Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ستمبر میں کینیڈا میں 68,000 ملازمتیں ختم، بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 6.5 فیصد ہوگئی

ستمبر میں کینیڈا میں 68,000 ملازمتیں ختم، بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 6.5 فیصد ہوگئی

کینیڈا میں ستمبر 2026 کے دوران روزگار کی صورت حال مزید خراب ہوگئی، جب ملک میں تقریباً 68,000 ملازمتیں ختم ہوگئیں مسلسل دوسرے مہینے ملازمتوں میں کمی کے باعث بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 6.5 فیصد ہوگئی اگست میں بھی ملک میں تقریباً 42,000 ملازمتیں کم ہوئی تھیں ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا کی ملازمتوں کی منڈی کو دباؤ کا سامنا ہے
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر میں ملازمتوں کی کمی کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑا۔ 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد کے لیے 48,000 ملازمتیں کم ہوئیں اگست اور ستمبر کو ملا کر نوجوانوں کی ملازمتوں میں 67,000 کی کمی ہوئی، جس سے رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں حاصل ہونے والے فوائد ختم ہوگئے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 13 فیصد کے قریب رہی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار حاصل کرنا اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے
خواتین بھی روزگار میں کمی سے متاثر ہوئیں۔ 25 سے 54 سال کی عمر کی خواتین میں ملازمتیں 28,000 کم ہوئیں، جبکہ اس عمر کی خواتین میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 5.3 فیصد ہوگئی اس کے برعکس، اسی عمر کے مردوں میں بے روزگاری کی شرح قدرے کم ہوکر 5.8 فیصد رہی
مختلف شعبوں میں بھی ملازمتوں کی صورت حال یکساں نہیں رہی تعلیمی خدمات کے شعبے میں 35,000 ملازمتیں کم ہوئیں، جبکہ صحت اور سماجی خدمات کے شعبے میں 23,000 ملازمتوں کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ کارخانوں اور پیداواری صنعت میں بھی 13,000 ملازمتیں ختم ہوئیں دوسری جانب، مرمت، دیکھ بھال اور گھریلو خدمات سمیت دیگر خدمات کے شعبوں میں 17,000 ملازمتوں کا اضافہ ہوا
سرکاری شعبے میں ملازمتوں کی کمی بھی قابل توجہ ہے ستمبر میں سرکاری ملازمین کی تعداد 70,000 کم ہوئی، جبکہ یہ کمی مسلسل چوتھے مہینے جاری رہی گزشتہ 12 ماہ کے دوران سرکاری شعبے میں ملازمین کی تعداد 119,000 کم ہوچکی ہے، جس میں تعلیمی خدمات کا نمایاں حصہ ہے اس کے برعکس، نجی شعبے میں ملازمتوں کی تعداد ایک سال پہلے کے مقابلے میں 163,000 زیادہ رہی، اگرچہ ستمبر میں اس شعبے میں کوئی نمایاں ماہانہ اضافہ نہیں ہوا
صوبوں کے لحاظ سے کیوبیک میں 49,000 ملازمتیں کم ہوئیں، جبکہ برٹش کولمبیا میں یہ تعداد 20,000 رہی اونٹاریو میں ملازمتوں کی تعداد میں تقریباً 20,000 کی کمی ہوئی اور بے روزگاری کی شرح 7 فیصد پر رہی اس کے برعکس، البرٹا میں 23,000 ملازمتوں کا اضافہ ہوا اور وہاں بے روزگاری کی شرح کم ہوکر 6.4 فیصد ہوگئی
ملازمتوں میں کمی کے باوجود اجرتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ستمبر میں ملازمین کی اوسط فی گھنٹہ اجرت گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 2.3 فیصد بڑھ کر 37.64 کینیڈین ڈالر ہوگئی تاہم، زیادہ اجرت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کارکن کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ ملازمت سے محروم افراد اور کام تلاش کرنے والوں کو اس اضافے کا براہ راست فائدہ نہیں پہنچتا
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ کینیڈا میں کام کرنے یا ملازمت تلاش کرنے والے افراد کا تناسب کم ہوا ہے ستمبر میں افرادی قوت میں شرکت کی شرح 64.8 فیصد رہی، جو دسمبر 1997 کے بعد وبا کے برسوں کو نکال کر کم ترین سطح ہے ماہرین آبادی کی عمر بڑھنے اور امیگریشن کی رفتار سست ہونے کو اس رجحان سے منسلک کرتے ہیں
ملازمتوں کی اس صورت حال کے اثرات بینک آف کینیڈا کی شرح سود سے متعلق پالیسی پر بھی پڑ سکتے ہیں روزگار میں کمی معاشی سرگرمیوں کی کمزوری کی علامت ہوسکتی ہے، اس لیے تازہ اعداد و شمار کے بعد شرح سود میں فوری اضافے کی توقعات کمزور ہوئی ہیں تاہم، مستقبل میں شرح سود کا فیصلہ مہنگائی اور دیگر معاشی اعداد و شمار کو دیکھ کر کیا جائے گا
کینیڈا میں ملازمتوں کی مسلسل دو ماہ کی کمی سے نوجوانوں، نئے تارکین وطن اور کام کی تلاش میں مصروف افراد کے لیے روزگار کے امکانات پر تشویش بڑھ گئی ہے اگر یہ رجحان جاری رہتا ہے تو گھریلو آمدنی، خریداری، کرایہ ادا کرنے کی صلاحیت اور مجموعی معاشی ترقی متاثر ہوسکتی ہے تاہم، ستمبر کے اعداد و شمار اکیلے یہ ثابت نہیں کرتے کہ کینیڈا مستقل کساد بازاری کی طرف بڑھ رہا ہے

قومی خبریں سے مزید