ایرانی ڈرون حملے کے خدشے پر امریکا نے برطانیہ سے 12 بی ون بمبار طیارے ہٹا لیے
امریکی حکام کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے برطانیہ میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کی مبینہ منصوبہ بندی کے بعد امریکا نے اچانک اپنے تقریباً 12 بی ون بمبار طیارے رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اڈے سے منتقل کر دیے
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور یورپی حکام نے بتایا کہ مبینہ ایرانی منصوبہ صرف طیاروں کو نقصان پہنچانے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد اڈے پر موجود امریکی اہلکاروں، خصوصاً امریکی پائلٹوں کو بھی نشانہ بنانا تھا،حکام کے مطابق یہ ایک پیچیدہ اور متعدد پہلوؤں پر مشتمل کارروائی ہو سکتی تھی جس میں ڈرونز کے ذریعے حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو طیاروں کی منتقلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’’اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے انتہائی احتیاط‘‘ کے طور پر کیا گیا،تاہم انہوں نے مبینہ حملے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا
وینس نے صحافیوں سے گفتگو میں ایران کو امریکا کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کو کافی حد تک یقین ہے کہ ایران وہی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے جو ایرانی ریاست گزشتہ 49 برس سے اختیار کرتی آئی ہے، یعنی امریکا اور دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونا
امریکی طیاروں کی اچانک منتقلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی پہلے ہی انتہائی بلند سطح پر ہے،برطانیہ میں موجود بی ون بمبار طیارے امریکی فضائی طاقت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں اور ان کی نقل مکانی نے خطے میں ایرانی سرگرمیوں اور امریکی فوجی تنصیبات کو لاحق خطرات پر نئی تشویش پیدا کر دی ہے





