Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

عمر رسیدہ آبادی اور امیگریشن میں کمی سے کینیڈا کی معیشت میں بڑی تبدیلیاں

عمر رسیدہ آبادی اور امیگریشن میں کمی سے کینیڈا کی معیشت میں بڑی تبدیلیاں

کینیڈا کے مرکزی بینک کی نئی تحقیق کے مطابق، ملک میں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور امیگریشن میں کمی معیشت، روزگار، مکانات کی طلب اور عوامی اخراجات کو تبدیل کر رہی ہے اس تبدیلی کے نتیجے میں مستقبل میں کارکنوں کی کمی، معاشی ترقی کی رفتار میں سست روی اور بعض شعبوں میں قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے دوسری جانب، نئے آنے والوں کی تعداد کم ہونے سے مکانات کی طلب اور رہائش کے اخراجات پر دباؤ کم ہونے کا امکان بھی ہے
مرکزی بینک کے مطابق، کینیڈا کی آبادی میں اضافے کی رفتار 2025 میں کم ہو کر صرف 0.5 فیصد رہ گئی، جو ایک صدی سے زیادہ عرصے میں سب سے کم شرح ہے۔ اس سے پہلے کئی دہائیوں تک آبادی میں سالانہ اوسطاً 1.2 فیصد اضافہ ہوتا رہا، جبکہ 2020 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں یہ شرح بڑھ کر تقریباً 3 فیصد سالانہ تک پہنچ گئی تھی
آبادی میں تیز اضافے سے ملک میں نئے کارکنوں کی تعداد بڑھی اور بعض شعبوں میں ملازمین کی کمی پوری کرنے میں مدد ملی، تاہم اس کے ساتھ مکانات، کرایوں اور سماجی خدمات پر بھی دباؤ بڑھا۔ وفاقی حکومت نے 2024 میں امیگریشن کی سطح کم کرنے کی پالیسی اختیار کی، جس کے بعد آبادی میں اضافے کی رفتار نمایاں طور پر سست ہو گئی
کینیڈا میں آبادی کی عمر بڑھنے کی ایک بڑی وجہ شرح پیدائش میں طویل عرصے سے جاری کمی بھی ہے کئی دہائیوں سے ملک میں بچوں کی پیدائش کی شرح اتنی نہیں رہی کہ آبادی کی موجودہ تعداد برقرار رکھنے کے لیے کافی ہو ماضی میں امیگریشن کے ذریعے اس کمی کو پورا کرنے میں مدد ملتی رہی، لیکن اب نئے تارکین وطن کی آمد کم ہونے سے یہ رجحان زیادہ نمایاں ہو رہا ہے
مرکزی بینک کے مطابق، نئے تارکین وطن کینیڈا کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سے نئے آنے والے نسبتاً نوجوان ہوتے ہیں اور ملازمتیں اختیار کرکے معیشت میں حصہ ڈالتے ہیں عارضی غیر ملکی کارکن ریستورانوں اور زراعت جیسے شعبوں میں کام کرتے ہیں، جبکہ اعلیٰ مہارت رکھنے والے تارکین وطن کمپیوٹر انجینئرنگ سمیت ایسے شعبوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں جہاں تربیت یافتہ کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے
نئے آنے والے گھر بسانے کے لیے فرنیچر، لباس، خوراک اور آمدورفت سمیت مختلف اشیا اور خدمات پر خرچ کرتے ہیں اس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے تاہم، امیگریشن میں کمی سے کارکنوں کے ساتھ صارفین کی تعداد بھی کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خریداری، کاروبار اور مجموعی معاشی ترقی کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ ہے
مکانات کے شعبے پر اس تبدیلی کے مختلف اثرات مرتب ہو سکتے ہیں آبادی میں اضافے کی وجہ سے گھروں اور کرایوں کی طلب بڑھتی ہے، لیکن نئے مکانات کی تعمیر میں وقت لگتا ہے اگر نئے تارکین وطن کی آمد کم رہتی ہے تو مکانات کی طلب میں کمی سے کرایوں اور گھروں کی قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکتا ہے تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ رہائش کے اخراجات لازماً کم ہو جائیں گے، کیونکہ ان پر مکانات کی فراہمی اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں
دوسری جانب، کینیڈا میں ریٹائر ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے دوسری جنگ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی بڑی نسل، جسے بے بی بومرز کہا جاتا ہے، اب بڑی حد تک ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکی ہے اس کے نتیجے میں کام کرنے والے افراد کی تعداد کے مقابلے میں ریٹائر ہونے والوں کا تناسب بڑھ رہا ہے اور مستقبل میں مختلف شعبوں کو مطلوبہ کارکن حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں
عمر رسیدہ افراد کی ضروریات بھی نوجوانوں سے مختلف ہوتی ہیں بعض ریٹائرڈ افراد سفر اور تفریح پر زیادہ خرچ کرتے ہیں، جس سے ہوائی سفر اور ہوٹلوں کی طلب بڑھ سکتی ہے اسی طرح ادویات، گھروں میں دیکھ بھال، معذوری کے مطابق سہولیات اور طویل مدتی نگہداشت کی خدمات کی ضرورت میں بھی اضافہ متوقع ہے
اس صورت حال سے حکومت کے صحت کے شعبے پر اخراجات بڑھ سکتے ہیں، خصوصاً ہسپتالوں اور طویل مدتی نگہداشت کی سہولتوں پر ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے سرکاری مالی وسائل اور ٹیکسوں سے متعلق فیصلے بھی اہم ہو سکتے ہیں
کارکنوں کی کمی کا ایک اور ممکنہ اثر اجرتوں اور قیمتوں پر پڑ سکتا ہے جب زیادہ افراد ریٹائر ہوں گے اور ان کی جگہ لینے کے لیے نوجوان کارکن کم ہوں گے تو بعض کاروبار ملازمین کو راغب کرنے کے لیے زیادہ تنخواہیں پیش کر سکتے ہیں اس سے کاروباری لاگت بڑھنے اور بعض اشیا و خدمات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے، جو مہنگائی پر دباؤ ڈال سکتا ہے
مرکزی بینک کے مطابق، آبادی میں تبدیلیاں معیشت کی پیداوار، صارفین کی طلب اور مہنگائی کو متاثر کرتی ہیں بینک کا کہنا ہے کہ وہ امیگریشن پالیسی طے نہیں کرتا اور نہ ہی آبادی کی عمر بڑھنے کے رجحان کو تبدیل کر سکتا ہے، لیکن شرح سود اور مالیاتی پالیسی سے متعلق فیصلوں میں ان تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے بینک کا ہدف مہنگائی کو تقریباً 2 فیصد پر مستحکم رکھنا ہے
ماہرین کی اس تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کینیڈا کو اب ایسی معیشت کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہوگی جس میں آبادی کی شرح نمو نسبتاً کم، کارکنوں کی دستیابی محدود اور بزرگ شہریوں کی ضروریات زیادہ ہوں گی اس تبدیلی کے اثرات روزگار، کاروبار، رہائش، صحت کی سہولتوں اور عام شہریوں کے اخراجات تک پھیل سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید