Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

آئی ایم ایف مذاکرات مثبت پیش رفت کے قریب، پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر ملنے کی راہ ہموار ہونے کا امکان

آئی ایم ایف مذاکرات مثبت پیش رفت کے قریب، پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر ملنے کی راہ ہموار ہونے کا امکان

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان جاری مذاکرات رواں ہفتے مثبت پیش رفت کے ساتھ مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے یہ رقم آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت جاری کی جائے گی
ذرائع کے مطابق دونوں فریق اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت کو حتمی شکل دے رہے ہیں آئی ایم ایف کا مشن، جس کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں، آئندہ چند روز میں اپنا دورہ مکمل کرسکتا ہے مذاکرات میں ماضی میں رہ جانے والے بعض اہداف کو پورا کرنے کے لیے معمولی ایڈجسٹمنٹ پر بات ہوئی ہے، تاہم محصولات کا مجموعی ہدف تبدیل نہیں کیا گیا
پاکستان نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف بہتر کارکردگی کے ساتھ حاصل کیا ہے، جس کے باعث اب آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں سال کے پہلے 6 ماہ کے ہدف کے حصول پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے
مذاکرات کے دوران گیس کے شعبے میں گردشی قرضے کو کم کرنے اور کم آمدنی والے صارفین کو زیادہ ہدفی سبسڈی فراہم کرنے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ صنعتی شعبے سے حاصل ہونے والی کراس سبسڈی میں کمی لائی جائے گی اور گیس کے شعبے کے بڑھتے ہوئے قرضے کو قابو کیا جائے گا
گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ اب تقریباً 3.6 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں تقریباً 1.8 کھرب روپے اصل واجبات جبکہ تقریباً اتنی ہی رقم سود اور تاخیر سے ادائیگی کے اضافی چارجز پر مشتمل ہے
حکومت اور آئی ایم ایف نے غریب صارفین کے لیے بجلی کی سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہدفی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے اس نظام پر عمل درآمد آئندہ سال جنوری سے شروع ہونے کی توقع ہے عالمی بینک بھی بجلی صارفین کو قومی سماجی و معاشی رجسٹری سے منسلک کرنے میں حکومت کی مدد کر رہا ہے تاکہ مستحق صارفین کی شناخت کی جاسکے
مذاکرات کے دوران سردیوں کے 3 ماہ دسمبر سے فروری کے لیے ایل این جی کی درآمد کا منصوبہ بھی اہم معاملہ رہا۔ گیس کمپنیوں نے اس عرصے کے لیے کم از کم 22 ایل این جی کارگوز کی ضرورت ظاہر کی تھی، تاہم توانائی سے متعلق ٹاسک فورس نے فی الحال 10 سے 12 کارگوز تک انتظام کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے ذرائع کے مطابق موجودہ عالمی حالات اور مارکیٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حقیقی درآمد 7 سے 8 کارگوز تک محدود رہنے کا امکان بھی ہے
ہر ایل این جی اسپاٹ کارگو پر تقریباً 100 ملین ڈالر خرچ آسکتا ہے، اس لیے درآمدی منصوبے کا پاکستان کے بیرونی کھاتے اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اہداف پر بھی براہ راست اثر پڑے گا
اگر جاری مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوگئے تو پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری حاصل کرنا ہوگی تاہم جون 2026 کے اختتام تک بعض اہداف میں ہونے والی تاخیر کے باعث پاکستان کو چند معاملات میں چھوٹ حاصل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے
آئی ایم ایف نے پٹرولیم مصنوعات کی ملک بھر میں یکساں قیمت برقرار رکھنے والے نظام، ان لینڈ فریٹ ایکویلائزیشن مارجن میں بھی زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا ہے حکومت کو بجلی اور گیس کے شعبوں میں سبسڈی کے موجودہ نظام کو زیادہ ہدفی بنانے اور توانائی کے شعبے کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے مزید اصلاحات کرنا ہوں گی

قومی خبریں سے مزید