ریفارم یوکے،کے سربراہ کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، ملزم کا انتہا پسند بائیں بازو سے تعلق ہونے کا دعویٰ
برطانیہ میں استغاثہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ریفارم یو کے کے سربراہ نائجل فراج کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش اور سابق برطانوی وزیر این وِڈیکومب کے قتل کے مقدمے میں نامزد 28 سالہ ملزم جوشوا کیری انتہا پسند بائیں بازو کے نظریات اور ریفارم یو کے سے شدید مخالفت سے متاثر تھا
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، استغاثہ نے جمعہ کو عدالت میں بتایا کہ کیری نے مئی 2024 سے جولائی میں وِڈیکومب کے قتل تک متعدد سیاست دانوں اور عوامی شخصیات کے گھروں یا دفاتر کے پتے تلاش کیے تھے،وِڈیکومب فراج کی امیگریشن مخالف جماعت ریفارم یو کے کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتی تھیں اور انہیں ان کے گھر میں قتل کیے جانے کا الزام ہے
کیری پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے اپریل 2025 میں نائجل فراج کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی،فراج گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران برطانوی سیاست کی بااثر اور متنازعہ شخصیات میں شامل رہے ہیں،انہیں 2016 میں یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت برقرار رکھنے یا ختم کرنے کے ریفرنڈم کی مہم میں اہم کردار ادا کرنے کا سہرا بھی دیا جاتا ہے
استغاثہ کے وکیل جوناتھن پولنے نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں استغاثہ کا مؤقف ہوگا کہ ملزم انتہا پسند بائیں بازو یا نظام مخالف سوچ رکھتا تھا،ان کے مطابق، استغاثہ اس مؤقف کی تائید میں ان شخصیات کو نشانہ بنانے کے مبینہ اقدامات کا حوالہ دے سکتا ہے جن کے خلاف ملزم نے کارروائی کی، جبکہ ریفارم یو کے کے خلاف اس کی خصوصی عداوت بھی مقدمے کا اہم پہلو ہوگی
استغاثہ کا کہنا ہے کہ این وِڈیکومب کے قتل کو بھی اسی مبینہ نظریاتی مخالفت کے تناظر میں پیش کیے جانے کا امکان ہے





