Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت میں آن لائن صحافت پر پابندیاں تیز، سوشل میڈیا کو مواد ہٹانے کے لیے صرف 3 گھنٹے

بھارت میں آن لائن صحافت پر پابندیاں تیز، سوشل میڈیا کو مواد ہٹانے کے لیے صرف 3 گھنٹے

بھارت میں 2026 کے آغاز سے صحافتی مواد کو سوشل میڈیا سے ہٹانے اور صحافیوں و خبر رساں اداروں کے اکاؤنٹس بند کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق، نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حکومتی اعتراض کے بعد مواد ہٹانے کے لیے صرف 3 گھنٹے دیے جاتے ہیں، جبکہ اس سے پہلے یہ مدت 36 گھنٹے تھی تنظیم کا کہنا ہے کہ اتنے کم وقت میں کسی درخواست کی مکمل جانچ کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور اس سے صحافتی آزادی اور عوام کے معلومات تک رسائی کے حق کو نقصان پہنچ سکتا ہے
تنظیم کے مطابق، بھارت میں کشمیر میں فائرنگ کے واقعات سے متعلق تحقیقاتی رپورٹوں، گوگل کے ڈیٹا سینٹر کے منصوبے کے لیے مقامی آبادی کی مبینہ جبری بے دخلی اور پولیس تشدد کا دعویٰ کرنے والے ایک طالب علم کی ویڈیو سمیت مختلف صحافتی مواد کو حکام کی درخواست پر سوشل میڈیا سے ہٹایا گیا ان اقدامات کے باعث صحافیوں کے لیے یہ جاننا بھی مشکل ہو رہا ہے کہ مواد کس سرکاری ادارے کی درخواست پر، کس قانونی شق کے تحت اور کن وجوہات کی بنا پر ہٹایا گیا
نئی دہلی میں آن لائن آزادیوں کے لیے کام کرنے والے ادارے سافٹ ویئر فریڈم لا سینٹر نے بتایا کہ 2026 میں صحافیوں یا ذرائع ابلاغ کے اداروں کے مواد کو ہٹانے اور ان کے اکاؤنٹس بند کرنے کے 40 واقعات ریکارڈ کیے گئے تاہم ادارے کے مطابق، ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے
بھارتی حکومت کی جانب سے مواد ہٹانے کی درخواستوں کی تعداد میں بھی غیر معمولی اضافہ سامنے آیا ہے رپورٹ کے مطابق، بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے حاصل کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ مارچ سے جولائی 2026 کے دوران حکومت نے سہیوگ نامی آن لائن پورٹل کے ذریعے تقریباً 200,000 مواد ہٹانے کے احکامات جاری کیے اس کے مقابلے میں اکتوبر 2024 سے اکتوبر 2025 تک ایسے احکامات کی تعداد صرف 2,312 تھی
سہیوگ پورٹل اکتوبر 2024 میں وزارت داخلہ نے متعارف کرایا تھا اس کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے مواد فوری طور پر ہٹانے کی درخواست کر سکتے ہیں رپورٹ کے مطابق، اس نظام کے ذریعے کارروائی خودکار ہونے سے مواد ہٹانے کا عمل تیز ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ خدشات بھی بڑھ گئے ہیں کہ بعض درخواستوں پر مناسب جانچ پڑتال کے بغیر عمل درآمد ہو سکتا ہے
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بتایا کہ فروری 2026 میں انسٹاگرام پر بھارتی خبر رساں ادارے دی وائر کا اکاؤنٹ تقریباً 2 گھنٹے کے لیے بند کر دیا گیا تھا یہ کارروائی وزیراعظم نریندر مودی پر تنقیدی خاکہ شائع کرنے کے بعد ہوئی اکاؤنٹ بحال کر دیا گیا لیکن متعلقہ پوسٹ انسٹاگرام اور فیس بک پر دستیاب نہیں رہی اور اسے ایکس پر بھی روکا گیا
مارچ میں میٹا نے کشمیر کے 3 معروف ذرائع ابلاغ، گریٹر کشمیر، رائزنگ کشمیر اور کشمیر لائف کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بند کر دیے ان اقدامات کی وجوہات عوامی طور پر واضح نہیں کی گئیں اسی دوران پسماندہ اور محروم طبقات کے مسائل اجاگر کرنے والے بعض ڈیجیٹل اداروں کے صفحات بھی بند کیے گئے ان میں دلت برادریوں اور قبائلی آبادی کے مسائل پر رپورٹنگ کرنے والا ادارہ نیشنل دستک بھی شامل تھا۔
مئی میں ماحولیاتی رپورٹنگ کے ایک ادارے کی انسٹاگرام ویڈیو کو بھارت میں روک دیا گیا اس ویڈیو میں آندھرا پردیش کے شہر وشاکھاپٹنم میں گوگل کے مجوزہ ڈیٹا سینٹر اور اڈانی گروپ کے ساتھ اس کے منصوبے پر رپورٹنگ کی گئی تھی رپورٹ میں دلت برادری کے افراد کی مبینہ جبری بے دخلی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا تھا ویڈیو کو ہٹائے جانے سے پہلے 2.6 ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا قانونی مداخلت کے بعد اسے 10 ستمبر کو دوبارہ بحال کیا گیا
جولائی میں نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج سے متعلق مواد بھی سوشل میڈیا پر محدود کیا گیا آزاد صحافی سادھیکا تیواری کی ایک ویڈیو، جس میں ایک طالب علم پولیس تشدد کا الزام لگاتے ہوئے نظر آتا ہے، ایکس پر بھارت میں ناقابل رسائی ہو گئی اسی موضوع پر دی وائر کی فیس بک اور انسٹاگرام پوسٹس بھی روکی گئیں کشمیر میں دستی بم حملوں کے متاثرین سے متعلق اخبار دی ہندو کی ایک پوسٹ کو بھی انسٹاگرام پر بلاک کیا گیا
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق، ستمبر میں مدھیہ پردیش کی ایک قبائلی آبادی کو درپیش صحت کے بحران پر رپورٹ شائع کرنے کے بعد 3 آزاد صحافیوں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس معطل کیے گئے، تاہم بعد میں یہ اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج میں شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق ایک رپورٹ بھی روکی گئی اسی مہینے تاریخی مسجد کے انہدام پر ایک پوسٹ کو بھارتی پولیس کی درخواست پر ایکس سے ہٹا دیا گیا، تاہم بعد میں اسے بحال کر دیا گیا
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافتی اداروں اور صحافیوں کے خلاف من مانی پابندیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے، ہر پابندی کی قانونی بنیاد عوام کے سامنے رکھی جائے اور کسی صحافتی مواد کو ہٹانے سے پہلے آزادانہ جانچ کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تنظیم نے میٹا، ایکس اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ صحافیوں یا خبر رساں اداروں سے متعلق حکومتی درخواستوں پر کارروائی سے پہلے انسانی اور قانونی جانچ یقینی بنائی جائے، متاثرہ اداروں کو پابندی کی وجہ اور اپیل کے طریقے سے آگاہ کیا جائے اور غلط طور پر ہٹائے گئے صحافتی مواد کو فوری بحال کیا جائے۔
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ سوشل میڈیا اب بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے خبروں اور عوامی معاملات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے اگر صحافتی مواد کو چند گھنٹوں میں ہٹایا جا سکے اور اس فیصلے کی وجہ واضح نہ ہو تو نہ صرف صحافیوں کی تحقیقاتی رپورٹنگ متاثر ہو سکتی ہے بلکہ شہریوں کے لیے حکومتی اقدامات، پولیس کارروائیوں اور عوامی مفاد کے معاملات پر آزادانہ معلومات حاصل کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے تاہم مواد ہٹانے کے ہر حکم کی قانونی حیثیت اور اس کے مخصوص جواز کا جائزہ الگ سے لینا ضروری ہے

قومی خبریں سے مزید