اسرائیل میں انتخابی معرکہ آخری مرحلے میں، نیتن یاہو کی حکومت خطرے میں مگر مخالف اتحاد بھی اکثریت سے دور
اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات سے چند ہفتے پہلے ملک سیاسی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے، یروشلم کی سڑکوں پر مذہبی یہودیوں، سیکولر شہریوں، آبادکاروں، فلسطینی شہریوں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان سیاسی ترجیحات نمایاں طور پر مختلف دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران میں تقریباً تین سال تک جاری رہنے والی جنگ نے اسرائیلی سیاست کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے
تازہ جائزوں میں وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی سربراہی میں موجود حکومتی اتحاد مسلسل 61 نشستوں کی اس حد سے نیچے دکھائی دے رہا ہے جو 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے ضروری ہے،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے مخالف سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ آسانی سے حکومت بنا سکتے ہیں،آئزن کوٹ کی یشار پارٹی کئی جائزوں میں بڑی جماعت کے طور پر سامنے آ رہی ہے، لیکن وہ اسرائیلی عرب شہریوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کے ساتھ اتحاد نہ بنانے کا مؤقف رکھتے ہیں، جس سے حکومت سازی کا راستہ پیچیدہ ہو جاتا ہے
27 ستمبر تک دستیاب مختلف جائزوں کے اوسط میں آئزن کوٹ کی یشار تقریباً 22 سے 23 نشستوں اور نیتن یاہو کی لیکود تقریباً 22 نشستوں کے آس پاس دکھائی دے رہی تھی،لیکن نیتن یاہو کے موجودہ اتحادی جماعتوں کا مجموعہ تقریباً 50 نشستوں تک رہتا ہے، یعنی 61 کی اکثریت سے خاصا کم
یہی اسرائیلی انتخاب کا بنیادی پیچیدہ پہلو ہے،سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ لازماً وزیراعظم نہیں بنتا،صدر مختلف جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس رکن کو حکومت بنانے کا موقع دیتے ہیں جو 61 ارکان کی حمایت حاصل کرنے کا امکان رکھتا ہو،اس لیے آئزن کوٹ کی جماعت کا پہلے نمبر پر آنا اور حکومت بنا لینا دو الگ معاملات ہیں
عرب جماعتیں اس حساب کتاب میں خاص اہمیت رکھتی ہیں،حالیہ جائزوں میں عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر تقریباً 12 نشستوں کے آس پاس دکھایا گیا ہے،تاہم اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے عرب جماعتوں رعام اور جوائنٹ لسٹ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے پر سپریم کورٹ میں چیلنج زیر سماعت ہے،عدالت کو 4 اکتوبر تک اس معاملے پر فیصلہ کرنا ہے
اس دوران اسرائیلی معاشرے میں نیتن یاہو کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان بنیادی اختلافات بھی برقرار ہیں،حکومت کے حامی نیتن یاہو کے دور میں اسرائیل کی فوجی طاقت اور ایران سمیت علاقائی مخالفین کے خلاف کارروائیوں کو اہم قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین جنگ کے طویل ہونے، اقتصادی دباؤ، اداروں پر اعتماد میں کمی اور حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق عوامی اعتماد میں کمی اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتیں بھی انتخابی ماحول کو متاثر کر رہی ہیں
الٹرا آرتھوڈوکس یہودی برادری کے اندر بھی تقسیم نمایاں ہے، خصوصاً فوجی بھرتی سے استثنیٰ کے معاملے پر،نوجوان حریدی یہودیوں میں اس پالیسی کے خلاف اختلافات سامنے آئے ہیں، جبکہ فوج میں لازمی خدمات کا مسئلہ اسرائیلی سیاست کے بڑے تنازعات میں شامل ہو چکا ہے
اسرائیلی معاشرے کی ایک دوسری بڑی تقسیم فلسطینی شہریوں کے حوالے سے ہے،عرب جماعتوں کے ممکنہ کردار اور ان کے ساتھ مستقبل میں سیاسی تعاون کا سوال نیتن یاہو مخالف اتحاد کے لیے انتہائی اہم ہے، لیکن آئزن کوٹ کا عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد سے انکار حکومت سازی کے امکانات کو محدود کرتا ہے
نیتن یاہو کے لیے بھی صورتحال سیدھی نہیں،موجودہ پولنگ میں ان کی لیکود پارٹی اور آئزن کوٹ کی یشار کے درمیان مقابلہ بہت قریب ہے، لیکن نیتن یاہو کے موجودہ اتحادیوں کی مجموعی نشستیں کئی جائزوں میں اکثریت سے کم رہتی ہیں،بعض جائزوں میں دائیں بازو کے دھڑے کو زیادہ نشستیں ملتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولنگ میں خاصا فرق موجود ہے اور چھوٹی جماعتوں کا انتخابی حد عبور کرنا یا ناکام رہنا پورے اتحاد کے حساب کو تبدیل کر سکتا ہے
انتخابی نظام میں 3.25 فیصد ووٹ حاصل کرنا کسی جماعت کے کنیسٹ میں داخلے کے لیے بنیادی حد ہے،اس حد کے آس پاس موجود چھوٹی جماعتوں کے چند ہزار یا چند لاکھ ووٹ بھی اس بات پر اثر ڈال سکتے ہیں کہ تقریباً چار نشستیں کس سیاسی دھڑے کے حصے میں جائیں،یہی وجہ ہے کہ موجودہ پولنگ میں کسی ایک جماعت کی مقبولیت سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ انتخابات کے بعد کون سی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ حکومت بنانے پر آمادہ ہوتی ہیں
اس وقت دستیاب اعداد و شمار میں کسی ایک فریق کے لیے واضح پارلیمانی اکثریت کا راستہ موجود نہیں،ایک حالیہ اوسط میں یشار تقریباً 22.4، لیکود 21.8 اور نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کی مجموعی نشستیں تقریباً 49.9 بنتی ہیں،دوسرے پولنگ مجموعوں میں اعداد مختلف ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ انتخابی منظرنامہ ابھی بھی تیزی سے بدل سکتا ہے
اس لیے 27 اکتوبر کا انتخاب محض نیتن یاہو اور آئزن کوٹ کے درمیان مقابلہ نہیں ہوگا بلکہ اصل فیصلہ 120 رکنی کنیسٹ میں 61 ارکان کی حمایت جمع کرنے کا ہوگا،انتخابات میں کون سی جماعت سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی ہے اور اس کے بعد کون سا اتحاد حکومت بناتا ہے، یہ دونوں الگ مرحلے ہوں گے،فی الحال پولنگ اسرائیل میں ایک واضح فاتح کے بجائے شدید سیاسی مقابلے اور ممکنہ مخلوط حکومت کی تصویر پیش کر رہی ہے،





