Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

البرٹا کی علیحدگی کے لیے امریکی ریپبلکنز سے مبینہ رابطے تشویشناک ہیں، کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ

البرٹا کی علیحدگی کے لیے امریکی ریپبلکنز سے مبینہ رابطے تشویشناک ہیں، کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ

کینیڈین کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ڈین لوئیڈ نے البرٹا کی علیحدگی کی تحریک سے وابستہ افراد اور امریکی ریپبلکن سیاسی کارکنوں کے درمیان مبینہ رابطوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ البرٹا کے قدرتی وسائل کسی غیر ملکی حکومت کے حوالے کرنے کا اختیار کسی کو نہیں
ڈین لوئیڈ وہ کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ہیں جنہیں اپنی جماعت نے البرٹا کے عوام کو کینیڈا کے ساتھ رہنے پر قائل کرنے کی کوششوں کی قیادت کی ذمہ داری دی ہے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن جا کر مبینہ طور پر امریکی حمایت حاصل کرنے کے بدلے البرٹا کے تازہ پانی اور تیل کی پیشکش کیے جانے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں
انہوں نے واضح کیا کہ البرٹا کے قدرتی وسائل صوبے کی ملکیت اور مستقبل کا بنیادی حصہ ہیں اور کوئی فرد یا گروہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ انہیں کسی غیر ملکی حکومت کو دینے یا ان کے بدلے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی پیشکش کرے لوئیڈ نے یہ بھی کہا کہ وہ البرٹا کی آمدنی کا کوئی حصہ کسی غیر ملکی حکومت کو دینے کی حمایت نہیں کریں گے
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دی گلوب اینڈ میل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی ریپبلکن سیاسی کارکن رواں سال البرٹا پہنچے تھے اور علیحدگی کی تحریک سے وابستہ افراد کو سیاسی مہم میں مدد دینے کے طریقوں پر بات ہوئی ایک اور رپورٹ کے مطابق البرٹا کی علیحدگی کی تحریک سے وابستہ افراد نے گزشتہ سال واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی کیں، جہاں مبینہ طور پر البرٹا کے تیل اور پانی سمیت قدرتی وسائل کے حوالے سے بات چیت ہوئی
تاہم علیحدگی کی تحریک سے وابستہ جیف ریتھ نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ واشنگٹن میں قدرتی وسائل کے حوالے سے کوئی باقاعدہ سودا یا مذاکرات کیے گئے تھے ان کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں کا مقصد البرٹا کے مستقبل اور آزاد ملک بننے کے قانونی عمل سے متعلق تحریک کے مؤقف سے امریکی حکام کو آگاہ کرنا تھا
البرٹا پراسپیریٹی پروجیکٹ سے وابستہ مچل سلویسٹر نے بھی واشنگٹن میں پانی یا تیل کے بدلے امریکی حمایت کی بات چیت سے انکار کیا ہے ان کے مطابق وہ ایسی کسی پیشکش کا اختیار ہی نہیں رکھتے
کینیڈا کے پبلک سیفٹی وزیر گیری انانداسانگری نے اس معاملے سے متعلق سوالات کینیڈین سکیورٹی انٹیلی جنس سروس یعنی سی ایس آئی ایس کی طرف بھیجتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی اور جمہوری عمل کو جمہوری اصولوں کے مطابق چلنا چاہیے اور غیر ملکی مداخلت نہیں ہونی چاہیے
کیلگری کے میئر جیرومی فارکس نے بھی علیحدگی پسند رہنماؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ان کا کہنا ہے کہ اگر علیحدگی کا مقصد البرٹا کا کنٹرول واپس حاصل کرنا ہے تو پھر واشنگٹن سے مدد مانگنا اور صوبے کے وسائل کے بارے میں امریکیوں سے بات کرنا اس مقصد کے بالکل برعکس ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس طرح البرٹا کی خودمختاری مضبوط کرنے کے بجائے اسے امریکی مفادات کے لیے خطرے میں ڈالا جا رہا ہے
البرٹا کے عوام 19 اکتوبر کو اس سوال پر ووٹ دیں گے کہ آیا صوبے کو کینیڈا سے علیحدگی کے قانونی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک پابند ریفرنڈم کرانا چاہیے پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کہہ چکی ہیں کہ وہ خود علیحدگی کے خلاف ووٹ دیں گی، تاہم انہیں اس بات پر تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے اپنی جماعت اور صوبے میں بڑھتی ہوئی علیحدگی پسند سوچ کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے

قومی خبریں سے مزید