کونسے چئرے کی ساخت رکھنے والے مردوں کو لوگ بچوں کا بہتر محافظ سمجھتے ہیں؟ نئی تحقیق
نئی نفسیاتی تحقیق کے مطابق مردوں کے چہرے کی ساخت اس بارے میں لوگوں کے فوری تاثر پر اثر انداز ہو سکتی ہے کہ وہ بچوں کے لیے کس حد تک اچھے محافظ یا نگہداشت کرنے والے ثابت ہوں گے۔
جرنل Evolutionary Psychological Science میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نسبتاً چوڑے چہرے والے مردوں کو لوگوں نے بچوں کا محافظ بننے کے لیے زیادہ موزوں سمجھا، جبکہ بچوں کی پرورش اور نگہداشت کے معاملے میں چوڑے اور نسبتاً لمبے چہرے والے مردوں کے درمیان واضح فرق نہیں دیکھا گیا
تحقیق میں چہرے کی چوڑائی اور لمبائی کے تناسب، یعنی facial width-to-height ratio، کا جائزہ لیا گیا۔ اس پیمانے میں چہرے کی ایک رخ سے دوسرے رخ تک چوڑائی کا موازنہ پیشانی اور اوپری ہونٹ کے درمیان عمودی فاصلے سے کیا جاتا ہے،سابقہ تحقیقات میں بھی مردوں کے نسبتاً چوڑے چہروں کو طاقت اور جارحیت کے تاثر سے جوڑا جا چکا ہے
یونیورسٹی آف آرکنساس کے ماہر نفسیات مچ براؤن اور ان کی ٹیم نے 4 تجربات کیے،ایک تجربے میں شرکا سے کہا گیا کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے ایک فرضی ٹیم کے ارکان منتخب کریں،شرکا نے نسبتاً چوڑے چہروں والے مردوں کو لمبے چہروں والے مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ منتخب کیا،تاہم جب یہی انتخاب بچوں کی نگہداشت اور پرورش کے لیے کرنا تھا تو دونوں گروپوں کے درمیان فرق تقریباً ختم ہوگیا
محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چہرے کی ظاہری خصوصیات لوگوں کے ذہن میں مرد کی طاقت اور تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت سے متعلق فوری تاثر پیدا کر سکتی ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ تاثر اس شخص کی حقیقی شخصیت یا والد بننے کی صلاحیت کی درست عکاسی کرے
تحقیق میں اس پہلو کا بھی جائزہ لیا گیا کہ چوڑے چہرے والے مردوں کے بارے میں بننے والا یہ تاثر ان کے ذاتی اور سماجی تعلقات پر کیسے اثر انداز ہو سکتا ہے،محققین نے اسے ایک طرح سے ’’دو دھاری تاثر‘‘ قرار دیا، کیونکہ جس چہرے کو لوگ طاقت اور تحفظ کی علامت سمجھ سکتے ہیں، وہی خصوصیت بعض حالات میں جارحیت جیسے تصورات سے بھی منسلک ہو سکتی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق بنیادی طور پر لوگوں کے تاثر کا مطالعہ ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ چہرے کی چوڑائی کسی مرد کو حقیقتاً بہتر محافظ، بہتر والد یا زیادہ طاقتور انسان بنا دیتی ہے





