ٹورنٹو میں کینیڈین فوج کے 2 فوجی منظم جرائم، اغوا اور ہتھیار چوری کے مقدمات میں گرفتار
ٹورنٹو پولیس نے کینیڈین آرمڈ فورسز کے 2 ارکان کو منظم جرائم، اغوا اور آتشیں ہتھیاروں سمیت ہتھیار چوری کرنے سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے۔ دونوں فوجی ٹورنٹو میں قائم 7ویں ٹورنٹو رجمنٹ کے ارکان ہیں
محکمہ قومی دفاع کے مطابق بمبارڈیئر سچنتھا فرنینڈو اور جیمز مورو کو 11 اگست کو ٹورنٹو پولیس نے گرفتار کیا تھا دونوں کینیڈین فوج میں ریزرو فوجی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے
محکمہ قومی دفاع کے مطابق فرنینڈو نے جنوری 2020 میں کینیڈین آرمی میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ کینیڈین آرمڈ فورسز کی کسی کارروائی پر تعینات نہیں ہوئے جیمز مورو نے مارچ 2018 میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2020 میں کورونا وبا کے دوران آپریشن لیزر میں خدمات انجام دی تھیں
گرفتاری کے بعد دونوں فوجیوں کو فوجی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ کینیڈین آرمڈ فورسز کے سازوسامان، تنصیبات اور فوجی اڈوں تک ان کی رسائی بھی محدود کر دی گئی ہے
محکمہ قومی دفاع کا کہنا ہے کہ دونوں افراد فی الحال کینیڈین آرمڈ فورسز کے رکن ہیں اور ان کے مستقبل سے متعلق انتظامی جائزہ جاری ہے یہ جائزہ اس بات کا تعین کرنے کے لیے کیا جاتا ہے کہ کسی فوجی کے خلاف سامنے آنے والے معاملات اس کی ملازمت جاری رکھنے پر اثر انداز ہوتے ہیں یا نہیں، جبکہ اس عمل میں اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع بھی دیا جاتا ہے
کینیڈین فوج نے کہا ہے کہ وہ ٹورنٹو پولیس کی تحقیقات میں تعاون کر رہی ہے دستیاب معلومات کے مطابق الزامات میں منظم جرائم سے تعلق، اغوا اور آتشیں ہتھیاروں اور دیگر ہتھیاروں کی چوری شامل ہے
یہ مقدمہ اس لیے بھی اہم ہے کہ گرفتار کیے گئے دونوں افراد فوج کے ریزرو دستے کا حصہ ہیں اور ان کا تعلق ٹورنٹو میں قائم 7ویں ٹورنٹو رجمنٹ سے ہے تاہم الزامات ثابت ہونا ابھی باقی ہیں اور مقدمے کے حتمی نتیجے تک دونوں افراد کو قانون کے تحت بے گناہ تصور کیا جائے گا





