پاکستان نے سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان کی مخالفت کردی
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان شامل کرنے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کونسل میں مستقل نشستیں بڑھانے کے بجائے منتخب غیر مستقل ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور نامزد خارجہ سیکریٹری عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں عالمی امن و سلامتی کی صورتحال اور سلامتی کونسل کے کردار پر بڑھتی ہوئی تنقید نے اس ضرورت کو مزید نمایاں کیا ہے کہ کونسل کو زیادہ جمہوری، نمائندہ اور جوابدہ بنایا جائے
عاصم افتخار احمد کے مطابق کسی نئے ملک کو مستقل رکن بنانے سے موجودہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے پاکستان کا مؤقف ہے کہ درمیانے درجے کی مدت والی نشستوں سمیت مزید منتخب نشستیں متعارف کرائی جائیں، جن پر رکن ممالک مقررہ مدت کے لیے انتخاب اور گردش کے ذریعے ذمہ داری سنبھالیں
پاکستان اس معاملے میں یونائٹنگ فار کنسنسس گروپ کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے اس گروپ میں پاکستان کے علاوہ کینیڈا، اٹلی، میکسیکو، اسپین، ترکیہ، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک شامل ہیں، جو نئی مستقل نشستیں بنانے کے بجائے منتخب نشستوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہیں
سلامتی کونسل اس وقت 15 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 5 مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا ہیں، جبکہ 10 غیر مستقل ارکان جنرل اسمبلی کے ذریعے 2 سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جس کے باعث کسی بھی اہم قرارداد کو ایک مستقل رکن کی مخالفت سے روکا جاسکتا ہے
پاکستان کے سفیر نے کہا کہ اسلام آباد سلامتی کونسل میں اپنی 2025 سے 2026 تک کی مدت کے دوران تنازعات کی روک تھام، پرامن طریقے سے تنازعات کے حل، امن قائم رکھنے، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کو ترجیح دیتا رہا ہے پاکستان کی سلامتی کونسل میں موجودہ مدت اس کی آٹھویں مدت ہے
پاکستان نے پہلے بھی مستقل نشستوں میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے سلامتی کونسل مزید نمائندہ بننے کے بجائے مستقل اختیارات رکھنے والے ممالک کا دائرہ وسیع ہوجائے گا پاکستان کا کہنا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو بھی سلامتی کونسل میں مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے
پاکستان ویٹو کے اختیار میں بھی اصلاحات کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ سلامتی کونسل میں زیادہ منتخب ارکان شامل کرنا فیصلوں کو زیادہ جمہوری اور جوابدہ بنانے کی سمت ایک عملی قدم ہوسکتا ہے





