تقریباً 4 میں سے 3 امریکی تھکن کا شکار، خواتین اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر

تقریباً 4 میں سے 3 امریکی تھکن کا شکار، خواتین اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر

امریکا میں تھکن ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (CDC) کی نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں 71.5 فیصد امریکی بالغوں نے کم از کم بعض دنوں میں تھکن محسوس کرنے کی اطلاع دی، جبکہ 16.6 فیصد افراد نے کہا کہ وہ زیادہ تر یا ہر روز شدید تھکن یا نڈھال پن کا شکار رہتے ہیں
CDC کی یہ رپورٹ تقریباً 27,000 بالغ امریکیوں کے سالانہ سروے پر مبنی ہے،اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بار بار ہونے والی شدید تھکن نوجوان بالغوں اور خواتین میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ عام ہے
رپورٹ میں تھکن اور ذہنی صحت کے درمیان بھی نمایاں تعلق سامنے آیا،بار بار شدید تھکن کی شکایت کرنے والے افراد میں ڈپریشن کی علامات کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں 3 گنا سے زیادہ جبکہ اضطراب اور یادداشت یا توجہ سے متعلق مشکلات کا امکان تقریباً دو گنا پایا گیا
رپورٹ کے مطابق مسلسل تھکن کا تعلق کام کرنے کی صلاحیت میں کمی اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں دشواری سے بھی ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب نیند کے باوجود تھکن برقرار رہے یا روزمرہ ذمہ داریاں متاثر ہونے لگیں تو اسے محض عمر یا مصروف زندگی کا معمول سمجھنے کے بجائے طبی توجہ حاصل کرنی چاہیے

قومی خبریں سے مزید