کیوبیک میں علیحدگی پسند پارٹی کی واپسی، پارتی کیوبیکوا 59 نشستوں کے ساتھ اقلیتی حکومت بنائے گی
کیوبیک کے صوبائی انتخابات میں علیحدگی پسند جماعت پارتی کیوبیکوا نے بڑی سیاسی واپسی کرتے ہوئے حکومت بنانے کے لیے کامیابی حاصل کر لی ہے جماعت کے سربراہ پال سینٹ پیئر پلامونڈ کیوبیک کے نئے پریمیئر بنیں گے اور ان کی جماعت اقلیتی حکومت تشکیل دے گی تازہ نتائج کے مطابق پارتی کیوبیکوا نے 127 رکنی قومی اسمبلی میں 59 نشستیں حاصل کی ہیں، جو اکثریت کے لیے درکار 64 نشستوں سے 5 کم ہیں
یہ کامیابی کیوبیک کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ پارتی کیوبیکوا 2022 کے انتخابات میں صرف 3 نشستوں تک محدود ہو گئی تھی۔ اب صرف چند برس میں اس کی نشستوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جماعت آخری مرتبہ 2012 میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی اور اس وقت بھی اسے اقلیتی حکومت ہی بنانی پڑی تھی
پلامونڈ نے انتخابی مہم کے دوران واضح کیا تھا کہ اگر ان کی جماعت حکومت بناتی ہے تو کیوبیک کی کینیڈا سے علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے گا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں رہتے ہوئے ریفرنڈم نہیں کرایا جائے گا ان کے مطابق ریفرنڈم 2029 میں ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد ممکن ہوگا
اقلیتی حکومت کی صورت میں پلامونڈ کو قانون سازی اور اہم فیصلوں کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی انتخابات میں کیوبیک لبرلز اپوزیشن کی بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئے ہیں جبکہ کیوبیک کنزرویٹو پارٹی نے بھی خاص طور پر کیوبیک سٹی کے علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں
انتخابی نتائج نے حکمران جماعت کولیشن اوینیئر کیوبیک کے 8 سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا ہے سابق حکمران جماعت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا اور اس کی قیادت بھی سیاسی طور پر کمزور ہوئی
پلامونڈ کی کامیابی صرف علیحدگی کے مسئلے سے منسلک نہیں سمجھی جا رہی بلکہ مہنگائی، رہائش کے اخراجات، امیگریشن، زبان اور کیوبیک کی شناخت جیسے معاملات نے بھی انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کیا۔ پارتی کیوبیکوا نے عارضی امیگریشن میں کمی، بے گھری کم کرنے اور کیوبیک کی خودمختاری کو مزید مضبوط بنانے کے وعدے کیے ہیں
اس نتیجے کے وفاقی حکومت کے لیے بھی اہم اثرات ہوں گے وزیر اعظم مارک کارنی کو ایک ایسی صوبائی حکومت کے ساتھ کام کرنا ہوگا جو کیوبیک کی خودمختاری میں اضافے اور مستقبل میں آزادی کے ریفرنڈم کی حامی ہے۔ دوسری جانب کارنی نے کیوبیک کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کینیڈا امریکہ کے ساتھ تجارتی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے
پارتی کیوبیکوا کی یہ واپسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کیوبیک کی سیاست ایک مرتبہ پھر خودمختاری، قومی شناخت اور کینیڈا کے ساتھ تعلقات کے سوالات کی طرف بڑھ رہی ہے، تاہم اقلیتی حکومت ہونے کے باعث پلامونڈ کو اپنے کئی اہم سیاسی منصوبوں کے لیے اسمبلی میں دوسری جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا پڑے گی





