نوبیل امن انعام پر اسرائیل برہم، غزہ میں نسل کشی کے الزامات نے عالمی اداروں سے محاذ آرائی بڑھا دی
اسرائیل اور اقوام متحدہ کے عالمی اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے،رواں سال نوبیل امن انعام کے لیے سینئر قانون دان ناوی پِلّے کے انتخاب نے اسرائیل اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان اختلافات کو اجاگر کر دیا ہے،غزہ میں جنگ اور اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات نے اس خلیج کو مزید وسیع کر دیا ہے، جسے اسرائیلی حکومت سختی سے مسترد کرتی ہے
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ناوی پِلّے نے کئی دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے شعبوں میں اہم کردار ادا کیا،جنوبی افریقہ میں وکالت کے ابتدائی دور میں انہوں نے نسلی امتیاز کے نظام کے خلاف جدوجہد کی اور نیلسن منڈیلا کی رہائی کی حمایت کی،بعد ازاں بین الاقوامی جج کی حیثیت سے انہوں نے روانڈا میں 1994 کی نسل کشی میں ملوث پائے جانے والے درجنوں افراد کو سزا سنانے کے عمل میں کردار ادا کیا
تاہم، اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ اس تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی، جس نے غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا، ان کے گرد تنازعہ کا بنیادی سبب بن گئی،اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور ان کی بنیاد پر کی جانے والی تنقید کو اپنے خلاف سیاسی مہم کا حصہ قرار دیتا رہا ہے
اسرائیل میں نوبیل امن انعام کے اس فیصلے کو بعض حلقوں نے ملک کے خلاف ایک نمایاں بین الاقوامی پیغام کے طور پر دیکھا ہے،یہ اعلان 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کی برسی کے چند روز بعد سامنے آیا، جس کے بعد غزہ میں جنگ شروع ہوئی،اس پس منظر میں انعام کے فیصلے نے اسرائیل اور عالمی اداروں کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا
نسل کشی کا الزام اسرائیل کے لیے غیر معمولی طور پر حساس معاملہ ہے، کیونکہ اسرائیل کے قیام کی تاریخی بنیادوں میں نازی جرمنی کے ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے یہودیوں کے لیے محفوظ وطن کی فراہمی بھی شامل تھی،اسی لیے غزہ میں نسل کشی کے الزامات اسرائیلی معاشرے اور سیاست میں شدید ردعمل پیدا کرتے ہیں
یہ تنازعہ محض ایک امن انعام یا کسی ایک تحقیقاتی رپورٹ تک محدود نہیں،اس کے مرکز میں یہ بنیادی اختلاف موجود ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت کس طرح پرکھا جائے اور اقوام متحدہ کے اداروں کی تحقیقات اور نتائج کو کس حد تک تسلیم کیا جائے،ناوی پِلّے کا معاملہ اسی وسیع تر کشمکش کی عکاسی کرتا ہے، جس میں اسرائیل اور بین الاقوامی ادارے غزہ کی جنگ، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی تشریح پر ایک دوسرے سے متصادم مؤقف رکھتے ہیں





