پاکستان روس سے تعلقات بڑھانا چاہتا ہے مگر راستے میں بڑی رکاوٹیں موجود ہیں
پاکستان روس کے ساتھ دفاعی، اقتصادی اور علاقائی تعاون بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں تبدیل کرنا آسان نہیں روس اب بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے میں محتاط ہے اور اس کی بڑی وجہ دونوں ملکوں کے علاقائی مفادات میں فرق، افغانستان کے بارے میں مختلف پالیسی اور روس کے بھارت کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط مضبوط تعلقات ہیں
پاکستان کی روس کے ساتھ قربت بڑھانے کی خواہش کے پس منظر میں خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست بھی اہم ہے پاکستان چاہتا ہے کہ روس کے ساتھ دفاعی تعاون کے علاوہ تجارت، توانائی اور وسطی ایشیا تک رسائی کے نئے راستے پیدا کیے جائیں اسلام آباد کی خاص دلچسپی ماسکو سے اسلام آباد تک ممکنہ ریلوے رابطے اور موجودہ تقریباً 7,000 کلومیٹر طویل ریلوے نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے ایک مال بردار راہداری قائم کرنے میں ہے، جس کے ذریعے پاکستان روس سے وسطی ایشیا یا ایران کے راستے منسلک ہو سکے
پاکستان اور روس کے درمیان ماضی کی تلخی بھی اس تعلق کی ایک اہم حقیقت ہے سرد جنگ کے دور میں پاکستان امریکا کا قریبی اتحادی تھا جبکہ سوویت یونین بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا تھا افغانستان میں سوویت فوجی مداخلت کے دوران پاکستان نے امریکا اور افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر سوویت یونین کے خلاف کردار ادا کیا اس جنگ کو پاکستان کی قیادت آج بھی اپنی بڑی تزویراتی کامیابیوں میں شمار کرتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے تک بداعتمادی برقرار رہی
اب حالات بدل چکے ہیں پاکستان روس کے ساتھ نئے اقتصادی اور دفاعی مواقع تلاش کر رہا ہے جبکہ روس بھی اپنی عالمی شراکت داری کو وسیع کرنا چاہتا ہے اس کے باوجود روس کے لیے پاکستان بھارت کا متبادل نہیں بن سکتا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم اس فرق کو واضح کرتا ہے پاکستان اور روس کی دوطرفہ تجارت 500 ملین ڈالر سے بھی کم ہے جبکہ بھارت اور روس کی تجارت تقریباً 69 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے دفاعی تعاون میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے
بھارت روس کے ساتھ مشترکہ تحقیق، دفاعی سازوسامان کی تیاری، فوجی ٹیکنالوجی اور طویل مدتی فوجی تعاون کے کئی منصوبوں میں شامل ہے اس کے مقابلے میں روس اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون محدود نوعیت کا ہے اور اسے ابھی تک کسی اسٹریٹجک فوجی شراکت داری کا درجہ حاصل نہیں ہوا
افغانستان بھی پاکستان روس تعلقات میں ایک بڑی پیچیدگی ہے روس نے طالبان حکومت کو تسلیم کر رکھا ہے جبکہ پاکستان افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور کابل پر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈالتا ہے یوں دونوں ممالک اگرچہ دہشت گردی کے خلاف تعاون میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں لیکن افغانستان کے بارے میں ان کی ترجیحات مختلف ہیں
روس افغانستان کو وسطی ایشیا کے اپنے اتحادیوں سے جوڑنے والے خطے کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ پاکستان کے لیے افغانستان براہ راست سلامتی، سرحدی اور دہشت گردی کے مسائل سے جڑا ہوا ہے دوسری طرف پاکستان کے امریکا کے ساتھ افغانستان سے متعلق بعض معاملات میں تعلقات بھی روس کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں چین بھی خطے میں امریکی اثر و رسوخ کی واپسی کو پسند نہیں کرتا اور اس معاملے میں پاکستان کے لیے توازن قائم رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے
روس کے لیے پاکستان کی اہمیت اس وقت زیادہ تر جغرافیائی اور سیاسی ہے ماسکو اسلام آباد کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ کر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اس کے عالمی شراکت داری کے دائرے میں مختلف ممالک شامل ہیں شنگھائی تعاون تنظیم بھی روس کے لیے پاکستان کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور عوامی روابط بڑھانے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے
پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات بڑھاتے ہوئے بھارت، چین اور امریکا کے ساتھ اپنے موجودہ تعلقات کا توازن کیسے برقرار رکھا جائے صرف دفاعی تعاون یا بڑے منصوبوں کے اعلانات سے یہ تعلق مضبوط نہیں ہوگا اس کے لیے تجارت، توانائی، ریلوے رابطوں، وسطی ایشیا تک رسائی اور طویل مدتی اقتصادی مفادات پر عملی پیش رفت ضروری ہوگی
روس سے تیل اور توانائی کے شعبے میں تعاون کے امکانات پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں دونوں ممالک توانائی کے شعبے میں تلاش، پیداوار اور ریفائننگ سمیت مختلف معاملات پر تعاون کے امکانات دیکھ رہے ہیں، جبکہ پاکستان نے 2023 سے روسی خام تیل کی خریداری بھی شروع کر رکھی ہے
مجموعی طور پر پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دینا چاہتا ہے، لیکن ماسکو اسلام آباد کو بھارت کے برابر اہمیت دینے کی پوزیشن میں نہیں پاکستان اور روس کے درمیان ماضی کی دشمنی کم ضرور ہوئی ہے، مگر دونوں ملکوں کے موجودہ علاقائی مفادات اب بھی کئی مقامات پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس لیے روس پاکستان کے لیے ایک ممکنہ اہم شراکت دار تو بن سکتا ہے، لیکن فوری طور پر کوئی بڑا اسٹریٹجک اتحادی بن جائے، اس کی توقع حقیقت پسندانہ نہیں ہوگی





