مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کے پاس ڈیموکریٹس کے خلاف واضح انتخابی ہدف نہیں
امریکا کے 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کو ایک غیر معمولی انتخابی مشکل کا سامنا ہے،ڈیموکریٹس کے خلاف ماضی کی طرح کوئی ایک ایسا نمایاں سیاسی چہرہ موجود نہیں جسے ریپبلکن امیدوار ملک بھر میں اپنی انتخابی مہم کا مرکزی ہدف بنا سکیںPOLITICO کی جانب سے حالیہ مہینوں میں بیٹل گراؤنڈ ریاستوں کے سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے مقابلوں میں چلنے والے سیکڑوں سیاسی اشتہارات کے جائزے کے مطابق ریپبلکنز نے ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند رہنماؤں، خصوصاً زوہرن ممدانی، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور برنی سینڈرز، کو بڑے پیمانے پر اپنے انتخابی اشتہارات کا مرکزی موضوع نہیں بنایا
ان تمام ناموں کے مقابلے میں سابق صدر جو بائیڈن اب بھی ریپبلکن انتخابی اشتہارات میں زیادہ نمایاں ہیں،درجنوں انتخابی حلقوں میں ریپبلکن امیدواروں کے اشتہارات میں بائیڈن کا نام سامنے آ رہا ہے، خاص طور پر مہنگائی اور دیگر معاشی مشکلات کے حوالے سے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر ملک میں بلند قیمتوں اور دیگر مسائل کی ذمہ داری بائیڈن انتظامیہ پر عائد کرتے رہے ہیں،تاہم انتخابی سیاست میں بائیڈن اب پہلے کی طرح مؤثر ہدف دکھائی نہیں دیتے،سابق صدر وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد زیادہ تر سیاسی منظرنامے سے دور رہے ہیں اور ان کی عوامی سرگرمیاں بھی محدود رہی ہیں
اس کے برعکس 2024 کے مڈٹرم سے قبل صدارتی انتخابی مرحلے میں بائیڈن ریپبلکن اشتہارات میں کہیں زیادہ نمایاں تھے،AdImpact کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 کی اسی مدت تک ریپبلکن ایوان اور سینیٹ کے اشتہارات میں بائیڈن کا ذکر 1,000 سے زیادہ مرتبہ ہو چکا تھا
ریپبلکنز نے اس سال ’’ڈیموکریٹک سوشلزم‘‘ اور ’’ریڈیکل لیفٹ‘‘ کے خلاف بھی مہم چلانے کی کوشش کی ہے،ممدانی، اوکاسیو کورٹیز اور سینڈرز جیسے نام اس تناظر میں بار بار زیر بحث آئے، لیکن POLITICO کے اشتہارات کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخصیات ابھی تک قومی سطح پر ریپبلکنز کے لیے ایسا انتخابی ہتھیار نہیں بن سکیں جیسا ماضی میں بعض ڈیموکریٹک رہنما بن گئے تھے
یہ صورت حال ریپبلکنز کے لیے اس لیے اہم ہے کہ مڈٹرم انتخابات میں مخالف جماعت کے خلاف ایک واضح اور آسانی سے پہچانے جانے والے سیاسی ہدف کا انتخابی اشتہارات میں استعمال اکثر امیدواروں کو اپنی مہم کا پیغام مختصر اور مؤثر رکھنے میں مدد دیتا ہے
2026 میں صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے،ریپبلکنز ایک طرف بائیڈن کو مہنگائی اور دیگر مسائل سے جوڑ رہے ہیں، دوسری طرف ڈیموکریٹک پارٹی کے ابھرتے ہوئے بائیں بازو کے چہروں کو ’’ریڈیکل‘‘ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کسی ایک شخصیت کو قومی سطح پر ایسا مرکزی انتخابی ہدف نہیں بنایا جا سکا جس کے گرد پورا ریپبلکن انتخابی بیانیہ منظم ہوPOLITICO کے مطابق اشتہارات کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کے لیے ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے خلاف کس شخصیت یا سیاسی تصور کو ایسا مرکزی انتخابی ہدف بنائیں جو مختلف ریاستوں اور حلقوں میں یکساں طور پر مؤثر ثابت ہو سکے





