Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں مولانا فضل الرحمٰن کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں مولانا فضل الرحمٰن کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

اسلام آباد میں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا نام ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے دونوں جانب سے ان سے رابطوں اور سیاسی معاملات میں کردار ادا کرنے کی بات سامنے آنے کے بعد سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا مولانا دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ 
مولانا فضل الرحمٰن کے پاس ماضی کی نسبت پارلیمانی نشستیں کم ہیں، لیکن پاکستانی سیاست میں ان کے تجربے اور مختلف جماعتوں سے رابطوں کو اب بھی اہم سمجھا جاتا ہے جمعیت علمائے اسلام کے قومی اسمبلی میں 10، خیبر پختونخوا اسمبلی میں 18 اور بلوچستان اسمبلی میں 12 ارکان ہیں، جبکہ سینیٹ میں جماعت کے 7 ارکان موجود ہیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان دونوں میں جمعیت اپوزیشن میں ہے، جس کی وجہ سے صوبائی حکومتوں پر اس کا براہ راست اثر محدود ہے
حکومت کی جانب سے مذاکرات میں مولانا کے کردار کے بارے میں ابھی تک واضح یقین دہانی سامنے نہیں آئی وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ مولانا سے ملاقات ہوئی تھی، لیکن انہوں نے حکومت اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ضمانت نہیں دی پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے بھی دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے اندر مولانا کی مداخلت کے معاملے پر اختلاف پایا جاتا ہے
دوسری جانب پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کہا ہے کہ پارٹی نے مولانا فضل الرحمٰن کو ثالثی کا کردار ادا کرنے کا اختیار دیا ہے، تاہم ان کے مطابق مولانا نے اب تک حکومت کی جانب سے کوئی پیشکش پی ٹی آئی تک نہیں پہنچائی
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورت حال میں دونوں فریق کسی نہ کسی طریقے سے سیاسی نقصان سے بچنے اور اپنے لیے قابل قبول راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں پی ٹی آئی اپنے بانی عمران خان سے جیل میں ملاقات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ پارٹی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ختم کرے یہ مارچ خیبر پختونخوا میں جاری ہے، اور خدشہ ہے کہ سیاسی تناؤ بڑھنے کی صورت میں دارالحکومت میں دوبارہ تصادم ہو سکتا ہے
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے صدر احمد بلال محبوب کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن دونوں فریقوں کو بات چیت پر آمادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کے مطابق موجودہ نازک سیاسی صورت حال میں دونوں جانب ایسا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے جس سے کوئی فریق اپنی پوزیشن مکمل طور پر ترک کیے بغیر مذاکرات شروع کر سکے
مولانا کی جماعت نے اپنے کردار کو ثالث کے بجائے سہولت کار قرار دیا ہے جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان اسلم غوری کے مطابق جماعت کی ترجیح یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دوبارہ مذاکرات شروع کریں ان کا کہنا ہے کہ جمعیت نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کثیر الجماعتی کانفرنس بلانے کی تجویز بھی دی ہے، جہاں سیاسی اور سکیورٹی معاملات پر گفتگو ہو سکے
اسلم غوری نے خیبر پختونخوا کی صورت حال پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ مذاکرات کی بحالی سے پی ٹی آئی کو فائدہ ہو سکتا ہے انہوں نے صوبے میں دفعہ 144 کے نفاذ اور پشاور میں لانگ مارچ روکنے کے لیے سڑکوں پر کنٹینر لگانے کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ یہ فیصلے کس کے حکم پر کیے گئے
مولانا فضل الرحمٰن اس سے پہلے بھی اہم سیاسی معاملات میں نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ تھے، جس کی تحریک کے نتیجے میں 2022 میں عمران خان کی حکومت ختم ہوئی اس سے قبل 2019 میں ان کی جماعت نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا اور عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا
26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت بھی جمعیت علمائے اسلام کے ارکان کی حمایت اہم ثابت ہوئی تھی تاہم بعد کے سیاسی حالات اور 27ویں آئینی ترمیم کے مرحلے پر جماعت کے پارلیمانی اثر و رسوخ میں کمی نمایاں ہوئی اس کے باوجود مولانا کا سیاسی تجربہ اور مختلف جماعتوں سے روابط انہیں مذاکرات کے لیے ایک ممکنہ رابطہ کار بناتے ہیں
فی الحال اصل سوال یہ ہے کہ آیا حکومت اور پی ٹی آئی مولانا کے ذریعے بات چیت کے لیے واضح شرائط طے کرنے پر تیار ہوں گے یا نہیں جمعیت کی جانب سے مذاکرات کی کوششوں کا ذکر ضرور سامنے آیا ہے، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان قابل قبول پیشکش اور باقاعدہ مذاکراتی عمل شروع ہونے تک کسی پیش رفت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا

قومی خبریں سے مزید