حکومت کے اعداد میں صنعت کی بحالی، تاجروں کے بلوں میں کاروبار کی تباہی، پاکستان کی معیشت کا اصل چہرہ کیا ہے؟
کراچی:پاکستان میں حکومت کے معاشی دعووں اور کاروباری طبقے کی زمینی حقیقت کے درمیان خلیج ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے،آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے مہنگی بجلی، ٹیکسوں اور کاروباری مشکلات کے خلاف آج شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر کے لیے بجلی کی قیمت ناقابل برداشت ہوچکی ہے،ان کے بقول کمرشل بجلی دن کے اوقات میں فی یونٹ تقریباً 65 روپے فی یونٹ اور رات کے اوقات میں 130 روپے فی یونٹ تک پہنچ جاتی ہے، ہماری بس ہو گئی ، آپ باہر سے سرمایہ کاری مانگ رہے اور اندر جو کاروبار ہے وہ ختم ہورہا ہے
بجلی کی قیمتوں کے خلاف تاجروں اور صنعتکاروں کی شکایات نئی نہیں بلکہ گزشتہ کئی برس سے مسلسل سامنے آرہی ہیں،آج ہی اجمل بلوچ نے اعلان کیا ہے کہ 8 اکتوبر کو اسلام آباد کی مارکیٹوں میں احتجاج کیا جائے گا اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں شٹر ڈاؤن اور وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ تک کا انتباہ دیا گیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ حکومت ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے تو پہلے کاروبار کے لیے سستی بجلی، سکیورٹی، پارکنگ اور سازگار ماحول فراہم کرے
یہ غصہ صرف دکانداروں تک محدود نہیں،جنوری 2026 میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ملک میں فوری صنعتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا،ایف پی سی سی آئی کے مطابق صنعتوں کو 34 سے 35 روپے فی یونٹ تک بجلی کے بل موصول ہورہے تھے جبکہ پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے بجلی کی لاگت علاقائی حریفوں بھارت، بنگلہ دیش اور ویتنام کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس فرق کے باعث سینکڑوں صنعتی یونٹس بند ہوچکے ہیں اور سرمایہ زیادہ کاروبار دوست ملکوں کی طرف منتقل ہورہا ہے
ٹیکسٹائل سیکٹر کا بحران اس خلیج کو مزید واضح کرتا ہے،آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران ارشد نے جنوری میں دعویٰ کیا تھا کہ مہنگی بجلی کے باعث تقریباً 150 ٹیکسٹائل ملیں بند ہوچکی ہیں اور باقی صنعت بھی شدید خطرے میں ہے،فیصل آباد میں صنعتی تنظیموں نے بجلی کا نرخ 9 سینٹ فی یونٹ تک لانے اور ٹیکسٹائل صنعت کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا تھا
کراچی کی صنعت بھی مختلف تصویر پیش نہیں کرتی،سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر احمد عظیم علوی نے جنوری میں کہا تھا کہ صنعتی بجلی پر 4.5 سے 7 روپے فی یونٹ کراس سبسڈی کا اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے، جس سے بجلی کی مجموعی لاگت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے اور کئی صنعتی یونٹس بند ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں
کراچی چیمبر اور بزنس مین گروپ بھی توانائی کے بحران کو صنعت کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں،مارچ 2026 میں کراچی کے صنعتکاروں نے گیس کی فراہمی میں ہفتے کے دو دن کمی اور بجلی کی بڑھتی لاگت پر احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پیداواری صلاحیت متاثر ہونے سے برآمدی آرڈرز تاخیر کا شکار یا منسوخ ہوسکتے ہیں
پنجاب میں مسئلہ صرف بجلی کے نرخ تک محدود نہیں،لاہور کے تاجروں نے رات 8 بجے مارکیٹیں بند کرنے کی حکومتی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کیونکہ ان کے مطابق گرمی کے موسم میں اصل خریداری شام کے بعد ہوتی ہے،ایک رپورٹ کے مطابق تاجروں نے صرف دو ہفتوں میں تقریباً 200 ارب روپے کے کاروباری نقصان کا تخمینہ پیش کیا ہے
خیبر پختونخوا میں بھی صنعتی زونز کی صورتحال تشویشناک ہے،گڈون امازئی صنعتی اسٹیٹ میں حکام کے مطابق 165 صنعتی یونٹس کام کررہے ہیں لیکن 90 سے زیادہ یونٹس مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں، جبکہ صنعتکاروں نے بجلی کی بندش، گیس کی لوڈشیڈنگ اور بلند ٹرانسپورٹ اخراجات کو کاروبار کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ پنجاب میں لاہور سے وزیرآباد تک آدھی سے کہیں زیادہ چھوٹی صنعتیں بجلی کی قیمتوں کے باعث ایک ایک کرکے آدھی سے زیادہ بند ہوچکی ہیں
تاہم حکومت کے پاس اپنے حق میں بھی اعداد موجود ہیں،پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق جولائی 2026 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.03 فیصد بڑھی جبکہ مالی سال 2025-26 میں بڑی صنعتی پیداوار 4.98 فیصد بڑھی،لیکن اسی سرکاری اعداد و شمار میں یہ بھی نظر آتا ہے کہ کئی اہم شعبے اب بھی دباؤ میں ہیں
یہی پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا تضاد ہے،اسلام آباد میں فائلوں اور اعداد و شمار میں صنعتی پیداوار کی بحالی دکھائی دیتی ہے، لیکن کراچی کے صنعتی علاقوں، فیصل آباد کی ٹیکسٹائل ملوں، لاہور کی مارکیٹوں اور ملک بھر کے تاجروں کے بیانات میں بجلی، گیس، ٹیکس اور کمزور طلب کی ایسی تصویر سامنے آتی ہے جس میں سرمایہ کاری مؤخر، پیداواری صلاحیت کم اور کئی یونٹس بند ہورہے ہیں
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے جون 2026 کے بزنس کانفیڈنس سروے نے بھی اسی خلیج کی نشاندہی کی،سروے میں کاروباری اعتماد 9 پوائنٹس گر کر صرف 13 فیصد رہ گیا اور 70 سے 80 فیصد کاروباری اداروں نے نئی سرمایہ کاری مؤخر یا دوبارہ غور کرنے کا بتایا
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بجلی کتنی مہنگی ہے،اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایک کاروباری شخص کو بجلی، گیس، ٹیکس، شرح سود، انتظامی رکاوٹوں، خام مال اور برآمدی مسابقت کے بعد آخر کتنی گنجائش بچتی ہے کہ وہ اپنی صنعت چلائے، روزگار دے اور عالمی منڈی میں بھارت، بنگلہ دیش یا ویتنام سے مقابلہ کرسکے
حکومت ایک طرف صنعتوں کو بجلی کے نرخوں میں ریلیف، کراس سبسڈی کے خاتمے اور صنعتی بحالی کے پیکیج کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف کاروباری تنظیمیں کہہ رہی ہیں کہ ریلیف زمین پر اس رفتار سے نہیں پہنچ رہا جس رفتار سے لاگت بڑھ رہی ہے،2025 میں حکومت نے بھی صنعتی بجلی کے نرخ میں کمی اور 150 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا، مگر بعد کے مہینوں میں صنعتی تنظیمیں دوبارہ مہنگی بجلی اور بند ہوتی صنعتوں کی شکایات لے کر سامنے آگئیں
یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت اور کاروباری طبقے کے اعداد ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں،حکومت کے لیے چند فیصد صنعتی نمو معاشی بحالی کی علامت ہے، جبکہ تاجر اور صنعتکار پوچھ رہے ہیں کہ اگر فیکٹریاں کم صلاحیت پر چل رہی ہوں، سرمایہ کاری رک رہی ہو اور سینکڑوں یونٹس بند ہوچکے ہوں تو محض مجموعی پیداوار میں معمولی اضافہ عام کاروباری آدمی کی زندگی میں کہاں نظر آتا ہے؟
پاکستان کی معیشت کو اس وقت شاید سب سے زیادہ ضرورت نئے نعروں کی نہیں بلکہ اس سوال کے واضح جواب کی ہے کہ جو شخص پاکستان میں کاروبار کرنا چاہتا ہے، اسے خطے کے دوسرے ملک کے مقابلے میں پاکستان ہی کیوں منتخب کرنا چاہیے؟
اگر اس سوال کا جواب بجلی کے بل، ٹیکس نوٹس، گیس کے نرخ اور بند فیکٹریوں کے دروازے دے رہے ہوں تو پھر حکومت کے معاشی اعداد و شمار اور کاروباری پاکستان کی حقیقت کے درمیان فرق محض اعداد کا فرق نہیں رہتا، یہ اعتماد کا بحران بن جاتا ہے





