سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کو یمن کی جنگ میں الجھنے کا خدشہ، ایران سے تعلقات برقرار رکھنا بڑا امتحان
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے وعدوں نے اسلام آباد کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ 5 اکتوبر کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے ہنگامی اجلاس میں اجتماعی دفاع کی شق فعال کیے جانے کے بعد پاکستان اور ترکیہ کے لیے سعودی عرب کے دفاع میں تیزی سے فوجی تعیناتی کی راہ کھل سکتی ہے اس صورت حال میں پاکستان کو ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی وعدے پورے کرنے ہیں اور دوسری طرف پڑوسی ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو بگڑنے سے بچانا ہے
یہ صورت حال 2015 میں سامنے آنے والے یمن کے بحران کی یاد دلاتی ہے، جب سعودی عرب نے پاکستان سے حوثی باغیوں کے خلاف قائم کیے گئے اتحاد میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی اس وقت پاکستان کی مسلم لیگ ن کی حکومت نے پارلیمانی بحث کے بعد جنگ میں براہ راست شمولیت سے گریز کیا تھا اس فیصلے کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایران سمیت خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ کشیدگی سے بچنا تھا اب دفاعی معاہدوں کے نئے تناظر میں اسلام آباد کو اسی نوعیت کے سوالات کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ صورت حال 2015 سے مختلف ہے کیونکہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باقاعدہ دفاعی وعدے کیے ہیں
یمن کا تنازع کئی دہائیوں سے جاری سیاسی اور مسلح کشمکش کا حصہ ہے حوثی تحریک نے ملک کے بڑے حصوں، بشمول دارالحکومت صنعاء، پر اپنا کنٹرول قائم کیا تھا۔ 2015 میں سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کی، جو 2022 تک بڑے پیمانے پر جاری رہی اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی ہوئی، لیکن سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان مستقل امن معاہدہ تاحال ایک اہم چیلنج رہا ہے اگر سعودی عرب کے دفاع کے لیے طویل عرصے تک فوجی مدد درکار ہوئی تو پاکستان کے لیے اس میں شمولیت کے عملی اور سفارتی نتائج بھی طویل ہو سکتے ہیں
پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے دفاع میں کسی بھی فوجی کارروائی کو ایران اپنے خلاف اقدام سمجھ سکتا ہے پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جہاں ماضی میں سرحد پار حملوں، مسلح گروہوں اور سکیورٹی کے مسائل پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے اگر پاکستان کسی ایسے فوجی تنازع میں الجھ گیا جس میں ایران یا اس کے اتحادی گروہ مخالف جانب ہوں تو بلوچستان میں سکیورٹی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، سرحدی حالات خراب ہو سکتے ہیں اور علاقائی تجارت متاثر ہو سکتی ہے
اس لیے پاکستان کے لیے محض فوجی وعدے پورے کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے بیک وقت فعال سفارت کاری بھی کرنا ہوگی سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون برقرار رکھنے کے ساتھ تہران کے ساتھ مسلسل رابطہ ضروری ہوگا، تاکہ کسی فوجی تعیناتی یا دفاعی اقدام کو ایران کے خلاف جارحانہ تیاری نہ سمجھا جائے اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے فوجی رابطوں، خفیہ معلومات کے تبادلے اور فوری رابطے کے مستقل نظام کی ضرورت ہو سکتی ہے
پاکستان اس صورت حال میں ثالثی کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے اسلام آباد کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ اس کے جغرافیائی، تجارتی اور سکیورٹی روابط بھی اہم ہیں۔ اگر پاکستان ریاض اور تہران کے درمیان براہ راست بات چیت کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اپنے دفاعی وعدوں کے باعث پیدا ہونے والے خدشات کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے
اس سفارتی کوشش میں چین کی شمولیت بھی اہم ہو سکتی ہے چین نے 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے میں ثالثی کی تھی اس کے دونوں ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات ہیں اور ایران کے ساتھ جامع تزویراتی شراکت داری بھی موجود ہے پاکستان اور چین مشترکہ طور پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان طویل مدتی امن معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں کر سکتے ہیں، جس میں سکیورٹی ضمانتوں اور اقتصادی تعاون کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے
دفاعی معاہدے کے عملی نفاذ کے ساتھ پاکستان اور ایران کے درمیان غلط فہمیوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے فوجی نقل و حرکت، دفاعی تیاریوں یا انٹیلی جنس سرگرمیوں کو دوسرے ملک کی جانب سے مختلف انداز میں دیکھا جا سکتا ہے ایسے ماحول میں مستقل رابطے اور واضح سفارتی وضاحت کی عدم موجودگی کسی محدود واقعے کو بڑے بحران میں تبدیل کر سکتی ہے
پاکستان کے لیے سعودی عرب کی اقتصادی اہمیت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ سعودی عرب ماضی میں پاکستان کو مالی معاونت، سرمایہ کاری اور ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں میں مدد فراہم کرتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے لیے ریاض کے ساتھ دفاعی وعدوں سے پیچھے ہٹنا آسان نہیں ہوگا تاہم ایران کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کی صورت میں سرحدی سلامتی اور علاقائی تجارت پر پڑنے والے اثرات بھی پاکستان کے مفادات کے خلاف جا سکتے ہیں
موجودہ صورت حال میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ تصادم سے کیسے بچتا ہے اگر اسلام آباد دفاعی تعاون کے ساتھ سفارتی رابطوں اور علاقائی ثالثی کو بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھاتا ہے تو اسے خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے اس کے برعکس، اگر پاکستان کسی وسیع علاقائی تنازع میں براہ راست شامل ہو گیا تو اس کے اثرات صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملکی سلامتی، معیشت اور علاقائی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں





