Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

آئین کس کا کاغذی ٹکڑا ہے؟ سہیل آفریدی کے مارچ نے اسلام آباد کے سامنے اقتدار، دہشت گردی اور عوامی حقِ احتجاج کا امتحان رکھ دیا

آئین کس کا کاغذی ٹکڑا ہے؟ سہیل آفریدی کے مارچ نے اسلام آباد کے سامنے اقتدار، دہشت گردی اور عوامی حقِ احتجاج کا امتحان رکھ دیا
رپورٹ: عامر آرائیں
صوابی میں اگلے مرحلے کے اعلان تک مارچ کی منزل غیر واضح، ہزاروں لوگ ساتھ چل رہے ، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بحث اور فوجی آپریشنز پر سوالات نے سیاسی بحران کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے،سوال صرف عمران خان کی رہائی کا نہیں، یہ بھی ہے کہ آئین کی بالادستی کا فیصلہ عوام کریں گے یا طاقت کے مراکز
پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مارچ کی سیاست اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں ہر گزرتا دن حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے آزمائش بنتا جا رہا ہے،خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے چارسدہ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر سے قافلے صوابی انٹرچینج پہنچیں اور مارچ کے اگلے مرحلے کا فیصلہ وہیں کیا جائے گا،ان کا کہنا ہے کہ پشاور، مالاکنڈ، کوہاٹ اور کرک کے کارکنوں کو جمع ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جبکہ ہزارہ ریجن، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قافلوں کے لیے بھی الگ ہدایات دی جائیں گی،انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ اعلان ایسا ہو گا جس سے ان کے سیاسی مخالفین پریشان ہو جائیں گے
لیکن اس مارچ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا اعلان کردہ مقصد اور اس کی عملی منزل کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے،تحریک انصاف نے ابتدا میں اسے اسلام آباد کی جانب مارچ قرار دیا تھا، مگر قافلہ کئی روز گزرنے کے باوجود خیبر پختونخوا ہی میں مختلف مقامات پر اجتماعات کرتا رہا ہے،اب صوابی کو اگلے مرحلے کا مرکز بنایا جا رہا ہے اور اسلام آباد پہنچنے کے وقت، راستے اور حتمی حکمت عملی کے بارے میں صورت حال پوری طرح واضح نہیں،مختلف تاریخوں اور قافلوں کے شیڈول سے متعلق اعلانات میں بھی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں،ڈان اور دوسرے پاکستانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کے مطابق سہیل آفریدی نے بارہا کہا ہے کہ تفصیلی لائحۂ عمل صوابی میں بتایا جائے گا
یہ تاخیر محض انتظامی مسئلہ نہیں، سیاسی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے، جب حکومت راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرے، کنٹینر نصب کرے اور دارالحکومت میں احتجاج روکنے کے لیے سخت انتظامات کرے تو کسی مارچ کی قیادت کے سامنے یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست تصادم کا راستہ اختیار کرے یا اپنی قوت کو مختلف مقامات پر جمع کر کے حکومت پر دباؤ بڑھائے،تحریک انصاف کے کارکنوں اور حامیوں میں یہ توقع پیدا کی جا رہی ہے کہ قافلے مختلف علاقوں سے صوابی پہنچیں گے اور اس کے بعد اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے بارے میں فیصلہ ہو گا،سوشل میڈیا پر مختلف راستوں، موٹرویز اور رابطہ سڑکوں کے استعمال کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم انہیں پارٹی کی تصدیق شدہ حتمی حکمت عملی نہیں سمجھا جا سکتا
اس دوران راستوں کی بندش، کاروبار متاثر ہونے، شہریوں کی نقل و حرکت محدود ہونے اور ممکنہ تصادم کے خدشات نے عام لوگوں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے،اگر احتجاج کے مقام اور وقت کے بارے میں غیر یقینی برقرار رہے تو کارکنوں کے ساتھ ساتھ تاجر، مسافر، طلبہ اور روزانہ روزگار کے لیے نکلنے والے شہری بھی اس کے اثرات برداشت کرتے ہیں،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق غیر ضروری طور پر معطل نہ کرے، جبکہ احتجاجی قیادت پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو واضح ہدایات دے اور عوام کو غیر معینہ انتظار اور غیر ضروری خطرات میں نہ ڈالے
سہیل آفریدی کی تقریر کا دوسرا اور زیادہ بنیادی پہلو دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی ہے،انہوں نے کہا کہ ان کی نظر میں حکومت اور ریاستی اداروں کی ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ تحریک انصاف کو سیاسی طور پر کمزور کرنا ہے تاکہ عمران خان کا نام لینے والا کوئی باقی نہ رہے،یہ ان کا سیاسی الزام ہے، جسے وفاقی حکومت اور متعلقہ ادارے اپنے مؤقف کے تناظر میں دیکھیں گے، مگر اس الزام کے پیچھے موجود بنیادی سوال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،کیا دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی کے نتائج، اس کے انسانی اور معاشی اخراجات اور اس کی کامیابی کے پیمانے عوام کے سامنے شفاف طور پر رکھے جاتے ہیں؟
آفریدی نے 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس وقت بھی امن کی بحالی کے لیے مختصر مدت کے وعدے کیے گئے تھے، مگر تقریباً نصف صدی گزرنے کے باوجود بلوچستان میں شورش اور ریاست کے ساتھ تنازعہ ختم نہیں ہو سکا،اس تاریخی مثال کے ذریعے ان کا مؤقف یہ تھا کہ محض طاقت کے استعمال سے ایسے مسائل مستقل طور پر حل نہیں ہوتے جن کی جڑیں سیاسی محرومی، اعتماد کے فقدان اور حقوق کے تنازعات میں پیوست ہوں، انکا کہنا ہے وہ مجھے ایک لڑکا سمجھ کر ڈیل کرنا چاہتے تھے مگر میں اپنی عوام کے خلاف اپنے صوبے کے خلاف کبھی بھی انکا ساتھ نہیں دوں گا،
اس استدلال کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے سامنے بے بس ہو جائے یا مسلح گروہوں کو قانون سے بالاتر سمجھا جائے،دہشت گردی سے شہریوں، پولیس، فوج اور دوسرے ریاستی اہلکاروں کی جانوں کو حقیقی خطرات لاحق ہوتے ہیں اور ریاست پر ان کی حفاظت کی ذمہ داری ہے،لیکن کسی بھی انسدادِ دہشت گردی پالیسی کی کامیابی صرف کارروائیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے استعمال سے نہیں ناپی جا سکتی،اصل پیمانہ یہ ہے کہ تشدد میں کتنی کمی آئی، شہریوں کی زندگی کتنی محفوظ ہوئی، مقامی آبادی کا ریاست پر اعتماد کتنا بحال ہوا اور کیا متاثرہ علاقوں میں تعلیم، روزگار، انصاف اور معمول کی زندگی کے مواقع بڑھے
سہیل آفریدی نے اپنی تقریر میں ریاستی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پشتون علاقوں کے لوگوں کو طویل عرصے سے غداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے،ان کے مطابق پہلے اختلاف کرنے والوں کو غدار کہا جاتا تھا اور اب یہ حلقے جو پہلے غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹتے تھے انہیں دہشت گرد قرار دیتے ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے وسائل اور حقوق پر عوام کا حق تسلیم نہیں کیا جا رہا ، انہوں الزام لگایا ریاست حکومت خیبر پختون خواہ کے عوام کے حصے کے پانچ ہزار ارب روپے کھا گئی اور وسائل پر قبضہ کیے بیٹھی ہے اور اب صوبے کے عوام کے خلاف آپریشن کرنا چاہتی ہے ، اور وہ اپنے صوبے کے لوگوں کے خلاف آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے،ان کے خطاب میں آئین، صوبائی خودمختاری، وسائل کی تقسیم اور سیاسی اختلاف کو قومی سلامتی کا مسئلہ بنا دینے کے رجحان پر سخت تنقید نمایاں تھی
ان کی تقریر کا مرکزی تضاد بھی یہی ہے،ایک طرف وہ ریاست پر آئین کی خلاف ورزی اور اسے محض کاغذ کا ٹکڑا سمجھنے کا الزام لگاتے ہیں، دوسری طرف وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صوبے کے آئینی حقوق تسلیم کیے جائیں،یہ تنازعہ صرف تحریک انصاف اور اس کے مخالفین کے درمیان سیاسی کشمکش نہیں،پاکستان کے وفاقی نظام میں صوبوں کے اختیارات، منتخب حکومتوں کی خودمختاری، شہری آزادیوں اور سلامتی کے اداروں کے کردار سے متعلق سوالات پہلے بھی بارہا اٹھتے رہے ہیں، اور ان دنوں ایسے سوالات میں گہرائ بھی پیدا ہو گئی ہے اور شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے ، اگر آئین کو واقعی بالادست بنانا ہے تو اس کا اطلاق صرف مخالف جماعت پر نہیں، وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، انتظامیہ، پولیس اور تمام ریاستی اداروں پر یکساں ہونا چاہیے
اس بحران میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان پر ہونے والی بحث نے مزید تشویش پیدا کی ہے،ستمبر کے آخری ہفتے اور اکتوبر کے آغاز میں پاکستانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ وفاقی سطح پر ان اختیارات کے استعمال پر غور اور مشاورت ہوئی، جبکہ بعد میں بعض رپورٹوں میں فوری اقدام سے گریز کا ذکر بھی آیا،تاہم ایسے امکان کی سیاسی بحث ہی یہ سوال اٹھانے کے لیے کافی ہے کہ کیا احتجاج اور وفاقی و صوبائی اختلافات کا جواب آئینی مکالمہ ہو گا یا منتخب صوبائی حکومت کو ہٹانے کی کوشش؟
اس بحران کا ایک پہلو تحریک انصاف کی اپنی حکمت عملی بھی ہے،مارچ کو اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کے طور پر شروع کیا گیا، مگر اس کی قیادت اگلے مراحل کے اعلان کو مسلسل مؤخر کر رہی ہے،ممکن ہے یہ تاخیر کارکنوں کو جمع کرنے، حکومت کے انتظامات کا جائزہ لینے اور سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی ہو،مگر ایک سیاسی تحریک کے لیے غیر یقینی کی بھی قیمت ہوتی ہے،کارکنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کس مقصد کے لیے نکل رہے ہیں، ان سے کیا توقع کی جا رہی ہے اور قیادت کن حدود میں رہتے ہوئے احتجاج کو آگے بڑھانا چاہتی ہے،حکومت کے لیے بھی یہ آسان راستہ نہیں کہ وہ ہر احتجاج کو محض امن و امان کا مسئلہ قرار دے کر اس کے سیاسی اسباب سے صرفِ نظر کرے
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی اس مارچ کو عمران خان کی قید، تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل اور اسلام آباد میں ممکنہ تصادم کے تناظر میں رپورٹ کیا ہے،رائٹرز نے مارچ کو سابق وزیر اعظم کی رہائی کے مطالبے سے جوڑا، جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس اور گارڈین نے حکومتی رکاوٹوں، ناکام مذاکرات اور بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کا ذکر کیا،اس کوریج سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ محض ایک صوبے کے اندرونی احتجاج تک محدود نہیں رہا،یہ پاکستان کے سیاسی استحکام، ریاستی طاقت کے استعمال اور حزب اختلاف کے لیے سیاسی گنجائش کے بارے میں بھی سوالات اٹھا رہا ہے
اب صوابی کا اجتماع اس لیے اہم ہے کہ وہاں قیادت کو صرف ایک اور تقریر نہیں کرنی، بلکہ اپنے دعوے کو واضح سیاسی منصوبے میں تبدیل کرنا ہو گا،اگر مقصد اسلام آباد پہنچنا ہے تو کارکنوں اور شہریوں کو اس کے اگلے مرحلے کی واضح صورت معلوم ہونی چاہیے،اگر مقصد ملک گیر احتجاج کو وسعت دینا ہے تو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ اس احتجاج کے سیاسی مطالبات کیا ہیں اور کامیابی کو کس بنیاد پر جانچا جائے گا،عمران خان کی رہائی، ان کے ساتھ قانونی سلوک، سیاسی قیدیوں کے معاملات، انتخابات کی ساکھ، صوبائی حقوق اور دہشت گردی کے خلاف پالیسی جیسے موضوعات ایک وسیع سیاسی بحث کا حصہ ہو سکتے ہیں، مگر ان سب کو ایک ہی نعرے میں سمیٹ دینے سے عملی راستہ خود بخود سامنے نہیں آتا
جو لوگ خوف، گرفتاری یا ممکنہ تشدد کے باعث مارچ میں شامل نہیں ہو سکتے، ان کے لیے بھی سیاسی شرکت کے دوسرے راستے موجود ہیں،پرامن اظہارِ رائے، اپنے منتخب نمائندوں سے سوال، مقامی سطح پر شہری اجتماعات، قانونی جدوجہد اور آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھانا بھی سیاسی عمل کا حصہ ہیں،گھروں کے دروازوں پر بیٹھنے یا کسی اور علامتی احتجاج کی اپیل اگر کی جائے تو اسے پرامن، رضاکارانہ اور قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے،کسی شہری کو سیاسی وابستگی ثابت کرنے کے لیے اپنی جان، روزگار یا خاندان کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا
پاکستان اس وقت دو متضاد راستوں کے درمیان کھڑا دکھائی دیتا ہے،ایک راستہ یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو قومی سلامتی کے خلاف سازش سمجھ کر ہر مسئلے کا جواب طاقت، پابندیوں اور گرفتاریوں میں تلاش کیا جائے،دوسرا راستہ یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ سیاسی اختلاف کو بھی آئینی حق تسلیم کیا جائے، صوبائی حکومتوں کے ساتھ تنازعات کو مکالمے سے حل کیا جائے اور عوام کو یہ اعتماد دیا جائے کہ قانون کسی جماعت یا ادارے کی سہولت کے لیے نہیں بلکہ سب کے تحفظ کے لیے ہے
سہیل آفریدی کی تقریر نے حکومت کے سامنے یہی سوال رکھ دیا ہے، لیکن اس سوال کا جواب صرف وفاقی حکومت کے ذمے نہیں،تحریک انصاف کی قیادت کو بھی اپنے اعلانات، راستوں اور اگلے مرحلے کے بارے میں وضاحت دینی ہو گی،اگر وہ آئین کی بالادستی کی بات کرتی ہے تو اس کی اپنی سیاسی حکمت عملی بھی شفاف، پرامن اور جواب دہ ہونی چاہیے،اسی طرح حکومت اگر قانون اور امن و امان کی بات کرتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سیاسی اختلاف کو دبانے کے لیے سلامتی کے خدشات استعمال نہیں کر رہی،مگر پاکستان میں ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں حکومتیں وہ فوجی ہو یا جمہوری انکی بنیاد فسطائیت پر ہی کھڑی ملتی ہے کہ انسانی حقوق ، عوامی شہری حقوق ، اظہار رائے کی آزادی تلخیوں اور برے دنوں کی ضرورت ہوں جیسے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں اپوزیشن جب تک اپوزیشن رہتی ہے اسے انسانی حقوق کے تناظر میں تمام بین الااقوامی اصول یاد رہتے ہیں مگر حکومت میں اسکا رویہ وہی ہوتا ہے جو اسکی اپوزیشن کے دور میں اسکی مخالف پارٹی کی حکومت کا رہا ہو
صوابی میں ہونے والا اگلا اعلان شاید مارچ کی سمت واضح کر دے، مگر پاکستان کے بحران کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہو گا کہ قافلہ کس سڑک سے اسلام آباد پہنچتا ہے،اصل فیصلہ اس وقت ہو گا جب ریاست اور سیاست دونوں یہ طے کریں گے کہ آئین طاقت کے تابع رہے گا یا طاقت آئین کے تابع، مگر پاکستانی تاریخ ابھی تک اس پس منظر میں ایک ہی گواہی دیتی آئ ہے یہاں آئین ہمیشہ طاقت فرعونیت کے ہی تابع رہا ہے اور اب بھی ہے

قومی خبریں سے مزید