Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکہ میں سرعام پھانسی کی واپسی؟ پینٹاگون کے فیصلے نے انسانی حقوق اور عالمی انصاف پر نئی بحث چھیڑ دی

امریکہ میں سرعام پھانسی کی واپسی؟ پینٹاگون کے فیصلے نے انسانی حقوق اور عالمی انصاف پر نئی بحث چھیڑ دی

واشنگٹن: امریکہ میں سرعام سزائے موت کی واپسی کے امکان نے انسانی حقوق، ریاستی طاقت اور عالمی انصاف کے اصولوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے،امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ 2009 میں ٹیکساس کے فوجی اڈے فورٹ ہڈ میں فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک اور 32 کو زخمی کرنے والے سابق فوجی ماہرِ نفسیات نضال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی کارروائی براہِ راست نشر کی جائے گی،نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) کی رپورٹ کے مطابق، 1930 کی دہائی کے بعد امریکہ میں سرعام سزائے موت کا یہ پہلا واقعہ ہوگا، اگر اعلان کردہ منصوبے پر عمل درآمد ہوتا ہے
56 سالہ نضال حسن کو 2013 میں سزا سنائے جانے کے بعد سے فوجی جیل میں موت کی سزا کے منتظر قیدیوں میں رکھا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کی منظوری دے دی ہے،پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ یہ کارروائی 3 دسمبر کی دوپہر فورٹ ہڈ میں ہوگی، جہاں 2009 میں حملہ کیا گیا تھا،امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ کارروائی عوام کے دیکھنے کے لیے دستیاب بنائی جائے گی،ان کے مطابق، لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ اس نوعیت کے جرائم کے سنگین نتائج ہوتے ہیں
اس اعلان نے یہ بنیادی سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا ریاست کو سزا پر عمل درآمد کو براہِ راست نشر کرکے خوف اور انتباہ کا ذریعہ بنانا چاہیے؟ اور اگر دنیا کی ایک بڑی جمہوریت ایسا کرتی ہے تو ان ملکوں میں اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے جہاں عدالتی نظام کمزور، جمہوری نگرانی محدود اور حکمرانوں کے اختیارات پر مؤثر پابندیاں موجود نہیں؟
اقوام متحدہ نے امریکی منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابلِ نفرت قرار دیا اور خبردار کیا کہ پھانسی کو براہِ راست نشر کرنا تشدد اور غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے خلاف بین الاقوامی اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے،اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق، اس نوعیت کی تشہیر ایران اور افغانستان سمیت ان ملکوں میں رائج سرعام سزاؤں کی یاد دلاتی ہے جن پر انسانی حقوق کے حوالے سے شدید اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں
امریکہ میں سرعام پھانسی کا آخری معروف واقعہ 1936 میں کینٹکی کے شہر اوونزبورو میں پیش آیا تھا، جب رینی بیتھیا کو پھانسی دی گئی اور ہزاروں افراد اسے دیکھنے کے لیے جمع ہوئے،اس واقعے کے بعد سرعام پھانسی کو عوامی تماشے میں تبدیل کرنے پر شدید تنقید ہوئی اور امریکہ میں اس روایت کا خاتمہ ہوگیا،اب پینٹاگون کا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فوجی پھانسی کو براہِ راست نشر کرنے کا منصوبہ اس تاریخی تبدیلی کو الٹنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے
امریکی فیصلے کے تناظر میں پاکستان میں 2018 کا زینب انصاری کیس بھی اہم مثال ہے،قصور میں 6 سالہ زینب کے اغوا، جنسی زیادتی اور قتل کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا تھا،مجرم عمران علی کو سزائے موت سنائی گئی تو زینب کے والد امین انصاری نے مطالبہ کیا کہ اسے سرعام پھانسی دی جائے تاکہ دوسرے ممکنہ مجرموں کے لیے عبرت کا باعث بنے،تاہم لاہور ہائی کورٹ نے سرعام پھانسی کے مطالبے سے متعلق درخواست مسترد کر دی،عمران علی کو 17 اکتوبر 2018 کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دی گئی، نہ کہ عوام کے سامنے
پاکستان میں 2020 میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے مطالبے پر قومی اسمبلی میں قرارداد بھی پیش کی گئی تھی،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے جرائم انتہائی ہولناک ہیں، لیکن سرعام پھانسی غیر معمولی سفاکی کا مظاہرہ ہے اور انسانی حقوق کا احترام کرنے والے معاشرے میں اس کی کوئی جگہ نہیں،تنظیم نے زور دیا کہ ریاست کی توجہ بچوں کو جرائم سے محفوظ رکھنے، قانون نافذ کرنے اور منصفانہ عدالتی کارروائی پر ہونی چاہیے
سرعام پھانسی کے حامی عموماً یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس سے ممکنہ مجرموں میں خوف پیدا ہوگا اور سنگین جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی،زینب کیس میں بھی سرعام سزا کا مطالبہ اسی تصور کے تحت کیا گیا تھا کہ مجرم کو سب کے سامنے سزا دینے سے دوسروں کو واضح پیغام ملے گا،لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں اس دلیل پر سوال اٹھاتی ہیں،ان کے مطابق، اس بات کا ٹھوس ثبوت نہیں کہ سرعام پھانسی جرائم کی روک تھام میں کوئی منفرد یا غیر معمولی مؤثر کردار ادا کرتی ہے،اس کے برعکس، ایسی کارروائی ریاستی سزا کو عوامی انتقام اور تماشے میں تبدیل کر سکتی ہے
اس بحث میں ایک اہم فرق بھی ملحوظ رہنا چاہیے: سزائے موت کے قانونی جواز پر اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی سزا کو عوامی تماشے میں تبدیل کرنا ایک الگ سوال ہے،جو ملک سزائے موت برقرار رکھتے ہیں، وہاں بھی سزا کے طریقۂ کار، انسانی وقار، عدالتی تحفظات اور عوامی تشہیر کے بارے میں الگ قانونی اور اخلاقی بحث ہوتی ہے
اس فیصلے کے ممکنہ عالمی اثرات کا ایک پہلو ان ملکوں سے متعلق ہے جہاں عدالتی خودمختاری، آزاد میڈیا اور جمہوری نگرانی کمزور ہے،سعودی عرب سمیت بعض ملکوں میں سرعام سزاؤں پر عمل درآمد کی مثالیں موجود ہیں،ناقدین کا خدشہ ہے کہ اگر امریکہ جیسا ملک پھانسی کو براہِ راست نشر کرکے اسے ریاستی طاقت اور جرم کے نتائج دکھانے کا ذریعہ بناتا ہے تو دوسرے ممالک کی حکومتیں بھی اسی طرزِ عمل کو جائز قرار دینے کے لیے اس مثال کا حوالہ دے سکتی ہیں
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ امریکی اعلان لازماً دوسرے ملکوں کو ایسا کرنے پر آمادہ کر دے گا،تاہم بین الاقوامی سطح پر امریکہ کے اثرورسوخ کے باعث اس کے اقدامات کو دوسری حکومتیں اپنے مؤقف کی تائید میں پیش کر سکتی ہیں،اسی لیے ناقدین کے نزدیک سوال صرف ایک مجرم کی سزا کا نہیں، بلکہ اس اصول کا بھی ہے کہ ریاست کو اپنی طاقت کا اظہار کس انداز میں کرنا چاہیے
امریکہ طویل عرصے سے انسانی حقوق، جمہوری حکمرانی اور قانون کی بالادستی کے معاملات پر دوسرے ممالک کے اقدامات پر تنقید کرتا رہا ہے،ایسے میں اگر امریکی حکومت خود سزا کو براہِ راست نشر کرنے کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اسے اپنے انسانی حقوق کے مؤقف اور عملی فیصلوں کے درمیان مطابقت کے سوال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،اس فیصلے سے ان حکومتوں کو بھی اپنے اقدامات کے دفاع کے لیے ایک مثال مل سکتی ہے جو سرعام سزاؤں کو خوف پیدا کرنے یا ریاستی اختیار کا مظاہرہ کرنے کا ذریعہ بناتی ہیں
فورٹ ہڈ حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد اور زخمی ہونے والے 32 افراد کے لیے انصاف کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا،نضال حسن کو فوجی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا اور ان کی سزا کا معاملہ اسی عدالتی فیصلے سے متعلق ہے،لیکن کسی مجرم کو سزا دینا اور اس سزا کو لاکھوں لوگوں کے لیے براہِ راست نشر کرنا دو مختلف فیصلے ہیں
پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ عوام کو سنگین جرائم کے نتائج سمجھنے چاہییں،اس کے ناقدین کا سوال ہے کہ کیا اس مقصد کے لیے پھانسی کو عوامی تماشا بنانا ضروری ہے؟ کیا قانون کی بالادستی اس وقت زیادہ مضبوط ہوتی ہے جب ریاست سزا کو قانونی طریقۂ کار کے مطابق نافذ کرتی ہے، یا جب وہ اسے عوامی انتباہ کے طور پر نشر کرتی ہے؟
امریکی منصوبے پر اصل بحث یہی ہے کہ آیا ریاست انصاف کے نفاذ کو قانون اور انسانی وقار کے دائرے میں رکھتی ہے یا سزا کو خوف پیدا کرنے کے لیے ایک عوامی منظر میں تبدیل کرتی ہے،پاکستان جیسے معاشروں میں سرعام سزا کے مطالبات، سعودی عرب جیسے ملکوں میں سزا کے عوامی مظاہرے اور امریکہ میں پھانسی کی براہِ راست نشریات کا منصوبہ ایک وسیع تر سوال سے جڑے ہیں،کیا ریاستی طاقت کا مقصد انصاف فراہم کرنا ہے یا عوام میں خوف پیدا کرنا؟ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصول اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سنگین ترین جرائم کے جواب میں بھی ریاست کو انسانی وقار، منصفانہ عدالتی عمل اور غیر انسانی سلوک سے تحفظ کے تقاضوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے

قومی خبریں سے مزید