پشتون پہاڑوں میں طالبانی اسلام کی رنگینیاں،پردے کی فکر،چھوکرامنڈی عروج پر:انُہی تعلیمات کی ترویج کے لئیے دنیا پر قبضہ چاہیئے، ہر جمعہ اتوار کو لونڈے سجتے اور بکتے ہیں
رپورٹ: آفاق فاروقی
بچوں کا مستقبل خریدنے والے کون ہیں؟ بنوں سے اٹھنے والا سوال صرف ایک شہر، ایک صوبے یا چند مجرموں کا نہیں، اس معاشرے کا ہے جو مذہبی شناخت پر فخر کرتا ہے مگر اپنے بچوں کے تحفظ اور خواتین کی آزادی کے بنیادی سوالات سے نظریں چرا لیتا ہے
پاکستان کے معروف انگریزی اخبار ڈان کے واشنگٹن میں نمائندے انور اقبال نے ایک ایسی ویڈیو کے ساتھ تحریر شیئر کی ہے جو دیکھنے والوں کو محض افسردہ نہیں کرتی، انہیں اپنے معاشرے کے بارے میں سوچنے پر مجبور بھی کرتی ہے۔ انور اقبال عام صحافی نہیں،وہ امریکی صدور جارج ڈبلیو بش اور باراک اوباما کے انٹرویو کر چکے ہیں اور کئی دہائیوں سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر رپورٹنگ کرتے رہے ہیں،ان کی پوسٹ میں اصل توجہ ان کم عمر لڑکوں پر ہے جن کے بارے میں ویڈیو بنانے والی نوجوان خاتون کا دعویٰ ہے کہ بنوں میں انہیں جنسی استحصال کے لیے خریدا اور بیچا جاتا ہے، انکا پورا بازار سجایا جاتا ہے، جہاں آزادانہ بولیاں لگتی ہیں
ویڈیو میں دکھائی گئی صورت حال کے بارے میں سوالات اپنی جگہ، لیکن اس کے پیچھے موجود مسئلہ پاکستان کے لیے نیا نہیں،امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی اسمگلنگ سے متعلق رپورٹیں ماضی میں پاکستان میں لڑکوں کے جنسی استحصال، انہیں ملازمت یا تعلیم کے جھوٹے وعدوں سے پھانسنے اور ہوٹلوں، بس اڈوں، ٹرک اسٹاپس اور بعض مزارات کے گرد ان کے استحصال کا ذکر کر چکی ہیں،ان رپورٹس میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے کم عمر بچوں کا بھی حوالہ موجود ہے،یہ کسی ایک ویڈیو یا ایک قصبے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسے استحصال کی تصویر ہے جس کے پیچھے غربت، طاقت کا ناجائز استعمال، مجرموں کی طلب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی جیسے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جبکہ دلچسپ بات یہ بھی ہے جس علاقے کا ذکر نوجوان تعلیم یافتہ خاتون نے کیا ہے یہ وہی علاقہ ہے جہاں گزشتہ بیس سال سے زائد عرصے سے طالبان خطے اور دنیا بھر میں اسلام پھیلانے اسکی حکومت قائم کرنے کے نام پر تاریخی قتل عام میں مصروف ہیں افغانستان میں جنکے ساتھیوں نے خواتین کا جینا مرنا حرام کررکھا ہے
انور اقبال کی تحریر کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ان بچوں کو ان کے استحصال کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتے، ان کی زندگی کا مستقبل ان سے چھیننے والے وہ بالغ افراد ہیں جو انہیں خریدتے، بیچتے یا ان کی بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہیں،بچپن میں جن بچوں کو تحفظ، تعلیم اور محبت ملنی چاہیے، اگر وہ اسی عمر میں جنسی استحصال کا شکار ہو جائیں تو ان کی زندگی پر اس کے اثرات برسوں باقی رہ سکتے ہیں،کسی بچے کی غربت، لباس، ظاہری شکل یا خاندانی حالات اسے کسی دوسرے انسان کی ملکیت نہیں بنا دیتے
اس معاملے میں ایک نوجوان خاتون کی صحافتی اور انسانی جرات بھی قابلِ احترام ہے،ایسے موضوعات کو سامنے لانا آسان نہیں، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں طاقت ور افراد، سماجی دباؤ اور بدنامی کا خوف اکثر لوگوں کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیتا ہے،معاشرے کا فرض ہے کہ وہ اس خاتون کی توجہ بچوں کے تحفظ کے سوال کی طرف لے جانے کی کوشش کو سراہنے کے ساتھ ساتھ اس کے اٹھائے گئے سوالات کا سنجیدہ جواب بھی طلب کرے
لیکن پاکستان کے معاشرتی تضادات کا مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا،یہی وہ ملک ہے جہاں خواتین کے کسی پارک میں جانے، کسی عوامی جگہ پر ان کی موجودگی یا کسی خاتون صحافی کے لباس پر ہنگامہ کھڑا ہو سکتا ہے،کبھی دوپٹے کو اخلاقیات کا پیمانہ بنا دیا جاتا ہے، کبھی خواتین کے باہر نکلنے کو خاندانی عزت کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے،بعض مقامات پر خواتین کی آزادی کے خلاف مزاحمت اس قدر شدید ہوتی ہے کہ ان کے لیے بنائی گئی عوامی سہولتیں بھی تنازعے کی نذر ہو جاتی ہیں
سوال یہ ہے کہ معاشرے کی اخلاقی حساسیت کا پیمانہ کیا ہے؟ عورت کا سر ڈھانپا ہوا ہے یا نہیں، یہ دیکھنے کے لیے اتنے لوگ کیوں متحرک ہو جاتے ہیں، لیکن اگر کسی بچے کے استحصال کی خبر سامنے آئے تو اسی شدت سے آوازیں کیوں نہیں اٹھتیں؟ اگر لباس کے معاملے میں معاشرتی نگرانی اتنی طاقت ور ہے تو بچوں کی حفاظت کے معاملے میں یہی نگرانی کہاں چلی جاتی ہے؟ کیا اخلاقیات کا سارا بوجھ خواتین کے لباس پر ڈال دینا آسان ہے، جبکہ بچوں کو نقصان پہنچانے والے بااثر بالغ افراد کے سامنے سوال اٹھانا مشکل ہے؟
یہ تضاد مذہب کے نام پر قائم سماجی دعووں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے،پاکستان میں مساجد ہیں، مدارس ہیں، مذہبی اجتماعات ہیں، بڑے بڑے مزارات ہیں اور ہر سال لاکھوں لوگ عقیدت کے ساتھ وہاں حاضری دیتے ہیں،مگر کسی معاشرے کی اخلاقی صحت کا فیصلہ صرف عبادت گاہوں کی تعداد، مذہبی نعروں یا اجتماعات کے حجم سے نہیں ہوتا،اصل سوال یہ ہے کہ وہاں کمزور انسان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے، بچے کتنے محفوظ ہیں، عورت کو کتنی آزادی حاصل ہے اور طاقت ور مجرم کو قانون کے سامنے کتنی جواب دہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے
بعض مزارات اور ان کے گرد ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں بھی بچوں کے استحصال کی اطلاعات ماضی میں سامنے آتی رہی ہیں،یہ بات کسی بھی مقام یا وہاں آنے والے تمام عقیدت مندوں پر الزام عائد کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس بنیادی اصول کی یاد دہانی کے لیے اہم ہے کہ مذہبی تقدس کسی جگہ کو قانون اور احتساب سے بالاتر نہیں بنا سکتا،اگر کسی بھی مقام پر بچے استحصال کا شکار ہوں تو اس کی روک تھام ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے،مذہبی عقیدت کا احترام اپنی جگہ، مگر کسی بچے کے تحفظ سے بڑا کوئی سماجی یا ادارہ جاتی مفاد نہیں ہو سکتا
خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں جہاں طالبان اور دوسرے مسلح گروہوں کا اثر و رسوخ ہے، بچوں کے استحصال، انتہا پسندی، غربت اور ریاستی عمل داری کے سوالات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ طالبان کا طرزِ حکمرانی، خواتین پر پابندیاں اور آئینی نظام سے ان کی تاریخی کشمکش اس بحث کا اہم پس منظر ہیں،دوسری جانب پاکستانی سیاست میں فوج، حکومت اور مسلح گروہوں کے تعلقات پر بھی مسلسل الزامات اور تنازعات اٹھتے رہے ہیں،فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت یا کسی مخصوص واقعے کی ویڈیو کو پورے معاملے کا حتمی ثبوت قرار دینے کے بجائے اصل مطالبہ یہ ہونا چاہیے کہ ریاست اپنی عمل داری، سلامتی کی پالیسی اور بچوں کے تحفظ کے بارے میں واضح جواب دہی کا نظام قائم کرے،کسی بھی علاقے میں اگر مجرموں کو یہ یقین ہو کہ ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی تو قانون کی موجودگی کاغذی رہ جاتی ہے
یہ مسئلہ صرف بنوں یا خیبر پختونخوا تک محدود نہیں،انسانی اسمگلنگ اور بچوں کے جنسی استحصال کی مختلف شکلوں کے بارے میں پاکستان کے دوسرے حصوں سے بھی اطلاعات اور سرکاری رپورٹیں سامنے آتی رہی ہیں،سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بھی بچوں کے تحفظ، جبری مشقت، استحصال اور کمزور طبقات کے ساتھ زیادتی کے معاملات ریاستی توجہ کے متقاضی ہیں،مسئلے کو کسی ایک صوبے، قومیت یا مذہبی گروہ کے کھاتے میں ڈال دینے سے نہ متاثرہ بچوں کو انصاف ملے گا اور نہ مجرموں کے لیے جگہ تنگ ہو گی
یہاں معاشی ترقی اور خواتین کی آزادی کا سوال بھی ناگزیر ہے،عالمی بینک کے جینڈر ڈیٹا پورٹل کے مطابق 2025 میں پاکستان میں 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کی خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کا تخمینہ تقریباً 24 فیصد تھا، جبکہ مردوں کے لیے یہی شرح تقریباً 80 فیصد تھی،یہ اعداد اس دعوے کی تائید نہیں کرتے کہ خواتین کی بڑی اکثریت لازماً گھروں میں بند ہے، لیکن یہ ضرور دکھاتے ہیں کہ معاشی سرگرمیوں میں خواتین اور مردوں کے درمیان بہت بڑا فرق موجود ہے،خواتین کی تعلیم، محفوظ آمدورفت، روزگار، جائیداد اور معاشی فیصلوں میں شرکت کے راستے محدود رکھ کر کوئی ملک اپنی پوری انسانی صلاحیت استعمال نہیں کر سکتا
دنیا کے ترقی یافتہ اور تیزی سے ترقی کرنے والے معاشروں کا تجربہ بتاتا ہے کہ خواتین کی تعلیم اور معاشی شرکت خاندانوں کی آمدنی، بچوں کی صحت، کاروبار اور قومی پیداوار کے لیے اہم ہیں،بنگلہ دیش ہو یا چین، ان کی ترقی کو صرف ایک عامل سے نہیں سمجھا جا سکتا، مگر خواتین کی تعلیم اور کام میں شرکت کو نظرانداز کر کے معاشی ترقی کا پائیدار راستہ بھی نہیں بنایا جا سکتا،پاکستان میں بھی سوال صرف یہ نہیں کہ عورت گھر سے باہر کام کرتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے اپنی صلاحیت استعمال کرنے کے کتنے مواقع حاصل ہیں اور اس کے لیے محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرنے میں ریاست کیا کردار ادا کرتی ہے
اور پھر وہ روزمرہ کی حقیقتیں ہیں جنہیں قوم نے معمول سمجھ کر قبول کر لیا ہے،خالص خوراک، معیاری ادویات، مؤثر پولیس، قابلِ اعتماد عدالتوں اور جواب دہ سرکاری اداروں کی ضرورت کسی مخصوص نظریے یا سیاسی جماعت کی محتاج نہیں،جب شہریوں کو دودھ، ادویات اور روزمرہ اشیا کے معیار پر بھی اعتماد نہ ہو، جب قانون کا نفاذ طاقت اور تعلقات کے مطابق بدلتا دکھائی دے اور جب کمزور افراد کے لیے انصاف تک رسائی مشکل ہو تو مذہبی یا قومی فخر ان بنیادی ناکامیوں کا متبادل نہیں بن سکتا
پاکستانی معاشرت میں ایک مانوس جملہ ہے: مٹی پاؤ، روٹی کھاؤ،کسی کا عیب دیکھو تو خاموش رہو، کسی طاقت ور کو ناراض نہ کرو، کسی ادارے پر سوال نہ اٹھاؤ اور کسی ایسے معاملے کو سامنے نہ لاؤ جو اجتماعی شہرت کے لیے ناگوار ہو،یوں ایک مسئلے پر مٹی ڈال کر اگلے مسئلے کی طرف بڑھ جاتے ہیں،لیکن مٹی ڈالنے سے جرم ختم نہیں ہوتا، متاثرہ بچے کا ماضی واپس نہیں آتا اور مجرم کی حوصلہ شکنی بھی نہیں ہوتی،بعض اوقات خاموشی صرف اتنا کرتی ہے کہ استحصال کرنے والوں کو مزید وقت، مزید اعتماد اور مزید شکار فراہم کر دیتی ہے
قوموں کی عزت اس بات سے نہیں بنتی کہ وہ اپنے بارے میں کتنے بلند دعوے کرتی ہیں،ان کی اصل پہچان اس سے بنتی ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین شہری کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہیں،اگر ایک بچہ خرید و فروخت اور جنسی استحصال کے خطرے میں ہو، اگر ایک عورت کو اپنے لباس یا عوامی موجودگی کی وجہ سے خوف کا سامنا کرنا پڑے اور اگر ان معاملات پر سوال اٹھانے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جائے تو مسئلہ صرف چند مجرموں کا نہیں رہتا،یہ پورے سماجی نظام، اس کے ترجیحی تصورات اور اس کے اخلاقی دعووں کا امتحان بن جاتا ہے
بنوں سے متعلق یہ ویڈیو اسی لیے اہم ہے کہ اس نے ایک تکلیف دہ سوال کو لوگوں کے سامنے رکھ دیا ہے،اب اصل امتحان یہ نہیں کہ لوگ اسے دیکھ کر کتنے افسردہ ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پولیس، انتظامیہ، عدالتی نظام، منتخب حکومتیں اور مذہبی و سماجی رہنما بچوں کے تحفظ کے لیے کیا عملی قدم اٹھاتے ہیں،کیا متاثرہ بچوں کو تحفظ، علاج، تعلیم اور بحالی ملے گی؟ کیا خریداروں، دلالوں اور استحصال کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی؟ کیا ایسے جرائم کی شکایت کرنے والوں کو تحفظ دیا جائے گا؟ اور کیا ریاست ان علاقوں میں بھی قانون کی عمل داری یقینی بنائے گی جہاں خوف، غربت یا طاقت کے غیر رسمی مراکز اسے کمزور کرتے ہیں؟
انور اقبال کی تحریر کا پیغام سادہ مگر بنیادی ہے،بچوں کا مستقبل ان کا اپنا حق ہے،اسے کسی بالغ کی ہوس، کسی دلال کے منافع، کسی بااثر شخص کی طاقت یا کسی ادارے کی خاموشی کی نذر نہیں ہونا چاہیے،پاکستان کو شاید ایک اور مذہبی نعرے، ایک اور اخلاقی مہم یا ایک اور تقریر کی ضرورت نہیں،اسے ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں بچے محفوظ ہوں، عورتیں آزادانہ زندگی گزار سکیں اور قانون کمزور اور طاقت ور دونوں کے لیے یکساں معنی رکھتا ہو
ورنہ سوال یہی رہے گا،جس معاشرے میں عورت کے دوپٹے پر ہنگامہ برپا ہو سکتا ہے، وہاں بچے کی زندگی اور مستقبل کی قیمت آخر اتنی کم کیوں ہے؟
نوٹ: زیر نگاہ ویڈیو میں خاتون کی دی گئی رپورٹ میں چھوکرا منڈی کی تفصیلات دی گئیں ہیں





