ایشیائی آئینی عدالتوں کا اعلامیہ، مصنوعی ذہانت کو معاون ذریعہ رکھنے پر زور
ایشیا کی آئینی عدالتوں کے ساتویں کانگریس میں منظور کیے گئے سمرقند اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو عدالتی نظام میں صرف معاون ذریعے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے اور اسے ججوں کے آزادانہ فیصلے، آئینی ذمہ داری اور انسانی فہم کا متبادل نہیں بننا چاہیے
ازبکستان کے شہر سمرقند میں ہونے والی کانگریس میں پاکستان کی سپریم کورٹ کی نمائندگی جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے کی کانگریس میں ایشیا کی آئینی عدالتوں اور متعلقہ عدالتی اداروں کے نمائندوں نے آئینی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو بنیادی اصولوں کے طور پر دوبارہ اجاگر کیا
اعلامیے میں تسلیم کیا گیا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت عدالتی نظام میں شفافیت، مقدمات نمٹانے کی رفتار، فیصلوں کے معیار اور انصاف تک مساوی رسائی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں تاہم اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود حتمی عدالتی فیصلہ انسانی اور آزادانہ عدالتی غور و فکر پر ہی مبنی ہونا چاہیے
اعلامیے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت عدالتوں کے لیے معاون ٹول تو بن سکتی ہے لیکن اسے جج کے آئینی اختیار اور ذمہ داری کی جگہ نہیں دی جا سکتی اس اصول کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ دنیا بھر میں عدالتیں مقدمات کے ریکارڈ، قانونی تحقیق، دستاویزات کی تیاری اور دیگر انتظامی کاموں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی جانب بڑھ رہی ہیں
پاکستان میں بھی عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے حالیہ عرصے میں عدالتوں میں ڈیجیٹل کیس فائلز اور مختلف شہروں سے ٹیکنالوجی کے ذریعے سماعتوں کے انعقاد جیسے اقدامات سامنے آئے ہیں، جن کا مقصد عدالتی کارروائی کو زیادہ مؤثر اور قابل رسائی بنانا ہے
سمرقند اعلامیہ اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو عدالتی نظام میں کس حد تک استعمال کیا جائے اور اس دوران ججوں کی آزادی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور آئینی اصولوں کو کیسے محفوظ رکھا جائے





