امریکہ میں مہنگے طبی بلوں کے خلاف سوشل میڈیا پر بغاوت، انفلوئنسرز نے مریضوں کو بل چیلنج کرنے کے طریقے بتا دیے
امریکہ میں علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک نئی مہم زور پکڑ رہی ہے، جہاں انفلوئنسرز لوگوں کو بھاری طبی بلوں کی ادائیگی سے پہلے ان کی جانچ پڑتال کرنے، غلط چارجز کو چیلنج کرنے اور اسپتالوں سے رعایت حاصل کرنے کے طریقے بتا رہے ہیں،بعض افراد بل ادا نہ کرنے کی ترغیب بھی دے رہے ہیں، جس سے اسپتالوں کے لیے مریضوں سے واجبات وصول کرنا مزید مشکل ہو رہا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، اس رجحان کو نمایاں توجہ اس وقت ملی جب 28 سالہ ایان ہاورڈ نے ٹک ٹاک پر بتایا کہ ٹخنے میں موچ آنے کے بعد ایمرجنسی روم کے مختصر دورے کا انہیں 1,000 ڈالر کا بل موصول ہوا، جسے انہوں نے ادا نہ کرنے کا فیصلہ کیا،ان کی 24 سیکنڈ کی ویڈیو کو 30 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا اور ہزاروں افراد نے تبصروں میں اپنے بھاری طبی بلوں کے تجربات بیان کیے
اس مہم کے پیچھے امریکی نظام صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر عوامی بے چینی کارفرما ہے،انشورنس رکھنے والے افراد کو بھی بھاری کٹوتیوں اور دیگر شرائط کے باعث اپنی جیب سے ہزاروں ڈالر ادا کرنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ انشورنس پریمیم مہنگے ہونے کے باعث بعض لوگ کم کوریج والے منصوبوں کا انتخاب کرتے ہیں،دوسری جانب، انشورنس کے سرکاری امدادی فوائد میں تبدیلیوں کے بعد لاکھوں امریکیوں کے صحت بیمہ منصوبے چھوڑنے کا خدشہ بھی رپورٹ میں اجاگر کیا گیا ہے
سوشل میڈیا پر بعض انفلوئنسرز لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ بل ملتے ہی ادائیگی کرنے کے بجائے پہلے اس کی مکمل تفصیل طلب کریں، غیر ضروری یا دہرائے گئے چارجز کی نشاندہی کریں اور اسپتال سے رعایت یا مالی امداد کے امکانات معلوم کریں،بچوں کی پیدائش کے بعد اسپتالوں کے بھاری بل وصول کرنے والی ماؤں کی ویڈیوز بھی اس مہم کا اہم حصہ بن چکی ہیں
انفلوئنسر لینا ہفمین نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ زچگی کے اخراجات کی تفصیلی فہرست حاصل کریں اور غلط چارجز درست کرائیں،ان کے مطابق، انہوں نے اپنے 1,500 ڈالر کے بل کو اسپتال سے بات چیت کے بعد 1,100 ڈالر تک کم کروا لیا،اسی طرح لورین میڈوز نے بتایا کہ قرض وصول کرنے والی ایجنسی سے رابطے کے بعد انہیں اپنے واجبات میں 25 فیصد رعایت کی پیشکش کی گئی
مالی معاملات سے متعلق مشورے دینے والی وکیل ایریکا کلبرگ بھی اس موضوع پر ویڈیوز بنا رہی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ مریضوں کو بل کی مکمل تفصیل حاصل کرنی چاہیے، انشورنس کمپنی کی جانب سے ادا کی گئی رقم کی جانچ کرنی چاہیے اور اسپتال سے پوچھنا چاہیے کہ آیا وہ مالی امداد کے اہل ہیں یا نہیں،ان کے فراہم کردہ مشوروں سے بعض افراد نے اپنے طبی اخراجات میں نمایاں کمی کی اطلاع دی ہے
رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر طبی بلوں اور ان سے نمٹنے کے طریقوں سے متعلق گفتگو میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے،سوشل میڈیا تجزیاتی ادارے اسپراؤٹ سوشل کے اعدادوشمار کے مطابق، گزشتہ 3 ماہ کے دوران ایکس، بلیوسکائی، یوٹیوب اور ریڈٹ پر طبی بلوں، انہیں ادا نہ کرنے، کم کروانے اور ان پر مذاکرات سے متعلق 426,000 سے زیادہ تذکرے سامنے آئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 36,000 فیصد اضافہ ہے
اس رجحان نے اسپتالوں کی انتظامیہ کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے،صحت کے شعبے کے مالیاتی ماہرین کے مطابق، مریضوں کے قرضوں اور خیراتی طبی امداد کی لاگت میں اضافہ اسپتالوں پر مالی دباؤ بڑھا رہا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں میں ہر طبی بل کے بارے میں عدم اعتماد بڑھتا ہے تو اسپتالوں کے لیے واجبات کی وصولی مزید مشکل ہو سکتی ہے
تاہم، رپورٹ میں یہ فرق بھی نمایاں ہے کہ بعض انفلوئنسرز لوگوں کو بل نظرانداز کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، جبکہ دوسرے افراد کا زور بل کی جانچ، غلطیوں کی اصلاح اور قانونی و مالی طور پر دستیاب رعایتوں سے فائدہ اٹھانے پر ہے،اس طرح امریکہ میں مہنگے علاج کے خلاف سوشل میڈیا کی مہم صحت کے اخراجات اور مریضوں کے مالی تحفظ سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بن گئی ہے





