Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

صومالی قزاقوں کے قبضے سے 4 زخمی پاکستانی ملاح کراچی روانہ، 3 ساتھیوں کی میتیں بھی ساتھ

صومالی قزاقوں کے قبضے سے 4 زخمی پاکستانی ملاح کراچی روانہ، 3 ساتھیوں کی میتیں بھی ساتھ

صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں رہنے والے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 سے بازیاب ہونے والے 4 زخمی پاکستانی ملاح اپنے 3 جاں بحق ساتھیوں کی میتوں کے ساتھ کراچی روانہ ہو گئے ہیں چاروں زخمی ملاح اور تین پاکستانیوں کی میتیں ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا سے ایتھوپین ایئر لائنز کی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچ رہی ہیں
بازیاب ہونے والے پاکستانی ملاحوں میں عثمان غنی، عقیل خان، امین بن شمس اور یاسر خان شامل ہیں جبکہ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے ہوئی ہے پاکستانی حکام کے مطابق زخمی ملاحوں کو علاج اور ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں جبکہ جاں بحق افراد کی میتیں ان کے اہل خانہ تک پہنچانے کے انتظامات کیے گئے
ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے قریب قزاقوں نے اغوا کیا تھا اس جہاز پر 17 افراد کا عملہ موجود تھا، جن میں 10 پاکستانی، 7 انڈونیشیائی، ایک بھارتی اور ایک سری لنکن شہری شامل تھے تقریباً 5 ماہ تک ملاح قزاقوں کے قبضے میں رہے اور ان کی رہائی کے لیے مذاکرات اور تاوان کی ادائیگی کے معاملے پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی
قید کے دوران ملاحوں نے کئی مرتبہ ویڈیو اور آڈیو پیغامات کے ذریعے اپنی مشکلات بیان کیں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے پاس صاف پانی، خوراک اور ادویات کی شدید کمی ہو چکی ہے اور طویل قید کے باعث ان کی صحت تیزی سے خراب ہو رہی ہے
29 ستمبر کو صومالی میری ٹائم پولیس نے جہاز کو بازیاب کرانے کے لیے کارروائی کی صومالی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 21 مشتبہ قزاق گرفتار کیے گئے حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی شروع ہونے سے پہلے قزاقوں نے عملے کے 5 افراد کو قتل کر دیا تھا، جن میں 3 پاکستانی، ایک میانمار اور ایک بھارتی شہری شامل تھے
تاہم انصار برنی ٹرسٹ سے وابستہ وکیل قرۃ العین نے واقعے کی مختلف تفصیل بیان کی ان کے مطابق قزاقوں نے سکیورٹی فورسز کی آمد کا اندازہ ہونے پر یرغمالیوں کو ڈیک پر لایا، ان کے ہاتھ باندھے اور دھمکی دی کہ اگر فورسز قریب آئیں تو انہیں قتل کر دیا جائے گا ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران قزاقوں نے یرغمالیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 3 پاکستانی، ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری مارا گیا
پاکستانی حکومت نے جاں بحق ملاحوں کے خاندانوں کے لیے 1 کروڑ 25 لاکھ روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی مدد کے ساتھ ہر خاندان کو ایک گھر اور جاں بحق ملاحوں کے بچوں کے لیے مفت تعلیم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے
10 پاکستانیوں میں سے 4 زخمی ملاح اب وطن واپس پہنچ رہے ہیں جبکہ باقی پاکستانی عملے کے بارے میں بھی حکام کی جانب سے مزید رابطے اور کوششیں جاری ہیں یہ واقعہ صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقی کے دوبارہ بڑھتے ہوئے خطرے اور سمندری جہازوں کے عملے کی سلامتی کے حوالے سے ایک سنگین صورتحال کو ظاہر کرتا ہے

قومی خبریں سے مزید