Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان کو 12 سے 15 حصوں میں بانٹنے کا منصوبہ؟ دی اکانومسٹ کا عاصم منیر کو اقتدار سے پیچھے ہٹنے کا مشورہ، چھوٹے صوبوں کی تجویز پر سنگین سوالات

پاکستان کو 12 سے 15 حصوں میں بانٹنے کا منصوبہ؟ دی اکانومسٹ کا عاصم منیر کو اقتدار سے پیچھے ہٹنے کا مشورہ، چھوٹے صوبوں کی تجویز پر سنگین سوالات

پاکستان کی سیاسی اور انتظامی تقسیم کا نقشہ تبدیل کرنے کی مبینہ تجویز نے ملک کے مستقبل، وفاقی ڈھانچے اور فوجی قیادت کے اختیارات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے،برطانوی جریدے دی اکانومسٹ سے منسوب ایک تبصرے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان کو چھوٹے انتظامی حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ محض بہتر حکمرانی کی کوشش نہیں، بلکہ ملک کو ایک طاقتور شخصیت کے مطالبات کے مطابق چلانے کے لیے زیادہ قابلِ کنٹرول بنانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے،جریدے کے ایکس اکاؤنٹ پر شائع ہونے والے پیغام میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے مفاد میں انہیں پیچھے ہٹ جانا چاہیے
اس بحث کا مرکزی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے بڑے صوبوں کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنے سے انتظامی مسائل حل ہوں گے، یا اس تبدیلی کے نتیجے میں صوبائی خودمختاری اور سیاسی طاقت کا موجودہ توازن مزید تبدیل ہو جائے گا؟
پاکستان میں اس وقت سندھ پنجاب بلوچستان خیبر پختون خواہ، چار صوبے ہیں
دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے بارے میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، ان صوبوں کو 12 سے 15 نئی اکائیوں میں تقسیم کرنے یا ملک میں تقریباً 160 چھوٹی انتظامی اکائیاں قائم کرنے کے امکانات زیر بحث ہیں،تاہم ان دونوں تجاویز میں فرق ہے،12 سے 15 صوبوں کی تشکیل صوبائی حدود اور آئینی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی ہوگی، جبکہ 160 اکائیوں کا تصور اضلاع یا مقامی انتظامی نظام کی ازسرنو تشکیل سے متعلق بھی ہو سکتا ہے
اس منصوبے کی سیاسی اہمیت سمجھنے کے لیے پاکستان کے موجودہ صوبوں کی تاریخ اور طاقت کو دیکھنا ضروری ہے،پنجاب ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے، جہاں تقریباً 12 کروڑ 80 لاکھ افراد آباد ہیں،دوسری جانب رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ہے، لیکن اس کی آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے،ان دونوں صوبوں کے مسائل، آبادی، جغرافیہ اور انتظامی ضروریات ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہیں
چھوٹے صوبے بنانے کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہ دی جا سکتی ہے کہ اس سے حکومت کو شہریوں کے قریب لایا جا سکتا ہے،پنجاب کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کو سرکاری خدمات حاصل کرنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں،دی اکانومسٹ سے متعلق شائع ہونے والی تفصیلات میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے بنیادی مسائل کا بھی ذکر کیا گیا ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صوبوں کی تقسیم سے یہ مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے، یا اس کے لیے انتظامی صلاحیت، مالی وسائل، جواب دہی اور بہتر پالیسیوں کی ضرورت ہوگی؟
اس بحث کا سب سے حساس پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے صوبے صرف انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ سیاسی طاقت کے بڑے مراکز بھی ہیں،پنجاب طویل عرصے سے پاکستان مسلم لیگ ن کا مضبوط سیاسی مرکز رہا ہے، جبکہ سندھ پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے،ان صوبوں کی آبادی، انتخابی نشستیں اور سیاسی اثرورسوخ انہیں وفاقی حکومت کے مقابلے میں ایک حد تک طاقت فراہم کرتے ہیں
اگر ان بڑے صوبوں کو کئی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تو ان کی سیاسی طاقت بھی مختلف حصوں میں بٹ سکتی ہے،اس کے نتیجے میں وفاقی مرکز کا اثرورسوخ بڑھنے کا امکان ہے، خصوصاً اس صورت میں جب نئی اکائیوں کی قیادت اور انتظامی ڈھانچہ مرکزی حکومت پر زیادہ انحصار کرنے لگے،اسی لیے یہ معاملہ محض انتظامی اصلاحات کا نہیں بلکہ پاکستان میں طاقت کی تقسیم کا سوال بھی بن جاتا ہے
دی اکانومسٹ نے اس خدشے کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ پاکستان کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ ملک کو ایک شخص کے مطالبات کے مطابق زیادہ آسانی سے چلانے کے لیے ہو سکتا ہے،جریدے نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مشورہ دیا کہ وہ ملک کے مفاد میں پیچھے ہٹ جائیں،
اس تجویز کے پس منظر میں عاصم منیر کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور ریاستی اثرورسوخ کا معاملہ بھی اہم ہے،پاکستان میں منتخب حکومت اور فوج کے درمیان طاقت کا توازن ایک طویل عرصے سے زیر بحث رہا ہے، لیکن موجودہ دور میں فوجی قیادت کے کردار پر سوالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں،اکتوبر 2026 میں رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب میں اضافی پاکستانی فوجی دستے بھیجنے کے معاملے نے بھی پارلیمانی نگرانی اور فوجی قیادت کے بڑھتے ہوئے اختیار پر بحث کو جنم دیا
عاصم منیر کے حامی چھوٹے صوبوں کے تصور کو بہتر انتظام، مقامی ضروریات کے مطابق حکمرانی اور وسائل کی مؤثر تقسیم کے طور پر پیش کر سکتے ہیں،پاکستان جیسے بڑی آبادی والے ملک میں یہ دلائل اپنی جگہ اہم ہیں،تاہم کسی بھی اصلاح کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئے صوبوں کو حقیقی مالی اور آئینی خودمختاری ملتی ہے یا نہیں، مقامی نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں یا نہیں، اور وسائل کی تقسیم شفاف طریقے سے ہوتی ہے یا نہیں
اس سلسلے میں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ زیادہ صوبے بنانے کا خیال نیا نہیں،منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال بھی ماضی میں زیادہ صوبوں اور چھوٹی انتظامی اکائیوں کی ضرورت پر بات کر چکے ہیں،لہٰذا اس تصور کو مکمل طور پر عاصم منیر کی ایجاد قرار دینا درست نہیں ہوگا،اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ ایسی تبدیلی کس طریقے سے کی جائے گی، اس کا اختیار کس کے پاس ہوگا اور اس سے فائدہ عوام کو پہنچے گا یا طاقت کے موجودہ مراکز مزید مضبوط ہوں گے
پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل آئینی اور سیاسی اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں،اس کے لیے آئین میں ترمیم اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی منظوری سمیت آئینی تقاضے پورے کرنا ہوں گے،سندھ میں صوبے کی تقسیم کی تجاویز کی مخالفت پہلے ہی سامنے آ چکی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صرف وفاقی سطح پر فیصلہ کرکے آگے نہیں بڑھایا جا سکتا،صوبائی شناخت، زبان، وسائل، ملازمتوں، پانی اور سیاسی نمائندگی سے متعلق خدشات اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں
اس پورے معاملے میں بنیادی سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں چار صوبے ہونے چاہییں یا پندرہ،اصل سوال یہ ہے کہ آیا کسی نئی انتظامی تقسیم سے شہریوں کو بہتر تعلیم، صحت، پانی، روزگار اور انصاف ملے گا، یا موجودہ سیاسی قوتوں کو کمزور کرکے اختیارات مزید چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں گے
دی اکانومسٹ کے مضمون کا مرکزی نکتہ بھی یہی ہے کہ ریاستی ڈھانچے کی تبدیلی کو محض انتظامی اصلاحات کے نام پر نہیں دیکھا جانا چاہیے،اگر مقصد عوامی خدمات بہتر بنانا ہے تو اس کے لیے شفاف منصوبہ بندی، مالی وسائل، منتخب اداروں کی خودمختاری اور عوامی مشاورت ضروری ہیں،لیکن اگر چھوٹی اکائیوں کی تشکیل سے صوبائی سیاسی طاقت کم اور مرکزی کنٹرول زیادہ ہو جائے تو ایسی تبدیلی پاکستان کے وفاقی نظام کے لیے ایک بنیادی چیلنج بن سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید