Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکا اور برطانیہ کی جامعات سے وابستہ پاکستانی نژاد اساتذہ کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی رہائی کا مطالبہ

امریکا اور برطانیہ کی جامعات سے وابستہ پاکستانی نژاد اساتذہ کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی رہائی کا مطالبہ

امریکا اور برطانیہ کی جامعات میں تدریس سے وابستہ متعدد پاکستانی نژاد اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم نے حکومت پاکستان سے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حَضیر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمات واپس لینے اور انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے مشترکہ بیان میں اساتذہ نے پاکستان میں آزادیٔ اظہار اور قانون کی حکمرانی کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافِ رائے اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف فوجداری قوانین کا استعمال نہیں ہونا چاہیے
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے عقیل شاہ کی جانب سے شروع کیے گئے اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پر پوسٹس کے معاملے میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی بیان کے مطابق، ان پوسٹس میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کی گئی تھی
پاکستان کی سپریم کورٹ نے 17 ستمبر 2026 کو ان سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے دونوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن اس حکم کے چند گھنٹوں بعد پولیس نے انہیں ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ اساتذہ کے بیان کے مطابق، دونوں وکلا تاحال زیرِ حراست ہیں
بیان میں ایمان مزاری کی انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں اور متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کی قانونی نمائندگی کرتی رہی ہیں ہادی چٹھہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ توہینِ مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد اور سزائے موت کے قیدیوں کے مقدمات میں وکالت کرتے رہے ہیں
اساتذہ نے مؤقف اختیار کیا کہ فوجداری قوانین کو اختلافِ رائے خاموش کرانے یا انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے وکلا کو خوف زدہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنے آئینی اور بین الاقوامی قانونی وعدوں کے مطابق ریاستی اداروں پر تنقید کے حق کا تحفظ کرے اور دونوں وکلا کو مزید من مانے حراستی اقدامات سے محفوظ رکھے
مشترکہ بیان پر دستخط کرنے والوں میں ٹفٹس یونیورسٹی کی عائشہ جلال، اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز سے وابستہ عائشہ صدیقہ، پنسلوانیا یونیورسٹی کے ہاشم بن رشید، یونیورسٹی آف بریڈفورڈ کے یونس صمد، یونیورسٹی کالج لندن کی ریم خورشید اور یونیورسٹی آف وارک کی زوہا وسیم سمیت متعدد ماہرینِ تعلیم شامل ہیں ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت، عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کو اس معاملے میں اپنی آئینی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں
یہ معاملہ پاکستان میں آزادیٔ اظہار، انسانی حقوق کے دفاع اور منصفانہ عدالتی کارروائی سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بن چکا ہے اس کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سزا معطل کیے جانے کے بعد دوبارہ گرفتاری نے قانونی عمل اور ضمانت کے احکامات پر عمل درآمد کے بارے میں سوالات پیدا کیے ہیں تاہم ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف مختلف مقدمات کی قانونی کارروائی جاری ہے، اور ان پر عائد الزامات اور ان کے دفاع کا فیصلہ متعلقہ عدالتوں میں ہونا ہے

قومی خبریں سے مزید