فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم ندال حسن کو فائرنگ اسکواڈ سے سزائے موت،ٹرمپ نے منظوری دے دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر 2009 میں فائرنگ کر کے 13 افراد کو ہلاک کرنے والے سابق امریکی فوجی نفسیاتی ڈاکٹر ندال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی منظوری دے دی ہے
پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ندال حسن کو امریکی فوج کے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی سفارش کی، جسے صدر ٹرمپ نے منظور کر لیا
پارنیل کے مطابق اب فوج کے سیکریٹری سزائے موت کے وقت اور مقام کا تعین کریں گے،انہوں نے کہا کہ حسن کے لیے ’’فیصلے کا دن بالآخر آ گیا ہے‘‘
ندال حسن نے 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کر کے 13 افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کیا تھا،وہ اس وقت امریکی فوج میں نفسیاتی معالج کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا
حسن کو 2013 میں فوجی عدالت کے جیوری نے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی،مقدمے کے دوران انہوں نے اپنے دفاع کی ذمہ داری خود سنبھالی تھی
اگر یہ سزا مقررہ طریقے سے نافذ ہوتی ہے تو ندال حسن 60 سے زائد برس میں امریکی فوج کی جانب سے سزائے موت پانے والا پہلا امریکی فوجی ہوگا،یہ فیصلہ امریکی فوجی نظامِ انصاف میں ایک غیر معمولی پیش رفت بھی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ فوجی سزائے موت پر کئی دہائیوں سے عمل درآمد نہیں ہوا





