دہلی کے لیے اسلام آباد کا خاموش پیغام؟ حسین حقانی کے روابط، دبئی اور سنگاپور میں مبینہ بیک چینل سفارت کاری اور نئی دہلی کی ممکنہ چال کا خوف
رپورٹ: آفاق فاروقی
پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی ماہ سے پسِ پردہ رابطوں کی اطلاعات، سابق سفیر حسین حقانی کے ممکنہ کردار اور واشنگٹن کی سفارتی دلچسپی نے خطے کی سیاست میں ایک اہم سوال اٹھا دیا ہے،کیا دونوں ایٹمی حریف عوامی سطح پر سخت مؤقف برقرار رکھتے ہوئے خاموشی سے کسی نئے سمجھوتے کی گنجائش تلاش کر رہے ہیں؟
پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بظاہر کشیدگی اور سخت بیانات کے باوجود پسِ پردہ سفارت کاری کی گنجائش کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی؟سفارتی ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان دبئی اور سنگاپور میں گزشتہ تقریباً 7 سے 8 ماہ کے دوران غیرعلانیہ رابطوں کا سلسلہ جاری رہا ہے،ان رابطوں کی نوعیت، شرکا اور ممکنہ نتائج کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی جامع تفصیل سامنے نہیں آئی، تاہم خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایسے رابطے غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہیں
سوشل میڈیا اکاؤنٹ فریم دی گلوب نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حسین حقانی کو بھارت کے ساتھ بیک چینل مذاکرات کے لیے بھیجا ہے، کیونکہ پاکستانی عسکری قیادت کو خدشہ ہے کہ نئی دہلی کوئی اچانک اقدام کرنے کی تیاری کررہا ہے ،اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی،تاہم، پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطوں کے حوالے سے حسین حقانی کا نام اہم اس لیے ہے کہ وہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر رہ چکے ہیں، واشنگٹن کے پالیسی حلقوں میں ان کے روابط ہیں اور وہ جنوبی ایشیا کے معاملات پر مسلسل اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں
حسین حقانی کا ممکنہ کردار ایک ایسے وقت میں زیرِ بحث آ رہا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کسی اچانک تبدیلی کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے لیے ایسے افراد اہم ہو سکتے ہیں جو سرکاری عہدے پر فائز نہ ہونے کے باوجود سیاسی، سفارتی اور بین الاقوامی پالیسی حلقوں تک رسائی رکھتے ہوں،
حسین حقانی پاکستان کے سفارتی منظرنامے میں ایک متنازعہ مگر بااثر شخصیت رہے ہیں،وہ 2008 سے 2011 تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہے،ان کا نام 2011 کے میموگیٹ تنازعہ میں سامنے آیا، جب ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے امریکی فوجی قیادت تک ایک ایسا پیغام پہنچانے میں کردار ادا کیا تھا جس کا مقصد پاکستانی فوج کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے تناظر میں امریکی مدد حاصل کرنا تھا،حسین حقانی ان الزامات کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اس تنازعہ نے ان کے سیاسی اور سفارتی کیریئر پر گہرے اثرات مرتب کیے
اس معاملے میں ایک اہم حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے فروری 2019 میں میموگیٹ سے متعلق کارروائی نمٹا دی تھی،عدالت نے یہ قرار دیا تھا کہ حسین حقانی کو واپس لانے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا معاملہ ریاست کے دائرۂ اختیار میں ہے،اس عدالتی فیصلے کو اس طرح بیان کرنا درست نہیں ہو گا کہ حسین حقانی کے خلاف ہر ممکن کارروائی یا تمام قانونی معاملات ختم ہو گئے تھے،میموگیٹ کیس کی عدالتی کارروائی نمٹائے جانے اور کسی شخص کے خلاف دوسرے قانونی اقدامات کے درمیان فرق موجود ہے
یہی پس منظر اس سوال کو اہم بناتا ہے کہ کیا پاکستان کی ریاستی اور عسکری قیادت ایسے افراد کے سفارتی روابط سے فائدہ اٹھا سکتی ہے جن کے ساتھ ماضی میں تعلقات کشیدہ رہے ہوں،بین الاقوامی سفارت کاری میں سابق سفیروں، غیرسرکاری نمائندوں اور بااثر رابطہ کاروں کا استعمال کوئی نئی بات نہیں،بعض اوقات ایسے افراد سرکاری نمائندوں کے مقابلے میں زیادہ کھل کر بات کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کی گفتگو کو فوری طور پر باضابطہ پالیسی بیان نہیں سمجھا جاتا،لیکن کسی شخص کے ممکنہ کردار اور کسی ریاست کی باضابطہ ہدایت کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے
حسین حقانی کے سعودی قیادت کے ساتھ روابط کے بارے میں بھی مختلف دعوے اور تاثر سامنے آتے رہے ہیں،بعض سفارتی حلقوں میں ان کے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ تعلقات اور مشاورتی کردار کے بارے میں بات کی جاتی رہی ہے، یہاں تک کہ پاکستانی سپریم کورٹ نے حسین حقانی کے خلاف میمو گیٹ کا مقدمہ ولی عہد سلمان کی خواہش پر عمران خان کے دور میں اس وقت خارج کیا تھا جب وہ اسلام آباد کا دورہ کرنے جارہے تھے ،
پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 کی فوجی کشیدگی اور جنگ بندی کا واقعہ بھی اس پسِ منظر میں اہم ہے،اس وقت امریکی حکومت نے کھل کر سفارتی کردار ادا کیا تھا،امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 10 مئی 2025 کو کہا تھا کہ انہوں نے اور نائب صدر جے ڈی وینس نے بھارتی اور پاکستانی اعلیٰ حکام سے رابطے کیے، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر اعظم شہباز شریف، بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر، عاصم منیر اور دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر شامل تھے،اس کے بعد دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا
اس جنگ بندی کے پسِ منظر میں امریکہ کے کردار کے ساتھ خلیجی ممالک کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر سامنے آیا تھا،برطانوی اخبار گارڈین نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ کے علاوہ سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کی جانب سے بھی رابطے اور دباؤ ڈالنے کی کوششیں ہوئیں،اسی رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ مستقبل کے مذاکرات کسی خلیجی ملک میں ہو سکتے ہیں،یہ تفصیلات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی کے دوران تیسرے ممالک کی سفارت کاری اہم کردار ادا کر سکتی ہے
اس کے باوجود یہ کہنا کہ موجودہ مبینہ بیک چینل مذاکرات میں امریکہ بھی خاموشی سے شریک ہے، ابھی ایک امکان یا تجزیاتی مفروضہ ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں،واشنگٹن کی گزشتہ جنگ بندی میں براہِ راست مداخلت اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام تک رسائی رکھتا ہے اور کشیدگی کم کرنے میں دلچسپی لیتا ہے،
نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان کسی بھی خاموش سفارتی عمل کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں،کشمیر، سرحد پار دہشت گردی کے الزامات، پانی، تجارت، سفارتی تعلقات اور فوجی توازن جیسے معاملات کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بناتے ہیں،عوامی سطح پر سخت مؤقف اختیار کرنے کے باوجود حکومتیں بعض اوقات ایسے رابطے برقرار رکھتی ہیں جن کا مقصد بحران کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوتا ہے
پاکستانی عسکری قیادت کو نئی دہلی کے کسی ممکنہ اچانک اقدام کے بارے میں تشویش ہونے کا دعویٰ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، تاہم اس تشویش کی نوعیت یا کسی مخصوص بھارتی منصوبے کے بارے میں قابلِ اعتماد عوامی تفصیلات موجود نہیں،ایسی صورت میں بیک چینل سفارت کاری کا ممکنہ مقصد خطرات کا اندازہ لگانا، غلط فہمیوں کو کم کرنا اور کسی غیرمتوقع فوجی تصادم سے بچنے کے لیے رابطے برقرار رکھنا ہو سکتا ہے
حسین حقانی کا نام اس کہانی میں اس لیے نمایاں ہے کہ وہ پاکستان، امریکہ اور بین الاقوامی پالیسی حلقوں کے درمیان ایک ایسا رابطہ رکھتے ہیں جو عام سرکاری سفارت کاری سے مختلف ہو سکتا ہے،لیکن اس وقت اصل سوال ان کی شخصیت سے زیادہ اس مبینہ عمل کی حقیقت ہے،کیا اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان واقعی کئی ماہ سے رابطے جاری ہیں؟ کیا ان کا مقصد صرف جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے یا کسی وسیع تر سیاسی مفاہمت کی راہ تلاش کرنا؟ اور کیا واشنگٹن یا خلیجی ممالک اس عمل میں کوئی کردار ادا کر رہے ہیں؟
ان سوالات کے جواب سامنے آنے تک اس سفارتی کہانی کا سب سے محتاط نتیجہ یہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پسِ پردہ رابطوں کے بارے میں دعوے موجود ہیں، جبکہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بحران کے وقت غیرعلانیہ سفارت کاری کی گنجائش رہتی ہے،اگر موجودہ رابطے واقعی جاری ہیں تو ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ وہ محض ایک اور عارضی جنگ بندی تک محدود رہتے ہیں یا دونوں ممالک کو ایسے مستقل طریقۂ کار کی طرف لے جاتے ہیں جو کسی نئے بحران کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکے، اور اس درپرہ سفارت کاری میں حسین حقانی کا کردار اس لیے اہم ہوجاتا ہے کہ ماضی قریب میں بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر روز کی جھڑپوں اور اس سے پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کروانے میں بھی حسین حقانی نے اہم کردار ادا کیا تھا جس کی درخواست ان سے اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ اور آئ ایس آئ کے سربراہ جنرل فیض حمید نے کی تھی جو ان دنوں مختلف الزامات میں سزا بھگت رہے ہیں ، ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے دونوں ملکوں کے درمیان کنٹرول لائن پر برسوں سے چھائ خاموشی جس کے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف امن بحال ہوسکا ، حسین حقانی کی بیک ڈور سفارت کاری کا نتیجہ ہے اور اس سفارت کاری کے دوران پاکستانی فوجی افسران اور سفارت کاروں نے بھارتی فوجی افسران اور سفارت کاروں سے طویل مذاکرات کیے جس میں حسین حقانی کوآرڈینیٹر تھے





