Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مودی حکومت کے لیے نیا چیلنج، بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ کہنے پر احتجاجی تحریک چلانے والا رہنما ڈپکے حراست میں

مودی حکومت کے لیے نیا چیلنج، بے روزگار نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ کہنے پر احتجاجی تحریک چلانے والا رہنما ڈپکے حراست میں

بھارت میں بے روزگار نوجوانوں کے حق میں طنزیہ مہم چلانے والے سیاسی حکمت کار ابھیجیت ڈپکے کو نئی دہلی پہنچنے پر پولیس نے حراست میں لے لیاہے،ڈپکے کی جانب سے شروع کی گئی احتجاجی تحریک پہلے ہی ایک وفاقی وزیر کے استعفے کا سبب بن چکی ہے، جبکہ اب ان کی تنظیم نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ ردوبدل کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کیا ہے،اس واقعے نے نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور نریندر مودی حکومت کے لیے نئے چیلنج کو نمایاں کر دیا ہے
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، 31 سالہ ابھیجیت ڈپکے ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے ان کے طیارے میں ان سے رابطہ کیا،وہ ایک احتجاجی ریلی میں شرکت کے لیے آئے تھے، جس میں انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھائی جانی تھی،ناقدین کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں کے ابتدائی مسودے سے تقریباً 13 کروڑ ووٹروں کے نام خارج کیے گئے، تاہم اس الزام کی مکمل تفصیلات اور متعلقہ حکام کا مؤقف اس رپورٹ کے فراہم کردہ حصے میں موجود نہیں
طیارے کے اندر پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپکے نے کہا کہ وہ گرفتاری دینے آئے ہیں اور انہیں کسی سے خوف نہیں،ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں پولیس اہلکار انہیں یقین دلاتے دکھائی دیے کہ انہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا بلکہ ان سے تعاون طلب کیا جا رہا ہے،ان کی حراست یا پولیس کے ساتھ اس رابطے کی قانونی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں
ڈپکے رواں سال اس وقت ملک گیر شہرت حاصل کر گئے جب انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کے بارے میں توہین آمیز سمجھے جانے والے ایک بیان کے جواب میں محض 6 الفاظ پر مشتمل طنزیہ ردعمل دیا،یہ تنازعہ ایک آن لائن مہم میں تبدیل ہو گیا، جسے ’’کاکروچ پارٹی‘‘ کے نام سے پہچان ملی،سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی اس مہم نے بے روزگاری اور نوجوانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بحث کو وسیع کیا اور بالآخر ایک وفاقی وزیر کے استعفے کے مطالبے سے جڑ گئی
ڈپکے کا تعلق دلت برادری سے ہے، جو بھارت کے روایتی ذات پات کے نظام میں تاریخی طور پر محرومی اور امتیاز کا سامنا کرتی رہی ہے،ان کا ایک آن لائن طنز نگار سے نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کے نمایاں چہرے میں تبدیل ہونا اس بات کی مثال بن گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی مہم کس طرح قومی سیاست میں جگہ بنا سکتی ہے
اب ان کی تحریک کا رخ انتخابی نظام کی جانب ہے،احتجاجی گروپ انتخابی فہرستوں میں مبینہ ردوبدل کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے،اس معاملے نے انتخابی شفافیت، ووٹروں کے اندراج اور حکومتی اداروں پر اعتماد سے متعلق سوالات کو دوبارہ موضوع بحث بنا دیا ہے
ڈپکے کی حراست نے انہیں قومی سطح پر مزید نمایاں کر دیا ہے،ان کی تحریک کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا وہ بے روزگاری کے خلاف نوجوانوں کی ناراضگی کو انتخابی شفافیت اور سیاسی جواب دہی کے مطالبات کے ساتھ جوڑ کر ایک مستقل عوامی تحریک میں تبدیل کر سکتے ہیں یا نہیں

قومی خبریں سے مزید