب اسکول انتظامیہ ایسے رویوں کو روکنے میں ناکام رہتی تو یہ محض چند بچوں کی بدتمیزی نہیں رہتی تھی بلکہ معاشرے میں موجود وسیع تر نسل پرستانہ رجحان کی عکاسی کرتی تھی،ان کا کہنا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کو صرف کسی ایک تنظیم تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ اس کے نظریات معاشرے کے مختلف حصوں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں
رپورٹ میں ماضی کی نسل پرستی مخالف تحریکوں سے وابستہ کارکنوں کے اس تجربے کو نمایاں کیا گیا ہے کہ تنہا افراد کو نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے، جبکہ منظم گروہ اپنے ارکان کو تحفظ دینے اور اجتماعی ردعمل پیدا کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں،ایک کارکن کے الفاظ میں، اگر لوگ منظم نہ ہوں تو انہیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، لیکن جب وہ متحد ہو کر کھڑے ہوتے ہیں تو مخالف گروہوں کے لیے انہیں دبانا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے
یہ بحث برطانیہ میں ٹومی رابنسن جیسے انتہائی دائیں بازو سے وابستہ متنازعہ شخصیات کے کردار کے تناظر میں بھی سامنے آئی ہے،رپورٹ کے عنوان میں ایک کارکن سے منسوب یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا وہ رابنسن کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں گے؟ جواب میں مکمل انکار کے بجائے گنجائش رکھنے کا اشارہ ملتا ہے، جو اس بحث کو سامنے لاتا ہے کہ انتہا پسند نظریات کا مقابلہ صرف احتجاج سے کیا جائے یا بعض حالات میں براہ راست مکالمے کو بھی جگہ دی جا سکتی ہے
ماضی کی تحریکوں کے تجربات اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد صرف ردعمل ظاہر کرنے کا نام نہیں بلکہ مقامی سطح پر تنظیم سازی، نوجوانوں کی شمولیت، ثقافتی سرگرمیوں اور اجتماعی یکجہتی کی مسلسل کوشش بھی ہے،برطانیہ میں کئی دہائیوں پر محیط یہ تجربات آج بھی اس سوال کو اہم بناتے ہیں کہ معاشرے میں نفرت انگیز نظریات کے پھیلاؤ کا مقابلہ مؤثر اور دیرپا انداز میں کیسے کیا جا سکتا ہے





