ایل نینو کا بڑا خطرہ، اقوام متحدہ کی 202 ملین ڈالر امداد کی اپیل پر صرف 40 ملین ڈالر مل سکے
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور ایل نینو موسمی نظام دنیا کے کئی غریب اور پہلے ہی غذائی بحران کا شکار ممالک کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے، مگر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مطلوبہ مالی امداد فراہم نہیں کی جا رہی اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک اور زراعت اور عالمی ادارہ خوراک نے 22 انتہائی خطرے سے دوچار ممالک میں تقریباً 90 لاکھ افراد کی مدد کے لیے 202 ملین ڈالر کی اپیل کی تھی، لیکن اب تک صرف تقریباً 40 ملین ڈالر موصول ہوئے ہیں
غذائی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارہ خوراک اور زراعت کے عہدیدار رین پالسن کے مطابق مطلوبہ رقم کا صرف تقریباً 1 پانچواں حصہ حاصل ہوا ہے ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی انتباہات موجود ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ خشک سالی اور سیلاب کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں، لیکن مالی وسائل کی کمی ان اقدامات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے
ایل نینو ایک قدرتی موسمی عمل ہے جس میں بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے کا سمندری پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے اس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں میں بارشوں، درجہ حرارت اور موسم کے معمولات کو تبدیل کر سکتے ہیں موجودہ ایل نینو اکتوبر سے دسمبر کے درمیان اپنی شدت کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کی توقع ہے اور موجودہ اندازوں کے مطابق یہ ریکارڈ پر آنے والے طاقتور ترین ایل نینو میں شامل ہو سکتا ہے
اس موسمی نظام کے نتیجے میں بعض علاقوں میں شدید خشک سالی جبکہ دوسرے علاقوں میں تباہ کن بارشیں اور سیلاب آنے کا خدشہ ہے سب سے زیادہ خطرہ ان ممالک کو ہے جہاں پہلے ہی خوراک کی شدید کمی، غربت، تنازعات اور نقل مکانی جیسے مسائل موجود ہیں۔ 22 زیادہ خطرے والے ممالک میں نصف سے زیادہ افریقہ میں ہیں، جبکہ دیگر ایشیا بحرالکاہل، لاطینی امریکا اور کیریبین کے خطوں میں واقع ہیں
صومالیہ کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک بتائی جا رہی ہے اقوام متحدہ کے مطابق وہاں لاکھوں افراد شدید بھوک کا سامنا کر رہے ہیں اور ایل نینو کے اثرات بڑھنے کے ساتھ بچوں میں غذائی قلت مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ ناروے کی پناہ گزین کونسل کے مطابق اگست میں صومالیہ میں تقریباً 60 لاکھ افراد غذائی بحران کی سطح کی بھوک کا سامنا کر رہے تھے جبکہ رواں سال 7 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے، جن میں تقریباً 5 لاکھ افراد خشک سالی کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے
خطرے کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ سائنسی تخمینوں کے مطابق موجودہ ایل نینو کے باعث فروری تک دنیا بھر میں گرمی سے ہونے والی اضافی اموات کی تعداد 4 لاکھ 51 ہزار تک پہنچ سکتی ہے ماہرین کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں اس کا اثر زیادہ شدید ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں شدید گرمی سے نمٹنے کے وسائل محدود ہیں
عالمی ادارہ خوراک اور زراعت کے مطابق ابھی پیشگی اقدامات کے ذریعے نقصانات کم کرنے کا موقع موجود ہے، کیونکہ خشک سالی یا سیلاب آنے سے پہلے خوراک، پانی اور دیگر ضروری امداد فراہم کرنا بعد میں بڑے پیمانے پر انسانی امدادی کارروائی کرنے کے مقابلے میں کم مہنگا اور زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے تاہم مطلوبہ فنڈز نہ ملنے کی صورت میں پہلے سے غذائی بحران کا شکار لاکھوں افراد کے لیے آنے والے مہینے مزید مشکل ہو سکتے ہیں





