فیصل آباد میں نہری پانی کے تنازع پر فائرنگ، باپ بیٹا قتل
پنجاب کے ضلع فیصل آباد کی تحصیل چک جھمرہ میں نہری پانی کے تنازع پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک کسان اور اس کا بیٹا جاں بحق ہو گئے پولیس کے مطابق واقعہ جمعرات کی رات چک 186 آر بی، ڈوگراں والا کے قریب سنگلہ ہل روڈ پر پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر مخالفین نے پانی کے تنازع پر باپ بیٹے کو نشانہ بنایا
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت عصمت اللہ دیال اور ان کے بیٹے محمد فہد کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم جہانزیب اور اس کے 5 ساتھی مبینہ طور پر عصمت اللہ کے ڈیرے پر پہنچے اور فائرنگ کر دی واقعے میں دونوں شدید زخمی ہوئے اور انہیں تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال چک جھمرہ منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں دم توڑ گئے
مقدمے کے مدعی حیدر علی نے الزام لگایا کہ ان کے والد عصمت اللہ اور بھائی فہد نے ملزمان کو آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والا پانی چوری کرنے سے روکا تھا، جس پر ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ملزمان فرار ہو گئے الزامات کی مزید تفتیش جاری ہے اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی
پاکستان کے زرعی علاقوں میں نہری پانی کی تقسیم پر تنازعات بعض اوقات سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں فصلوں کی آبپاشی کے لیے پانی کی دستیابی کسانوں کی آمدنی اور معاشی بقا سے براہ راست جڑی ہوتی ہے، اس لیے پانی کی باری، نہری کھالوں اور پانی کے رخ پر اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں تاہم ایسے تنازعات کو تشدد کے ذریعے حل کرنا نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتا ہے بلکہ دیہی آبادیوں میں خوف اور عدم تحفظ بھی بڑھاتا ہے
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس راؤ عبد الکریم نے ریجنل پولیس آفیسر فیصل آباد انعام الحق سے رپورٹ طلب کی اور ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی
یہ واقعہ اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ دیہی علاقوں میں پانی کی تقسیم سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے مؤثر انتظامی طریقہ کار موجود ہو اور ایسے معاملات میں بروقت مداخلت کی جائے، تاکہ معمولی اختلافات جان لیوا تصادم میں تبدیل نہ ہوں





