سندھ میں پیپلز پارٹی کی طویل سیاسی بالادستی، شناخت کی سیاست سے سرکاری وسائل اور میرٹ کے بحران تک

سندھ میں پیپلز پارٹی کی طویل سیاسی بالادستی، شناخت کی سیاست سے سرکاری وسائل اور میرٹ کے بحران تک

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طویل سیاسی بالادستی کو صرف بھٹو خاندان کی سیاسی میراث یا سندھ کی قومیتی اور صوبائی شناخت سے جوڑنا اس پوری تصویر کا صرف ایک حصہ ہے۔ 2008 سے پیپلز پارٹی مسلسل سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور 2026 کا بجٹ اس کا صوبے میں 28 واں بجٹ تھا۔ اس طویل اقتدار نے پارٹی کو ایک مضبوط انتخابی تنظیم، مقامی بااثر خاندانوں کے وسیع نیٹ ورک اور صوبائی حکومت کے انتظامی ڈھانچے تک مسلسل رسائی فراہم کی ہے حالیہ تجزیوں میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اتنے طویل اقتدار کے باوجود سندھ میں تعلیم، صحت، بنیادی سہولتوں اور ترقی کے کئی اہم اشاریے توقعات کے مطابق بہتر کیوں نہیں ہو سکے
پیپلز پارٹی کی سندھ میں طاقت کا بنیادی سیاسی ستون سندھ کی شناخت اور صوبائی حقوق کا بیانیہ بھی ہے پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے سندھ کے سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کو اپنی سیاست کا اہم حصہ بنایا اور بعد میں بھی وفاق کے مقابلے میں صوبائی خودمختاری کا مؤقف اختیار کیا یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے بہت سے ووٹر حکومت کی کارکردگی سے اختلاف کے باوجود اسے سندھ کے سیاسی مفادات کی محافظ سمجھتے ہیں حالیہ سیاسی تجزیوں کے مطابق سندھ کے بیشتر ڈویژنوں میں پیپلز پارٹی کئی انتخابات سے مسلسل ایک مضبوط انتخابی قوت رہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں مخالف جماعتیں مستقل صوبائی سطح کا متبادل قائم نہیں کر سکیں
لیکن اس سیاسی حمایت کے ساتھ ایک دوسرا پہلو بھی موجود ہے جسے سندھ کی سیاست سمجھنے کے لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا پیپلز پارٹی کے ناقدین طویل عرصے سے الزام لگاتے رہے ہیں کہ صوبائی حکومت کے زیر انتظام سرکاری ملازمتیں، ترقیاتی منصوبے، ٹھیکے اور دیگر ریاستی وسائل سیاسی سرپرستی کے نظام کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اگرچہ ہر الزام کو عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں کہا جا سکتا، لیکن سرکاری بھرتیوں اور اداروں کے طریقہ کار پر عدالتوں اور خود سرکاری اداروں کی کارروائیوں نے میرٹ اور شفافیت کے بارے میں سنجیدہ سوالات ضرور پیدا کیے ہیں
جون 2026 میں سندھ ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمتوں کے نظام سے متعلق ایک مقدمے میں ریمارکس دیے کہ سرکاری آسامیوں کو طویل عرصے تک خالی رکھنا، غیر شفاف انتظامی طریقہ کار اور غیر رسمی تقرریاں اقربا پروری اور پسند ناپسند کے لیے راستہ کھول سکتی ہیں عدالت نے واضح کیا کہ اس طرح کے طریقے میرٹ اور شفافیت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور سرکاری عہدے عوامی اعتماد کی امانت کے بجائے سیاسی سرپرستی کا ذریعہ بننے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں
سندھ پبلک سروس کمیشن کا حالیہ تنازع بھی اسی وسیع مسئلے کی ایک مثال ہے۔ 2024 کے مشترکہ مسابقتی امتحان کے نتائج میں صرف 70 امیدوار کامیاب قرار دیے گئے جس کے بعد متعدد امیدواروں نے نتائج میں بے ضابطگی، پسندیدہ امیدواروں کو فائدہ پہنچانے اور سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات عائد کیے۔ سندھ ہائی کورٹ نے مئی 2026 میں نتائج کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کارروائی آگے بڑھائی اور نتائج کو عارضی طور پر معطل کیا بعد میں وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے بعض عبوری احکامات معطل کر دیے، جبکہ سندھ پبلک سروس کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے امتحانی نظام کو شفاف اور میرٹ پر مبنی قرار دیا اس لیے اس معاملے میں الزامات کو حتمی ثابت شدہ کرپشن کہنا درست نہیں ہوگا، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری بھرتیوں کے نظام پر عوامی اعتماد کا بحران موجود ہے
سرکاری ملازمتیں سندھ کی سیاست میں اس لیے بھی اہم ہیں کہ صوبے کے غریب اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے لیے سرکاری روزگار اب بھی معاشی تحفظ کا ایک بڑا ذریعہ ہے جب کسی علاقے میں یہ تاثر پیدا ہو کہ نوکری میرٹ کے بجائے سیاسی سفارش، مقامی بااثر شخصیت یا حکومتی تعلق سے مل سکتی ہے تو سرکاری ملازمت ایک شہری حق کے بجائے سیاسی سرپرستی بن جاتی ہے یہی وہ صورتحال ہے جس پر سندھ میں مختلف سیاسی اور سماجی حلقے برسوں سے اعتراض کرتے آئے ہیں 2026 میں سندھ ہائی کورٹ کے ریمارکس نے بھی اسی خطرے کی نشاندہی کی کہ اقربا پروری اور پسند ناپسند ریاستی اداروں کی ساکھ اور عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتی ہے
کرپشن اور سرکاری وسائل کے استعمال کے حوالے سے بھی متعدد معاملات سامنے آتے رہے ہیں مارچ 2026 میں سندھ حکومت نے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے سابق انتظامی فیصلوں سے متعلق تقریباً 20 ارب روپے کے منصوبوں کی تحقیقات کا حکم دیا زیرِتحقیق معاملات میں 3 ارب روپے کے ای بائیک منصوبے، کارکنوں کے لیے مختص 6 ارب روپے کے فنڈز، رہائشی منصوبوں اور تقریباً 5 ارب روپے کے ایک مبینہ ٹینڈر اسکینڈل سے متعلق الزامات شامل تھے رپورٹ کے مطابق حکام نے مبینہ طور پر ٹینڈرز کو محدود طریقے سے مشتہر کرنے، مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے اور مزدوروں کے لیے مختص فلیٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ جیسے معاملات کی بھی نشاندہی کی یہ تمام معاملات تحقیقات کے دائرے میں تھے، اس لیے انہیں حتمی ثابت شدہ کرپشن قرار نہیں دیا جا سکتا
اسی طرح مئی 2026 میں نیشنل احتساب بیورو نے سکھر بلڈنگز ڈویژن میں مبینہ بڑے پیمانے کی مالی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی اضافی عہدوں سے متعلق انکوائری شروع کی شکایت میں سرکاری منصوبوں کے لیے مبینہ طور پر دوبارہ ادائیگیوں اور جعلی یا مشتبہ ٹھیکوں کے ذریعے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات شامل تھے چونکہ معاملہ انکوائری کی سطح پر تھا، اس لیے اس کے الزامات کو حتمی جرم قرار دینا درست نہیں ہوگا، لیکن یہ مثال سندھ کے سرکاری ترقیاتی نظام میں نگرانی اور احتساب کے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے
کراچی کے بلدیاتی نظام میں بھی مالی نگرانی کا سوال سامنے آیا مئی 2026 میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سندھ اسمبلی کے رکن اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نثار احمد کھوڑو نے کراچی کے تمام 246 یونین کمیٹیوں کا 3 سالہ خصوصی مالی آڈٹ کرانے کا حکم دیا اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ صوبائی حکومت ہر یونین کمیٹی کو ماہانہ 12 لاکھ روپے آکٹرائے ضلع ٹیکس کی مد میں فراہم کر رہی تھی، مگر ان رقوم کے استعمال کے بارے میں مکمل شفافیت موجود نہیں تھی آڈٹ میں اخراجات، ملازمین اور پنشن کے ریکارڈ سمیت دیگر مالی معاملات کی جانچ شامل کی گئی
ترقیاتی بجٹ بھی پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی پر ہونے والی تنقید کا ایک اہم حصہ ہے۔ 2026 کے سندھ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات میں تقریباً 30 فیصد کمی جبکہ موجودہ اخراجات میں 20 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا اس کے نتیجے میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ جب صوبے کو تعلیم، صحت، پانی، سڑکوں اور شہری سہولتوں کے بڑے مسائل درپیش ہیں تو محدود وسائل کا بڑا حصہ موجودہ انتظامی اخراجات میں کیوں جا رہا ہے سندھ کے خواندگی اور اسکول داخلے کے اعداد و شمار بھی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مقابلے میں کم دکھائی دیتے ہیں
پیپلز پارٹی پر تنقید صرف بدعنوانی کے الزامات تک محدود نہیں بلکہ سندھ کی سیاست میں بااثر جاگیردار خاندانوں اور مقامی سیاسی شخصیات کے کردار پر بھی ہوتی ہے دیہی سندھ میں انتخابات اکثر ایسے مقامی خاندانوں اور شخصیات کے اثر سے متاثر ہوتے ہیں جو کئی نسلوں سے اپنے علاقوں میں سیاسی، معاشی اور سماجی اثر رکھتے ہیں صوبائی حکومت اور ان بااثر خاندانوں کے درمیان سیاسی تعاون کے نتیجے میں ایک ایسا انتخابی ڈھانچہ قائم رہتا ہے جس میں پارٹی کو مقامی سطح پر مضبوط امیدوار، ووٹ بینک اور انتظامی اثر و رسوخ حاصل رہتا ہے
یہاں سندھ کے غریب طبقے کی سیاست کا ایک پیچیدہ پہلو بھی سامنے آتا ہے ایک غریب خاندان کے لیے سرکاری ملازمت، ترقیاتی اسکیم، سرکاری امداد یا کسی مقامی منصوبے تک رسائی فوری معاشی فائدہ رکھتی ہے اگر یہ سہولت کسی سیاسی تعلق کے ذریعے ملے تو مستحق شہری کے لیے وہ سیاسی حمایت کے بدلے حاصل ہونے والا فائدہ بن سکتی ہے اس طرح سرکاری وسائل اور سیاسی وفاداری ایک دوسرے سے جڑ سکتے ہیں یہی سرپرستی کا نظام طویل عرصے تک ایک ہی سیاسی جماعت کی مقامی گرفت مضبوط رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، اگرچہ ہر سرکاری ملازمت یا امداد کو سیاسی رشوت قرار دینا بھی درست نہیں
سندھ میں لسانی اور قومیتی سیاست بھی اس پورے معاملے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے کراچی میں پیپلز پارٹی کو ایک ایسے صوبائی سیاسی نظام کی نمائندہ جماعت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کے مقابلے میں اردو بولنے والی آبادی کی بڑی سیاسی جماعتیں طویل عرصے سے الگ سیاسی شناخت رکھتی رہی ہیں بعض ناقدین پیپلز پارٹی کو سندھ کی قومیتی سیاست سے جوڑتے ہیں، جبکہ پارٹی کا مؤقف ہے کہ وہ پورے سندھ کی نمائندہ سیاسی قوت ہے اور کراچی سمیت صوبے کے تمام شہریوں کے حقوق کی ذمہ دار ہے کراچی کے سیاسی مستقبل پر موجود حالیہ بحث بھی ظاہر کرتی ہے کہ صوبائی شناخت، شہری مسائل اور لسانی سیاست آج بھی ایک دوسرے سے گہری طرح جڑے ہوئے ہیں
اس کے باوجود پیپلز پارٹی کی سندھ میں مسلسل کامیابی کو صرف دھاندلی، کرپشن یا سرکاری وسائل کے استعمال سے سمجھنا بھی مکمل وضاحت نہیں ہوگی پارٹی کے پاس ایک مضبوط تاریخی شناخت، بھٹو خاندان کی سیاسی میراث، منظم انتخابی ڈھانچہ اور سندھ کے صوبائی حقوق سے جڑا ہوا ایک دیرینہ سیاسی بیانیہ موجود ہے دوسری طرف اس کی مخالف جماعتیں کئی بار انتخابی اتحاد تو بنانے میں کامیاب ہوئیں لیکن مستقل صوبائی سطح کی تنظیم، مشترکہ سیاسی پروگرام اور دیہی سندھ میں پیپلز پارٹی کے مقابلے کا مضبوط نیٹ ورک قائم نہیں کر سکیں
اصل سوال اس لیے صرف یہ نہیں کہ پیپلز پارٹی سندھ میں اتنے طویل عرصے سے اقتدار میں کیوں ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اتنے طویل اقتدار کے باوجود صوبے میں میرٹ، سرکاری بھرتیوں، ترقیاتی فنڈز، تعلیم، صحت، شہری سہولتوں اور مالی شفافیت کے مسائل بار بار کیوں سامنے آتے ہیں عدالتوں میں بھرتیوں سے متعلق مقدمات، سرکاری اداروں میں مالی تحقیقات، اربوں روپے کے منصوبوں کی انکوائریاں اور ترقیاتی بجٹ میں کمی جیسے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سندھ میں حکمرانی اور احتساب کا مسئلہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر مسلسل توجہ کا تقاضا کرتا ہے
یوں سندھ میں پیپلز پارٹی کی طویل سیاسی بالادستی کے پیچھے کئی عوامل بیک وقت کام کرتے دکھائی دیتے ہیں: بھٹو خاندان کی تاریخی سیاسی میراث، سندھ کی شناخت اور صوبائی حقوق کا بیانیہ، دیہی علاقوں کے بااثر سیاسی خاندانوں سے تعلق، طویل عرصے تک صوبائی حکومت میں رہنے سے پیدا ہونے والا انتظامی اور سیاسی نیٹ ورک، مخالف جماعتوں کی تنظیمی کمزوری، اور سرکاری وسائل و اداروں کے بارے میں مسلسل اٹھنے والے سیاسی و قانونی سوالات ان میں سے بعض عوامل سیاسی حمایت کی جائز وجوہات ہیں جبکہ بعض معاملات الزامات، تحقیقات یا عدالتی کارروائیوں کی سطح پر ہیں سندھ کی سیاست کو سمجھنے کے لیے ان تمام پہلوؤں کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے

قومی خبریں سے مزید