Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان اور افغان طالبان کے اختلافات، ماسکو مذاکرات مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم

پاکستان اور افغان طالبان کے اختلافات، ماسکو مذاکرات مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم

افغانستان کے بارے میں ماسکو فارمیٹ کے 8ویں اجلاس میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دہشت گردی اور افغانستان سے ہونے والے سرحد پار حملوں کے معاملے پر اختلافات کے باعث شرکا مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہ کر سکے روسی صدارتی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے کہا کہ مسودہ تیار کرتے وقت پاکستانی اور افغان وفود کے درمیان بنیادی اختلاف سامنے آیا، جس کے باعث حتمی دستاویز جاری نہیں کی جا سکی
ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں افغانستان، پاکستان، روس، چین، ایران، بھارت، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ بیلاروس اور مصر نے بطور مہمان شرکت کی ماسکو فارمیٹ 2017 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا مقصد افغانستان کی صورتحال، علاقائی سلامتی، سیاسی استحکام اور باہمی تعاون کے معاملات پر علاقائی ممالک کے درمیان مشاورت کو فروغ دینا ہے
پاکستان کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان محمد صادق نے اجلاس میں کہا کہ اسلام آباد افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے معاملے پر طویل عرصے سے سیاسی اور سفارتی رابطے کر رہا ہے، تاہم پاکستان کے مطابق افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3 برس کے دوران افغانستان سے منسلک دہشت گردی کے نتیجے میں 4,700 سے زیادہ پاکستانی ہلاک ہو چکے ہیں
پاکستانی وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ پاکستان کے لیے مسلسل خطرہ بن رہے ہیں اور کابل کو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا چاہیے۔ پاکستان کے مطابق اس کی جانب سے کیے جانے والے انسداد دہشت گردی اقدامات افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کے ردعمل میں اور اپنے دفاع کے حق کے تحت کیے جا رہے ہیں
دوسری جانب افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے مؤقف اور اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد فوجی دباؤ، افغان مہاجرین، طلبہ اور تجارتی راستوں کو دباؤ کے ذرائع کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ملکوں کے مسائل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں
مشترکہ اعلامیے کے مسودے میں دہشت گردی سے متعلق زبان بھی دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کی بنیادی وجہ بنی روسی نمائندے ضمیر کابلوف کے مطابق افغان فریق نے ایسی زبان پر اعتراض کیا جس میں افغانستان کو بار بار دہشت گردی کے تناظر میں پیش کیا جا رہا تھا ان کے مطابق یہی اختلاف حتمی مشترکہ دستاویز کی منظوری میں رکاوٹ بن گیا
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی انسداد دہشت گردی صلاحیت مضبوط کرنے کو خطے کے مفاد میں قرار دیا روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد دینے کی پیشکش بھی کی، تاہم کابلوف نے واضح کیا کہ ماسکو فارمیٹ بنیادی طور پر علاقائی تعاون کے لیے ہے اور پاکستان افغانستان کے دو طرفہ تنازع کو براہ راست حل کرنا اس کا بنیادی مقصد نہیں
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں دہشت گردی، سرحد پار حملوں اور سکیورٹی کے معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں مشترکہ اعلامیے کا جاری نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی سکیورٹی اختلافات اب علاقائی سفارتی فورمز پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید