پاکستان میں ذہنی صحت کی پالیسی کا اصل امتحان،
مریضوں کی آواز سنے بغیر اصلاحات کامیاب نہیں ہوں گی
پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی کا اعلان ایک اہم قدم ہے، لیکن اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے عملی شکل کیسے دی جاتی ہے اور کیا ذہنی بیماریوں سے گزرنے والے افراد کی ضروریات کو فیصلوں میں حقیقی اہمیت دی جاتی ہے عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ذہنی صحت سے متعلق قوانین اور منصوبے صرف سرکاری اجلاسوں اور اعلانات تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ ان لوگوں کے تجربات کو بھی شامل کرنا چاہیے جو خود ان مسائل کا سامنا کر چکے ہیں
پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل صرف کسی فرد کی بیماری یا نفسیاتی کیفیت تک محدود نہیں گھریلو ماحول، معاشرتی رویے، تعلیمی ادارے، کام کی جگہیں، معاشی مشکلات اور صنفی امتیاز بھی لوگوں کی ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہوتے ہیں بعض نوجوان لڑکیوں کے لیے تعلیمی اداروں میں ہراسانی یا جنسی تشدد کے الزامات کے واقعات کے بعد والدین کی جانب سے تعلیم جاری رکھنے پر پابندیاں بڑھ جاتی ہیں اس صورت حال میں لڑکیوں کی تعلیم اور مستقبل کے خواب متاثر ہوتے ہیں، جبکہ خوف، بے چینی اور مایوسی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے
مردوں اور لڑکوں کو بھی معاشرتی توقعات کے باعث ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے بہت سے لڑکوں کو بچپن ہی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ رونا کمزوری کی علامت ہے اور اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرنا چاہیے اس تربیت کے نتیجے میں وہ پریشانی، خوف یا اداسی کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے ہیں بعض افراد نیند کی خرابی اور مسلسل ذہنی دباؤ کے باوجود اپنے گھر والوں کو یہ نہیں بتاتے کہ انہیں مدد کی ضرورت ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ خاندان انہیں کمزور یا ذہنی طور پر بیمار سمجھے گا
پاکستان میں ذہنی بیماریوں سے متعلق سماجی بدنامی بھی علاج کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ڈپریشن، اضطراب، نفسیاتی عوارض اور صدمے کے اثرات کو بعض حلقوں میں بیماری کے بجائے اخلاقی کمزوری، روحانی مسئلہ یا خاندانی شرمندگی سمجھا جاتا ہے اس سوچ کی وجہ سے لوگ طویل عرصے تک علاج سے دور رہتے ہیں اور بعض اوقات مستند طبی ماہرین سے رجوع کرنے کے بجائے غیر تربیت یافتہ افراد سے مدد لیتے ہیں حالانکہ بہت سے ذہنی صحت کے مسائل کی تشخیص اور علاج ممکن ہے اور بروقت مدد سے متاثرہ افراد کی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے
پاکستان میں ذہنی صحت کے ماہرین کی شدید کمی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ ملک کی آبادی 25 کروڑ سے زیادہ ہے، جبکہ دستیاب اندازوں کے مطابق نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی تعداد تقریباً 500 اور ماہر نفسیات کی تعداد بھی تقریباً اتنی ہی ہے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے ماہرین کی کمی خاص طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ ملک میں بچوں اور نوعمروں کے لیے نفسیاتی علاج فراہم کرنے والے ماہر ڈاکٹروں کی تعداد 10 سے بھی کم بتائی گئی ہے ماہرین نفسیات کے لیے یکساں تربیتی معیار اور پیشہ ورانہ نگرانی کا مؤثر نظام نہ ہونے سے بھی علاج کے معیار اور جواب دہی کے بارے میں سوالات پیدا ہوتے ہیں
یکم اکتوبر کو قومی ذہنی صحت پالیسی کا آغاز اس شعبے کو سرکاری ترجیحات میں شامل کرنے کی جانب ایک قدم ہے تاہم پالیسی کا اعلان اور اس پر مؤثر عمل درآمد دو مختلف مراحل ہیں پاکستان جیسے ملک میں، جہاں صحت کے شعبے کو محدود وسائل، معاشی دباؤ اور ماہرین کی کمی کا سامنا ہے، وہاں پالیسی کو کامیاب بنانے کے لیے واضح منصوبہ بندی، مناسب بجٹ اور طویل مدتی سرمایہ کاری درکار ہوگی
اس سلسلے میں ضروری ہے کہ یہ طے کیا جائے کہ کن اضلاع میں ذہنی صحت کی خدمات فراہم کی جائیں گی، ان خدمات کے لیے کون ذمہ دار ہوگا، مریضوں کی نگرانی کیسے کی جائے گی اور نتائج کو کس طرح جانچا جائے گا صرف عمومی اہداف مقرر کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے حکومت کو تربیت، عوامی آگاہی، طبی نگرانی اور علاج کی سہولتوں کے لیے مستقل مالی وسائل مختص کرنا ہوں گے
ذہنی صحت کی پالیسی کی تیاری اور نفاذ میں ماہر نفسیات، ماہرین نفسیاتی امراض، بچوں کے ڈاکٹروں، اساتذہ، سماجی کارکنوں، قانونی ماہرین، محققین اور خود ذہنی بیماریوں سے گزرنے والے افراد کو شامل کرنا بھی ضروری ہے مقامی حالات کو سمجھنے والے طبی ماہرین جانتے ہیں کہ پاکستان کے ضلعی اسپتالوں، مصروف کلینکوں اور عام خاندانوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے اس لیے بیرون ملک کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ پاکستان کی ضروریات کے مطابق طریقۂ کار اختیار کرنا اہم ہوگا
ملک میں سیلاب، شدید گرمی، بے گھر ہونے، مہنگائی، معاشی غیر یقینی، صنفی تشدد اور علاقائی تنازعات کے اثرات بھی لوگوں کی ذہنی صحت پر پڑتے ہیں ان حالات میں علاج کے ایسے نظام کی ضرورت ہے جو صرف بڑے شہروں اور مہنگے نجی مراکز تک محدود نہ ہو بلکہ عام شہریوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کو بھی دستیاب ہو
ذہنی صحت کی پالیسی کو مؤثر بنانے کے لیے معاشرے میں یہ شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ مدد طلب کرنا کمزوری نہیں۔ جس لڑکی کو تعلیم جاری رکھنے کے لیے تحفظ درکار ہے، جس لڑکے کو اپنے جذبات کے اظہار کی آزادی چاہیے اور جس بالغ شخص نے برسوں سے ذہنی پریشانی چھپا رکھی ہے، ان سب کی بات سنی جانی چاہیے ان کے تجربات کو پالیسی میں جگہ دیے بغیر ایسے نظام کی تشکیل مشکل ہے جو حقیقی ضروریات کا جواب دے سکے
پاکستان کی قومی ذہنی صحت پالیسی ایک وعدہ ہے، لیکن اس وعدے کی تکمیل کے لیے مستقل حکومتی توجہ، تربیت یافتہ ماہرین، مناسب بجٹ، قابلِ اعتماد نگرانی اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی ضروری ہوگی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ذہنی صحت کا علاج عام شہری کی پہنچ میں ہو اور فیصلے ان لوگوں کی آواز سن کر کیے جائیں جن کی زندگیوں پر ان کا براہ راست اثر پڑتا ہے





