سلائی کی کلاسوں کی آڑ میں افغانستان کی خواتین کی خفیہ تعلیمی جدوجہد
کابل:افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے باوجود لڑکیوں اور خواتین نے تعلیم حاصل کرنے کا راستہ تلاش کر لیا ہے،ملک کے مختلف علاقوں میں تہہ خانوں اور دکانوں میں سلائی سکھانے کے نام پر خفیہ تعلیمی مراکز قائم ہیں، جہاں خواتین انگریزی، ریاضی اور نرسنگ جیسے مضامین پڑھتی ہیں،ان مراکز میں طالبات اپنی کتابیں سلائی کے تھیلوں میں چھپا کر لاتی ہیں اور پڑھائی کے دوران دروازے پر ہونے والی ہر آہٹ پر نظر رکھتی ہیں تاکہ کسی غیر متوقع دستک کی صورت میں خود کو بچا سکیں
امریکی جریدے کرسچن سائنس مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کو 5 سال گزرنے کے باوجود لڑکیوں کی چھٹی جماعت سے آگے تعلیم پر پابندی برقرار ہے،افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو قانونی طور پر پرائمری تعلیم سے آگے پڑھنے کی اجازت نہیں،اس پابندی نے لاکھوں لڑکیوں کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کیا ہے، لیکن خفیہ تعلیمی نیٹ ورک اس رکاوٹ کے باوجود تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان خفیہ کلاسوں میں تعلیم حاصل کرنے والی خواتین ان اسکولوں کی بندش کا دکھ اب بھی محسوس کرتی ہیں جہاں وہ پہلے باقاعدہ تعلیم حاصل کرتی تھیں،تاہم انہوں نے تعلیم کی خواہش ترک نہیں کی اور محدود وسائل اور خطرات کے باوجود سیکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے
اقوام متحدہ کے ادارے برائے خواتین کے 2025 کے ایک سروے کے مطابق، افغانستان کی تقریباً 40 فیصد خواتین اب بھی ایسے مستقبل کا تصور کرتی ہیں جہاں تبدیلی اور مساوات ممکن ہو،ملک بھر میں قائم خفیہ تعلیمی مراکز اسی امید کی عکاسی کرتے ہیں کہ موجودہ پابندیوں کے باوجود افغان خواتین تعلیم اور بہتر مستقبل کے خواب سے دستبردار نہیں ہوئی ہیں





